بلوچستان میں آئی ایس آئی کی نظریاتی جہادیوں کی سرگرمیاں تیز (بیورورپورٹ)

بیورورپورٹ (ریپبلکن نیوز)کشمیر میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی نظریاتی جہادیوں کی سرگرمیوں میں کزشتہ کئی مہینوں سے تیزی دیکھی گئی ہے۔پاکستانی ریاست، اسکی فوج اور خفیہ ادارے کشمیر میں جہادیوں کو مدد فرائم کرنے کا بھی اعتراف کر چکے ہیں۔پاکستان کے سابقہ صدر اور آرمی چیف ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے اپنے انٹریو میں متعدد بار اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی فوج اور پاکستانی خفیہ ادارے کشمیر میں انڈین آرمی کے خلاف جنگ میں مصروف مذہبی شدت پسند جہادی تنظیموں کو پاکستان میں جنگی ٹریننگ اور مالی مدد فرائم کرتے رہے ہیں۔پرویز مشرف سمیت پاکستان کے متعدد فوجی اور سیاسی رہنماء کشمیر میں جاری جہادی تنظیموں کو اپناہیرو قرار دے چکے ہیں۔دوسری جانب یہی کشمیری جہادی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آرمی کے خلاف جنگ لڑھ رہے ہیں اور متعدد بھارتی آرمی کے اہلکار وں کو قتل کر چکے ہیں۔
پاکستانی فوج کے مظالم پر خاموش پاکستانی میڈیا بھی کشمیر کے مسئلے پر کافی دلچسپی دکھاتی ہے۔پاکستانی پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا اور نام نہاد صحافی و دانشور کشمیر کے مسئلے پرخون کے آنسوں روتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ بلوچستان میں جاری ریاستی درندگی اور بلوچ قوم کے خلاف جاری فوجی آپریشن پرپاکستانی نام نہاد صحافی اور دانشور مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں یا بلوچستان کے حالات کا ذمہ دار انڈیا کو ٹہراتے ہوئے ریاست سے وفاداری نبھاتے ہیں۔
بلوچستان میں آئی ایس آئی کی مذہبی تنظیمیں گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچ قوم کے خلاف جاری جنگ میں ریاست کی معاونت کار بنے ہوئے ہیں جنہیں ریاستی خفیہ اداروں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔بلوچستان میں مذہبی شدت پسند تنظیموں کے باقاعدہ دفاتر قائم کیے گئے ہیں جہاں سے لوگوں کی کو بھرتی کیا جا تاہے۔بلوچستان کے شہر تربت میں میں جماعت الداوعہ کی دفاتر موجود ہیں جو ایک مذہبی شدت پسند تنظیم ہے۔جماعت الداوعہ بلوچستان میں بلوچ آزادی پسند جماعتوں کے خلاف کافی سرگرم ہے جبکہ انکے لوگوں کو باقاعدہ فوجی کیمپوں میں تربیت بھی دی جاتی ہے تاکہ جہاد کے نام پر بلوچ آزادی کی تحریک کو کاؤنٹرکیا جاسکے۔اسی طرح بلوچستان میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ جہادیوں کا سرغنہ شفیق مینگل جسے پاکستانی ریاستی خفیہ اداروں اور فوج کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے نے 169کے قریب بلوچ آزادی پسند پُرامن سیاسی کارکنوں کو اغواء بعد شہید کر کے اجتماعی قبروں میں دفن دیا تھا۔ یہ تعداد اس سے کافی زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بلوچستان میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اغواء کیا گیا ہے جو تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ تعداد صرف تین اجتماعی قبروں سے دریافت ہوئی تھی ،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں اجتماعی قبریں موجود ہیں ۔شفیق مینگل کا جماعت الداعہ ، حافظ سعید اور باقی جہادی تنظیموں سے قریبی تعلقات ہیں ۔شفیق مینگل کے زیرِ اثر علاقوں میں خضدار اور وڈھ کے مختلف علاقے شامل ہیں۔جبکہ وڈھ اور زہری میں شفیق مینگل کی جانب سے قائم کردہ جہادی ٹریننگ کیمپ اب تک موجود ہے جہاں سے لوگوں کی ذہن سازی اور ٹریننگ کا عمل پورا کیا جاتا ہے۔جبکہ انہی کیمپوں میں آزادی پسند سیاسی کارکنوں پر تشدد کر کے انہیں شہید کر کے اجتماعی قبروں میں دفنایا جاتاہے۔ریپبلکن نیوز کے نمائندے کے مطابق گزشتہ کچھ مہینوں سے زہری اور وڈھ میں قائم یہ جہادی کیمپیں کافی فعال نظر آتی ہیں۔جہادیوں کی ان تمام سرگرمیوں میں انہیں پاکستانی خفیہ اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ریپبلکن نیوز کے نمائندے نے ہمیں بتایا کہ پاکستانی فوجی افسران باقاعدہ ان جہادی کیمپوں کو دورہ بھی کرتے ہیں۔اور بلوچستان کے علاقوں وڈھ اور زہری میں قائم ان کیمپوں سے جہادیوں کو تیار کر کے کشمیر جنگ میں بھی بھیجا جاتا ہے جس کا مقصد بلوچ قومی تحریک کو رخ موڈنا ہے اور بین القوامی سطح پر بلوچوں کو مذہبی ظاہر کرکے بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک کوبدنام کر کے اسے کاؤنٹر کر نا ہے۔باوصوق ذرائع کے مطابق گوادر، تربت، پنجگور اور خاران میں اہلِ حدیث کے مدرسوں میں باقاعدہ کشمیر جہاد کے نام پر چندہ مہم کا بھی آغاز کیا جا چکا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close