سوئی سے صادق آباد جانے والی گیس پائپ تباہ، پاکستان کی معشت کو زبردست دھچکہ

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز)  پنجاب کے شہر صادق آباد کے قریب  بھونگ کے علاقے میں رات گئے بلوچ مزاحمت کاروں نے 36 انچ قطرکی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے تباہ کردیا۔

  دھماکے کے بعد سوئی گیس فیلڈ سے پنجاب کے مخلتف شہروں قادر پور، صادق آباد اور ملتان کو گیس کی سپلائی معطل اور پنجاب کی تمام صنعتوں، کھاد کارخانوں اور پاور سیکٹر کو گیس کی سپلائی مکمل بند کردی گئی۔

 پنجاب کے کئی علاقوں میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی  بھی معطل ہوگئی۔ پائپ لائن تباہ ہونے سے پنجاب بھر کے صنعتی صارفین کو گیس کی فراہمی بند ہوگئی ، وہاں کے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے تو وہی شہروں میں کاروبار و صنعتیں بھی مکمل طور پر بند ہوچکی ہیں۔ جبکہ متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع کردیا گیا۔

پائپ لائن میں آگ لگنے سے قریبی گنے کی فصل اور باغات کو شدید نقصان پہنچا۔ بڑی گیس پائپ لائن میں دھماکے کے بعد گیس اتنی شدت سے پھیل گئی کہ آگ لگنے سے گنے کے کھیت اور باغات بھی جل گئے۔آگ پر فائر بریگیڈ کی 4 گاڑیوں نے سات گھنٹے بعد بمشکل سے قابو پالیا۔ ترجمان سوئی نادرن کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب 2 بج کر 40 منٹ پر یہ واقعہ پیش آیا۔سوئی گیس نادرن لیمٹڈ کمپنی انتظامیہ کے محمد شعیب کے مطابق 2002 سے ابتک گیس پائپ لائنز کو 40 سے 50 بار دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا گیا ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ بھی گیس پائپ لائنز کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی گئی لیکن اسے سرکاری فورسزنے بروقت ناکام بنایا تھا۔

دوسری جانب بلوچستان میں آزادی کی جنگ میں متحرک مسلح تنطیم بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے میڈیا کے دفاتر فون کے کر گیس پائپ لائن اڑانے کی زمہ داری قبول کر لی ہے۔  ترجمان نے کہا ہے مذکورہ گیس لائن کو گزشتہ سال دسمبر میں بھی تباہ کرنے کی کوشش کیا تھا مگر وہ ناکام ہوا۔

واضح رہے کہ جہاں گیس پائپ لائن کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا وہی قریب ہی ایشیاء کی سب سے بڑی گیس ٹرمینل بھی گزرتا ہے۔

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں چار گیس فیلڈ اس وقت کام کررہے مگر وہاں کے لوگوں کے کے پاس نہ تو گھریلوں استعمال کیلئے گیس میئسر ہے اور زندگی کی تمام بنیادی سہولتوں سے وہاں کے لوگ کے لوگ محروم ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں میں شدید محرمی پائی جاتی ہے۔

بلوچستان سے پنجاب جانے والے گیس پائپ لائنوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور تمام واقعات کی زمہ داری بلوچ ریپبلکن آرمی قبول کرتی رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں