ساڑھے پانچ لاکھ افغان مہاجرین کو بلوچستان سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے اجراء کی مذمت کرتے ہیں۔بی این پی

BNP 1کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں ملا منصور اخترسمیت ساڑھے پانچ لاکھ افغان مہاجرین کو بلوچستان سے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا اجراء کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر شناختی کارڈز کی تصدیق کا عمل شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے نادرا کے افسران ‘ اسسٹنٹ کمشنرز ‘سرکاری افسران کی گرفتاریوں نے بی این پی کے موقف پر مہر و ثبت ہے ہمارے پارٹی کا شروع سے موقف بھی رہا ہے کہ بلوچستان میں 1979ء کے بعد جتنے بھی شناختی کارڈز بنے ان کی باریک بینی کے ساتھ تصدیق کرائی جائے 1979ء کے بعد جاری شناختی کارڈز کی تصدیق ہونا ضروری ہے ملا منصور اختر کو شناختی کارڈ جاری کئے جانے کے بعد یہ حقیقت ہے کہ افغان مہاجرین کو لاکھوں کی تعداد میں شناختی کارڈز جاری کئے گئے ہیں بہت سی پارٹیاں اپنی سیاسی مفادات کی خاطر بلواسطہ یا بلاواسطہ ان کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں بلوچستان حکومت کی مشینری کو بھی استعمال میں لا رہے ہیں بی این پی ایک ترقی پسند ‘ روشن خیال سیاسی قوت ہے ہم تنگ نظری کی بنیاد پر کبھی بھی سیاست کے قائل نہیں رہے ہیں یہ ہمارا موقف ہے کہ مہاجر چاہے کسی بھی قوم ‘ زبان ‘ نسل سے تعلق رکھتا ہو اسے ملکی و بین الاقوامی قوانین کے تحت اختیار نہیں کہ ملکی شہریت حاصل کرے جنرل ضیاء الحق کے دور سے انہیں بڑی تعداد میں بلوچستان میں آباد کیا گیا وہ ہماری معیشت پر بھی قابض ہوئے کاروبار ‘ زمینوں کی خرید وفروخت ‘ غیر قانونی طریقے سے ان کی آباد کاری جاری ہے یہاں تک کہ 2013ء کے جعلی انتخابات میں ہزاروں کی تعداد میں جعلی شناختی کارڈز جاری کئے جا رہے ہیں اب بہت سی دستاویزات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق جعلی لاکھوں شناختی کارڈز بنائے گئے ہیں اب بلاتفریق ‘ رنگ و نسل بلوچستان میں شناختی کارڈز کے تصدیق کے مراحل کو مکمل کیا جائے اور بلوچستان میں بہت سی پارٹیاں افغان مہاجرین کی حمایت کر رہے ہیں وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ناانصافیوں کے مرتکب بن رہے ہیں یہ سراسر ناانصافی ہے کہ مقامی بلوچ پشتون آباد کار کے حقوق پر یہ قابض ہو جائیں کلاشنکوف ‘ منشیات ‘ فرقہ واریت کے رجحانات انہی کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بڑھ رہے ہیں اب جبکہ حکمرانوں نے بہت دیر کر دی ہے اب بھی انہیں چاہئے کہ وہ فوری طور پر شناختی کارڈز کی تصدیق کا عمل شروع کریں اور جلد از جلد مکمل کریں کیونکہ بلوچستان میں لاکھوں خاندانوں کے فہرستوں میں افغان مہاجرین کے نام شامل کر رکھے ہیں ان کو خارج کیا جائے اب بھی اگر تصدیق کے مراحل کو سیاسی بنیادوں پر منسوخ کیا گیا اس سے بڑا ظلم عوام پر کچھ نہیں ہو گا غیر ملکی شناختی کاڑدز حاصل کرتے رہے ہیں جس سے دنیا بھر میں جگ رسائی ہوگی بی این پی کا موقف واضح ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے بلوچستان کے تمام پارٹیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مرکزی و دیگر صوبائی حکومتوں کی طرح بلوچستان میں بھی پالیسی مرتب کریں ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close