بی ایس او آزاد کی کوہٹہ دھماکے پر افسوس کا اظہار 

ئٹہ (ریپبلکن نیوز )بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ضائع ہونے والے انسانی جانوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی پرورش کردہ انسان کش گروہ مذہب کے نام پر معاشرے کے چنیدہ افراد کا قتل عام کررہے ہیں۔فورسز قتل عام اور نسل کشی کے الزامات سے بچنے کے لئے اپنے پراکسی گروہوں کو سہولت فراہم کرکے انہی کے ذریعے اس طرح کے نسل کشی کی کاروائیاں سرانجام دے رہی ہیں۔ بلوچ انسر جنسی کو کاؤنٹر کرنے کی پاکستانی پالیسیاں نہ صرف بلوچ قوم کے لئے بلکہ بلوچستان میں رہنے والے پشتونوں اور ہزارہ برادری کے لئے بھی انتہائی تباہ کن ثابت ہورہے ہیں۔ کوئٹہ شہر میں ہزاروں کی حساب سے تعینات پولیس، آرمی اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی موجودگی کے باوجوداس طرح کے واقعات کا رونما ہونا اس بات کی نشاندہی کررہی ہے کہ ریاستی فورسز مذہبی شدت پسندی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اپنی پالیسی کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دنیا کے مہذب ممالک باالخصوص امریکہ کو یہ حقیقت تسلیم کرکے اپنا امداد روکناہوگا کہ پاکستان ضرب عضب کے نام پر طالبان و دیگر گروہوں کے خلاف آپریشن نہیں کررہی ہے بلکہ اسی کی آڑ میں اپنے پراکسی گروہوں کو از سر نو منظم کررہی ہے۔ اگر دنیا نے پاکستان کی اس دوغلی رویے کا نوٹس نہیں لیا تو یہ عالمی امن کے لئے کی جانے والی عالمی کوششوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہوگی ۔ ترجمان نے کہا کہ مذہب کے نام پر لوگوں کو قتل عام کی تربیت دے کر ریاست بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہمسایہ ممالک کی حکومتوں کو بھی انہی کے ذریعے کمزور کرنے کی اپنی کوششوں میں شدت لاسکتی ہے جس کے نتائج مزیدہزاروں انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔بی ایس او آزاد نے کہا کہ خطے کے امن اور مذہبی شدت پسندی کو پھیلانے سے روکنے کے لئے دنیا کو بلوچ تحریک آزادی کی جانب متوجہ ہونا ہوگا، کیوں کہ آزاد بلوچ ریاست علاقائی امن کی ضامن بن سکتی ہے. 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close