شوقِ لیڈری جب حد سے بڑھ جائے. تحریر ! میر بگٹی

شوقِ لیڈری جب حد سے بڑھ جائے .
کوئٹہ /مضمون (ریپبلکن نیوز) یوں تو ہر انسان کے زندگی میں لاتعداد خواہشات کے ساتھ ساتھ شوقِ لیڈری کو بھوسہ بھی بھرا ہوا ہوتا ہے.
مگر ہر خواہش و شوق کا اپنا مقدار اور لیمٹ ہوتا ہے۔
اگر اپنی اپنی مقدار اور بساط کے مطابق ہر ایک چیز بھری جائے یا بھری ہوئی ہو تو
اس میں نقصان اور ضعیان کی کوئی گنجائش نہیں ہوتا۔
مگر انسان کے اندر موجود بے شمار خواہشات کے ساتھ موجود ( شوق لیڈری جب حد سے بڑھ جائے ؟ )
تو کیا ہوتا ہے؟
تو انسان وہ سب حدیں پار کر جاتا ہے۔ جو عزت و احترام پیار و محبت اتحاد و اتفاق اخلاقیات و خلوص جذبہ قوم و وطن بلکہ انسانیت کے دائرے حدود میں آتے ہیں۔
کسی بھی ماحول کسی بھی ادارے خاندان یا کسی سیاسی و غیر سیاسی پارٹی جنگی و غیر جنگی تنظیم میں شامل کسی بھی نفر کے اندر موجود ( شوق لیڈری جب حد سے بڑھ جائے ؟ ) تو اس انسان کو ماسوائے اپنے لیڈری کے اور کوئی بھی
اونچ و نیچ
ذات و پات
عزت و احترام
پیار و محبت
اور خاص کر قوم و وطن کی نگ و ناموس کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔
بدقسمتی سے بلوچ قومی تحریک آزادی کے اندر ایسے لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی اور ابھی تک بھی شامل ہیں۔
اور خدا جانے ایسے لوگ کب تک شامل رہیں گے۔
ایک خاص بات اور بھی آپ محترم قارئین صاحبان کے گوشگزار کرتا چلوں۔
بلوچ قومی تحریک آزادی کے ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی لیڈری اور اقتدار کے شوقیا لوگ ہی ہیں۔
یہ میری اپنی ذاتی رائے ہے آپ صاحبان اس بارے میں تحقیق کرلیں۔ تو اچھا ہے۔
ذرا ایک مختصر سا جائزہ پیش خدمت ہے۔
میں کسی اور بلوچ سیاسی و غیر سیاسی یا پھر کسی دوسرے تنظیم یا ادارے کے بارے میں تو کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔
مگر اپنے بلوچ قومی تحریک آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے بلوچ تنظیموں کے اندر موجود لیڈری اور اقتدار کے کچھ پوجاریوں کا مثال پیش کر سکتا ہوں۔
آج کل سوشل میڈیا فیس بک ٹوئٹر وغیرہ کا دور دورہ ہے۔ آپ نے اچھی طرح دیکھا ہوگا۔
کہ انہی لوگ نے گذشتہ دو تین سال سے لیکر تاحال بلوچ قومی تحریک آزادی کے مسلح جدوجہد کرنے والی بلوچ تنظیموں کو اندرونی و بیرونی طور پر کتنے ناقابل تلافی نقصانات پہنچائے اور پہنچا رہے ہیں۔
ایک بلوچ مسلح تنظیم کو دو دھڑوں میں تقسیم کروانا۔ پھر اسی باقی ماندہ دوسرے دھڑے کو توڑ کر اپنے شوق لیڈری کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے خود کو ایک ٹکڑے کا ہائی کمان منوانا۔
پھر انہی اقتدار کے حواری دھڑوں کے آشیرباد سے انتشاری اتحاد کے نام سے مہم کے ذریعے دوسری بلوچ قومی تحریک آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والی بلوچ قومی تنظیموں کے کارکنان اور ان کے اندر ٹوٹ پھوٹ پیدا کرنے کی ناکام کوششیں کرنا۔
اور اپنے تعلیم یافتہ انتشاری طبقے کے ذریعے سوشل میڈیا پر دنیا کو یہ دلیل دینا کہ بلوچ قبائل کے لوگ آزادی کے قابل نہیں۔
جب ان لوگوں کے وجود و ذہین کے اندر موجود شوق لیڈری جب حد سے زیادہ اور بھڑکنے اور جوشیں مارنے لگا۔
تو ان لوگوں نے سوشل میڈیا پر بلوچ سرزمین کی آزادی کے لیے صدیوں سے جدوجہد کرنے اور بلوچ قومی نگ و ناموس کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے والے آزادی پسند بلوچ قومی نواب و سرداروں کو قومی آزادی کی جدوجہد سے بے دخل کرنے کی دھمکی تک دے ڈالی۔
آپ مانیں یا نا مانیں مگر بات سچ ہے۔
کہ جس انسان کے اندر ( شوق لیڈری جب حد سے بڑھ جائے ؟ ) تو وہ آدمی ہر قسم کی حد پار کر جاتا ہے۔
اس بات کا اندازہ آپ میرے اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔
لیڈری کے یہی حواری جو خود کو بلوچ اور آزادی پسند بھی کہتے ہیں۔
مگر آج کل انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بنائے ہوئے ویب سائٹوں پر اپنے ایم اے پاس بندوں کے ذریعے بلوچ قومی شہداء پر نا جانیں کس کس طرح کی غلیظ بیان بازیاں کروا رہے ہیں۔
گذشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک آزادی پسند بلوچ قومی لیڈر کے ایک ٹوئٹ پر انہی صاحبان نے بلوچ قومی عزت و احترام اور اخلاق کی تمام حدیں پار کر دی۔
خاص کر ڈاکٹر صاحب کے ان خاص کارکنان ایم اے پاس صاحب اور شادی شدہ جوڑے یعنی ( میاں بیوی ) کے شریر میں موجود شوق لیڈری کا جن بلکل ہی باہر نکل آیا۔
اور پھر سر چھڑ کر یہ بولنے لگا۔ کہ
1″ بلوچ قوم صرف ہمارا ہے۔
2″ بلوچ تحریک آزادی صرف ہماری ہے۔
3″ بلوچ سرزمین پر ہمارے سوائے کسی بھی دوسرے بلوچ کا حق نہیں۔
4″ ہم نے ہی صرف آزادی کے لیے جدوجہد کیا اور کر رہے ہیں۔
5″ ہم ہی صرف بلوچ قوم کے لیڈر ہیں۔
6″ ہم نے ہی صرف بلوچ قوم کی آزادی کے لیے شادی کیا۔
اب تو شاید آپ قارئین صاحبان میرے اس بات سے متفق ہو ہی گئے ہونگے۔ کہ زندگی میں جس انسان میں جہاں کہیں اور جس پلیٹ فارم پر ( شوق لیڈری جب حد سے بڑھ جائے ؟ ) تو کیا ہوتا !

تحریر ! میر بگٹی

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون اور لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker