پاکستان کے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ بلوچستان کی بریفنگ جھوٹ پر مبنی ہے۔ بی ایچ آر او

کوئٹہ ( ریپبلکن نیوز ) بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے گذشتہ روز ہونے والے پاکستان کے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ بلوچستان کے بریفنگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے بلوچستان میں لاپتہ افراد جیسے سنگین مسئلے سے انکاری ہوتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد 136ہیں جو کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کے حوالے سے ریاست کے سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے ۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہیں جس کا اعتراف خود حکومتی ذمہدار ان کرچکے ہیں ، اگست 2016ء میں بلوچستا ن کے موجودہ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 13,575افراد کو بلوچستان سے گرفتارکیا گیا ، دسمبر 2015ء میں سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے اعتراف کیا کہ اس سال 9,000سے زائد مشکوک افراد کو گرفتار کیا ، 2004میں اس وقت کے وزیرداخلہ آفتاب شیر پاؤ نے 4000بلوچوں کو گرفتار کرنے کا اعتراف کیا ۔ترجمان نے کہا کہ یہ تعداد خود سرکاری سطح پر شائع کیے گئے لیکن موجوہ ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے سینیٹ کے قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے کام کرنے والے انسانی حقوق کے تنظیموں کو
فریب میں رکھنے کیلئے حقائق کو انتائی بُری طرح سے مسخ کیا ۔ ترجمان نے اجلاس میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کی اس موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمینٹ اور سپریم کورٹ دونوں لاپتہ افراد کے معاملے پر مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں ریاستی سیکورٹی فورسز ریاست کے تمام اعلیٰ اداروں سے زیادہ طاقتور ہیں جبکہ فرحت اللہ بابر کی ناکام لاپتہ افراد کمیشن کو ختم کرکے اس کی جگہ نئے کمیشن بنانے کے تجاویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ لاپتہ افراد کمیشن مکمل طور پر سیکورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کی  ترجمان بن چکا ہے اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو دانستہ طور پر پیچیدہ
بنایا جارہا ہے۔
علاوہ ازیں بلوچستان کے اضلاع مشکے ، پنجگور ، واشک، خاران، خضدار اور تربت میں سیکورٹی فورسز کے فوجی آپریشن اور درجنوں لوگوں کے ماروائے عدالت گرفتاریوں اور قتل کے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتے سے مشکے میں سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں ، مقامی ذرائع سے موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق مشکے کے علاقے گجلی میں فضائی و زمینی فورسز کے کاروائیوں سے عورتوں اور بچوں سمیت دس لوگ قتل ہوئے جبکہ متاثرہ علاقے
مکمل فوجی محاصرے میں ہونے کی وجہ سے لاشوں کے شناخت کے بارے میں مشکلات پیش آرہے ہیں ۔ہماری تنظیم کے مقامی نمائندوں کے مطابق ضلع مشکے، واشک اور پنجگور کے مختلف علاقوں میں فضائی بمباریاں ہنوز وقفے وقفے سے جاری
ہیں جس سے مزید لوگوں کے جانی نقصانات کے خدشات ہیں جبکہ ان اضلاعوں میں دوران آپریشن خواتین ، بچے و بزرگوں سمیت 60کے قریب لوگوں کو گرفتار کر کے فوجی کیمپ منتقل کیا جن کوتاحال بازیاب نہیں کیا گیا ۔ جبکہ گذشتہ روز
ضلع تربت کے تحصیل تمپ کے علاقے کوہاڈ میں فورسز نے سرچ آپریشن کرکے حمید ولد بہرام ، صادق ولد معیار، واجی ولد شاہ مراد عظیم ولد حیاتان سکنہ کوہاڈ سمیت معتدد لوگوں کو گرفتار کیا اور ضلع خضدار سے بی ایس سی کے
طالب علم ارشد نوتانی کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بازار جاتے ہوئے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا جو تاحال لاپتہ ہے واضح رہے کہ ضلع خضدار سے رواں ماہ 15طلباء کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مختلف کاروائیوں میں گرفتار کرکے لاپتہ کردیئے جن میں سے بیشتر کو تشدد و تفشیش کے بعد رہا کردیا لیکن پانچ طالب علم تاحال لاپتہ ہیں ۔ جبکہ گذشتہ رات ضلع خاران
میں سیکورٹی فورسز نے ایک گھر میں چھاپہ مار کرعبدلغنی ولد حاجی محمد امین اور زید احمد ولد شہباز خان کوگرفتار کرکے لاپتہ کردیئے ۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے لوگوں کے ماروائے عدالت گرفتاریوں ، قتل اور فوجی آپریشن میں کمی لانے کے بجائے کاروائیوں میں شدت لارہے ہیں جس سے بلوچستان بھر میں ایک غیر یقینی صورتحال قائم ہے عام لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ترجمان نے بلوچستان اور وفاقی سویلین حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے سنگین پامالیوں پر سویلین و عسکری اداروں میں اشتراک قائم ہے ۔ عسکری ادارے براہرست انسانی حقوق کے سنگین پامالیوں میں ملوث ہیں۔ جبکہ سویلین ادارے عسکری اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے حقائق کو مسخ
کرتے ہیں۔ریاستی اداروں کے اس رویے سے بلوچستان کے صورتحال میں بہتری کے
بجائے مزید شدت پیدا ہوتا جائے گا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close