آئی ایس آئی اور آرمی کے لیے کام کرنے والے بلوچوں کو قوم ضرور سزا دیگی۔براہمدغ بگٹی

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے قائد اور قومی رہنماء نواب براہمدغ بگٹی نے سوشل میڈیا میں اپنا ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے بلوچوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔یاد رہے کہ براہمدغ بگٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں سے رابطہ قائم کرنا اور انکے سوالات کے جوابات دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے جہاں وہ ویڈیو پیغام کے ذریعے ان سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ ریپبلکن نیوز سوشل میڈیامیں جاری براہمدغ بگٹی کے ویڈیو پیغام کو تحریری شکل میں آپکی خدمت میں پیش کر رہی ہے۔

نواب براہمدغ بگٹی سے کسی نے سوال کیا کہ "آپ کیوں شہید نواب اکبر بگٹی کی شہادت کو زیادہ اجاگر کرتے ہیں اور باقی بلوچوں کی شہادت کو اجاگر نہیں کرتے؟”۔

براہمدغ بگٹی نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ” میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے معلومات میں اضافہ کریں۔ جتنے بھی بلوچوں نے اس تحریک کی خاطر قربانی دی ہیں و شہید ہوئے اور جو لاپتہ کیے جاچکے ہیں۔ بی آر پی ہر فورم پر اور ہر سطح پر اس کو اجاگرکررہی ہے اور بلوچستان یا بیرون ملک ہر سطح پر ہم ان کی قربانیوں کو قوم اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے لارہے ہیں اور تفصیل کے ساتھ انکی قربانیوں اور بلوچستان میں جاری مظالم کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ میں اس بات کی تردید کرتا ہوں اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم ایسا نہیں کررہے ہیں۔ جہاں تک شہید نواب اکبر بگٹی کا تعلق ہے۔ وہ ہمارے رہبر و رہنما تھے اور قوم کیلئے ایک روشنی کی مانند تھے لہذا ہماری کوشش ہوتی ہے کہ انکی قربانی کو ہر فورم پر زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں جو ہمارا فرض ہے۔ دنیا میں ہر جگہ قومی رہنماوں نے قربانیاں دی ہیں۔ میں ایک مثال دیتا ہوں کہ بولیوا میں چلنے والی تحریک کے دوران کتنے لوگ مارے گئے لیکن انکی جہد پر اتنا اثر نہیں پڑا اور تحریک اس وقت ختم ہوئی جب چی گویرا مارا گیا لہذا لیڈر اور ایک کارکن کے درمیان ایک قدرتی فرق ہے۔ اگر کوئی کسی ملک کے ایک سپاہی کو ماردے یا اس ملک کے لیڈر کو قتل کردے تو کیا اس کا ردعمل ایک جیسا ہوگا؟ بالکل ردعمل ایک جیسا نہیں ہوگا کیونکہ لیڈر کی قومی حیثیت ہوتی ہے جسے قوم اپنا نمائندہ منتخب کرتی ہے لہذا ایک کارکن کے شہید ہونے سے تحریک کو اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا کہ ایک رہنما ء کے شہید ہونے سے پہنچتا ہے۔ میرے خیال میں ایک بدنصیب انسان ہی ہوگا جو سوچے گا کہ کیوں میرے لیڈر کی اتنی تعریف ہوتی ہے یا کیوں اس کی قربانی کو اتنا اجاگر کیا جاتا ہے یا جو سوچے کہ ایسا نہ ہو۔ بلوچ قوم شہید نواب اکبر بگٹی کی جہد اور قربانی سے اچھی طرح واقف ہے اور ہر بلوچ پیر و ورنا اپنے پہنچ کے مطابق ان کی جدوجہد اور شہادت کو اجاگر کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انہوں نے یہ جدوجہد اور یہ قربانی ہمارے لیے دی ہے اور ہمارے آنے والی نسلوں کیلئے دی ہے۔ لہذا ہم پر فرض ہے کہ ہم ان کی جدوجہد کو زیادہ سے زیادہ ہائی لائٹ کریں اور اس کے ساتھ جتنے بھی بلوچ جہدکاروں نے قربانی دی ہے یا لاپتہ ہوئے ہیں اور جیلوں میں صحوبتیں برداشت کررہے ہیں ہم انکو بھی ہر سطح پر اجاگر کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اگر کوئی لیڈر قربانی دیتا ہے تو اس سے ہرگز کارکنان کی جہد اور قربانی کم نہیں ہو گی لیکن جہد میں ہر کسی کا مقام اور کردار اپنا ہوتا ہے”۔

براہمدغ بگٹی کے کسی نے سوال کیا کہ ” بلوچ بلوچ کو کیوں مار رہے ہیں اور اسی طرح بلوچ بلوچوں کو مارتے رہے تو کس طرح تحریک آگے چل سکے گی”؟

بی آرپی کے قائد براہمدغ بگٹی نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "پہلے تو ہمیں اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ بلوچ بلوچ کو کیوں مار رہے ہیں اور ہم کون سے بلوچوں کی بات کررہے ہیں؟ بہت سے آپسی جھگڑے ہوتے ہیں اور بہت سے قبائلی تصادم ہوتے ہیں جن کے بارے میں میں بات نہیں کروں گا کیوں کہ انکی مختلف وجوہات ہیں اور جہاں تک بلوچ تحریک آزادی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر اپنے بھائیوں کو شہید کرکے ان کا خون بہا رہے ہیں۔ بلوچوں کے قتل، اغواہ، تشدد و تشدد، بلوچوں کے گھروں پر حملہ کرنے اور بلوچ خواتین اور بچوں کو در بدر کرنے میں ملوث ہیں۔ کیا وہ بلوچ ہیں؟ میرے خیال میں یہ لوگ بلوچ کہلانے کے حقدار نہیں ہیں۔ لہذا اگر ایسے لوگوں کا قلع قمع کیا جاتا ہے تو ایسا کہنا غلط ہوگا کہ بلوچ بلوچوں کو ماررہے ہیں بلکہ ایسا کرنے سے بلوچ ایک لحاظ سے اپنے اندر موجود ایک بیماری کا علاج کررہے ہیں کیونکہ ایسے عناصر نے بلوچیت اس وقت ترک کردی تھی جب انہوں نے پاکستانی آئی ایس آئی کا ساتھ دیکر اپنے بلوچ بھائیوں کو مارنا شروع کیا”۔

براہمدغ بگٹی سے ڈیرہ غازی خان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والوں افراد نے سوال کیا کہ” بلوچ نوجوان کس طرح بلوچ قومی تحریک میں فعال کردار ادا کرسکتے ہیں اور خاص کر ڈیرہ غازی خان اور پنجاب میں بسنے والے بلوچ کس طرح بلوچ تحریک کے حوالے سے متحرک ہوسکتے ہیں”؟

براہمدغ بگٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ "میں آپ کو اور تمام بلوچ مرد و عورت، بزرگ و جوانوں سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بلوچستان کے حالات کا جائزہ لیں کیونکہ بلوچستان ایک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ہر دن ہمارے بلوچ بھائی اور بہنوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینکی جارہی ہیں اور روزانہ کی بنیادوں پر بلوچ نوجوانوں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں بلوچ تحریک میں آپ کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت بلوچ قومی جہد کو آپ سب کی شمولیت کی ضرورت ہے۔ اس تحریک کی کامیابی بلوچستان میں یا سندھ اور پنجاب سمیت ہر جگہ پر بسنے والے بلوچ کیلئے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ یہ ہماری قومی بقا اور شناخت کا سوال ہے کیونکہ اگر آج ہم اس تحریک میں شمولیت اختیار کرکے اپنا کردار ادا نہیں کرتے تو آنے والے وقتوں میں اس سرزمیں پر بلوچ کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ دنیا میں جہاں بھی جن قوموں نے اپنے حقوق اور اپنے سرزمین کیلئے آواز بلند نہیں کیا وہ قومیں وہاں سے مٹ چکی ہیں اور آج وہاں دوسری قومیں آباد ہیں لہذا میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ بلوچ قومی جہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر ہم میں کوئی کمزوری ہے تو آئیں ہمارا ساتھ دیں ہم مل کر اس کمزوری کو دور کریں گے اور آج جو کام ہم سے نہیں ہو پارہا یا آج آپ اس راستے کو کھٹن سمجھتے ہیں تو آپ کے آنے سے وہ مشکلات بھی آسان ہوجائیں گے اور ہم جلد اپنے منزل کو پہنچ پائیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بہت مشکل کام ہے اور یہ بوجھ ہمارے کندھوں کی طاقت سے کئی زیادہ ہے لیکن اسے اٹھانے کیلئے کوئی اور نہیں آئے گا اور یہ بوجھ ہر حال میں ہمیں ہی اٹھانا پڑے گا لہذا میں تمام بلوچ پیر و ورنا اور مرد و عورت سے اپیل کرتا ہوں کہ آئیں اور بلوچ تحریک میں شمولیت اختیار کرکے اپنا کردار ادا کریں۔ ہمیں دنیا کے سامنے یہ ثابت کرناہوگا کہ بلوچ بھی ایک قوم ہے۔ بلوچ جہدکاروں اور بلوچ شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج ہر کوئی بلوچ تحریک کے بارے میں جانکاری رکھتا ہے لیکن ابھی تحریک کو منزل تک پہنچنے تک بہت سفر درکار ہے اور اس کو آپ سب کی شمولیت اور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر کوئی اپنے پہنچ کے مطابق اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اور اگر کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہتا تو اس کیلئے بہانے بھی ہر کوئی ڈھونڈ سکتا ہے لہذا بہانے مت ڈھونڈیں اور جس سے جتنا کردار ادا ہوسکتا ہے اپنا کردار ادا کریں اور فردی اعتبار سے، مالی اعتبار سے، سیاسی حوالے سے اور علمی اعتبار سے تحریک میں اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ یہ آپ کی مائیں، بہنیں اور بھائی ہیں جو ہر دن شہید کرکے پھینکے جارہے ہیں۔ میں آپ سے بارہا اپیل کرتا ہوں کہ آئیں ہمارے ہاتھ مضبوط کریں۔ بلوچستان میرایا چند بلوچ رہنماوں کی ملکیت نہیں ہے، یہ پورے بلوچ قوم کی ملکیت ہے اور ہمارے آنے والی نسلوں کا مستقبل اس سرزمین سے اور اس قومی تحریک سے وابستہ ہے۔ ہم میں بھی غلطیاں اور کمزوریاں ہونگی اسی لیے آئیں ساتھ ملکر ان کمزوریوں کو دور کریں تاکہ ہم جلد اپنی منزل کو پہنچ سکیں”۔

براہمدغ بگٹی نے آئی ایس آئی اور آرمی کے معاون کار بلوچوں کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ” میں ان بلوچوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں جو پاکستانی آئی ایس آئی اور آرمی کے معاون کار بنے ہوئے ہیں اور ان کی بلوچ نسل کش منصوبوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں کہ آپ ذاتی مفادات کی خاطر اور معمولی لالچوں کیلئے استعمال ہو رہے ہو اور بلوچ قومی جہد کو نقصان پہنچارہے ہو۔ پنجابی بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ اگر آپ اپنے بلوچ بھائیوں اور اپنے قوم سے وفادار اور ایماندار نہیں ہوسکتے تو آپ ان سے بھی وفاداری نہیں کریں گے لہذا وہ صرف آپ کواستعمال کررہا ہے تاکہ آپ اپنے ہی لوگوں کے خلاف لڑ کر اپنے بھائیوں کو شہید کریں اور وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ لیویز میں بلوچوں کو کیوں بھرتی کیا جارہا ہے؟ لیویز میں اس لئے بھرتیاں کی جارہی ہیں تا کہ آپ کو لالچ دیکر اس میں شامل کریں اور آپ کے ہاتھوں میں بندوق تھمادیں تاکہ آپ جاکر اپنے بلوچ بھائی بہنوں کو شہید کریں اور ان کی گھروں میں داخل ہوکر حیا و شرم کے تمام حدودیں پلانگ کر ان سے دست و گریباں ہوں۔ لہذا آپ ان چیزوں کو سمجھیں۔ ماضی کی مثالیں موجود ہیں۔ جب بھی بگٹی، مری، ڈومکی، رئیسانی، رند یا جتنے بھی بلوچ قبائل کے آپس میں جھگڑے یا تصادم ہوئے ہیں ان میں ہر وقت آئی ایس آئی نے اپنا حد سے زیادہ کردار ادا کرنے کی کوشش کی کہ بلوچوں کو آپس میں لڑتے رہنے دیں تاکہ وہ ان حالات کا فائدہ اٹھا سکیں۔ میں آپ سب پر واضح کرتا ہوں کہ ان چیزوں سے دور رہیں، اگر آپ بلوچ قومی تحریک میں ایک مثبت کردار ادا نہیں کرسکتے تو کم از کم اس کو نقصان نہ پہنچائیں۔ بلوچستان جس طرح ہمارا ہے اس طرح آپ کا بھی ہے۔ جس طرح آپ کا دل چاہے اس میں رہیں اور کوئی بھی اپنا کاروبار کریں لیکن آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے ان منصوبوں کا حصہ نا بنیں جن کے تحت بلوچ نسل کشی کی جارہی ہے اور ہر روز بلوچوں کو اغواہ کرکے انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکے جارہے ہیں۔ اگر آپ آگے بھی ان پالیسوں کا حصہ بنے رہے اور اپنی قوم و سرزمین کے خلاف سرگرم عمل رہے تو بلوچ قوم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور قوم آپ کو اس کی سزا بھی آج نہیں تو کل ضرور دیگی”۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close