گلزار دوست کے نام کھلا خط!

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) جناب گلزار دوست، آج ایک دوست نے مجھے پیغا بھیجا کہ آپ بحیثیت آزاد امیدوار نام نہاد پاکستانی انتخابات میں حصہ لے رہے ہو۔ پاکستانی انتخابات کو میں اس لیے نام نہاد کہتا ہوں کیونکہ پاکستان میں جمہوری اور شفاف انتخابات وجود نہیں رکھتے، پاکستانی عسکری ادارے جسے چاہے حکومت سونپ دیتے ہیں۔

گلزار صاحب اس بات میں مجھے کوئی حرانگی نہیں کہ آپ اس نام نہاد انتخابات میں حصہ لے رہے ہو لیکن حرانگی اس بات کی ہے کہ نیشنل پارٹی نے آپ کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اپنی پارٹی کا ٹکٹ دے دیتا، کیا آپ کا کردار نیشنل پارٹی سے بھی بدتر ہے!

گزشتہ سال تربت میں نیشنل پارٹی کی جانب سے ایک جسلہ منعقد کیا گیا تھا جہاں ڈیتھ اسکواڈ اور قابض پاکستانی فوجی اور خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے ، اور آپ نے نیشنل پارٹی کی خوشنودی حاصل کرنے کےلیے اپنا گلاپھاڑ کر بلوچ آزادی پسند جہد کاروں کے خلاف زہر اگلا اور نیشنل پارٹی کی تعریفیں کیں۔لیکن پھر بھی نیشنل پارٹی نے آپ کو گھاس تک نہیں ڈالا، کیا وجہ ہے کہ وہ پارٹی جو بلوچستان میں اپنی وجود کھو چکی ہے اور چند مراعات پرست اور پیٹ پرست لوگوں تک محدود ہے آپ کو اس قابل نہیں سجھتی کہ اپنی جماعت کی جانب سے آپ کو انتخابات میں امیدار کھڑا کرے؟

عابد بلوچ کے مزید مضامین:

بلوچستان میں نام نہاد انتخابات اور بلوچ تنظیموں کی بیان بازیاں

سرنڈر شدہ بلوچ مزاحمتکاروں کی جنگِ آزادی میں دوبارہ واپسی

ریاستی اداروں کے نئے حربے اور بلوچ قومی تحریک 

بقول آپ کے کہ جب آپ بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے منسلک تھے تو انہی نام نہاد سیاسی جماعتوں نے آپ کو بی آر ایس او سے حلحیدگی پر ہر طرح کے مراعات سے نوازنے کا وعدہ کیا تھا، تو آج کیوں یہ لوگ آپ پر بھروسہ کرنے سےبھی رہہ گئے ہیں؟

جناب آپ کو یاد ہوگا جب آپ بی آر ایس او کے چیئرمین تھے تب آپ کیا مقام تھا، لوگ آپ کا احترام کرتے تھے، آپ کے سرکلز میں بھیٹنے کے لیے لوگ ترستے تھے، آپ جب کسی عوامی دیوان یا محفل میں بھیٹتے تھے تو لوگ اپ کو سنتے اور پسند کرتے تھے ۔

مجھے آج بھی یاد ہے ایک دوست کی شادی میں آپ بھی موجود تھے، جہاں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے آپ کی سرکل میں بیٹھ کر آپ کو سنا، جہاں آپ نے بلوچستان میں فوجی آپریشن اور بلوچستان کی صورتحال اور بلوچ جنگِ آزادی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، اور آپ بزرگ شخص نے آپ سے کہا کہ آپ کی بھی شادی کی عمر ہوگئی ہے آپ بھی شادی کرلیں، تو آپ نے جواب دیا کہ بلوچستان حالتِ جنگ میں ہے، میرے دوست لاپتہ ہیں، بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جارہی ہیں، میرے ساتھی زاکر جان اور سنگت ثنا قابض ریاست کے عقوبت خانوں میں اذیتوں سے گزر رہے ہیں اور میری بہن زرینہ مری ریاستی فورسز کے قید میں ہے، آپ کی باتیں سن کر وہاں موجود سادہ لہولوگوں کی آنکھیں بھر آئیں، ان سادہ لوگوں کو کیا پتہ تھا کہ آپ اپنے مفادات اور وقتی مراعات حاصل کرنے کے لیے تحریک سے جھڑے ہوئے ہو۔

جناب آپ کو یاد ہوگا کہ 26 اگست 2008 کو تربت میں ایک جسلہ عام میں آپ بھی موجود تھے جہاں قابض پاکستانی دہشتگرد فوج نے جلسہ کے شرکا پر فائر کھول دیا تھا اور آپ کی آنکھوں کے سامنے الطاف جان گولی اور انہوں نے جامِ شہادت نوش کی، اور ریاستی فورسز نے اندھا دھند فائرنگ سے آپ کے پیر میں گولی لگی۔ کچھ وقت بعد آپ کے ایک مخالف فریق نے کہا تھا کہ یہ گولی گلزار کے پیر کے بجائے دل میں لگتی اور وہ وہی مر جاتا تو بہتر تھا، اور آپ کو یہ بات کسی کے ذریعے معلوم ہوگئی تھی جس پر آپ نے کہا تھا کہ کاش واقعی میں یہ گولی میرے پیر کے بجائے دل میں اُتر جاتی اور میں بھی الطاف جان کی طرح اپنی سرزمین کے لیے شہید ہوجاتا۔ جناب میں آ پ کو بتاتا چلوں کہ شہادت ہر کسی کے مقدر میں نہیں ہوتا، اور آپ جیسے مراعات پرست،لالچی اور دوہرے معیار جیسے لوگوں کے تو بالکل نہیں۔

مزید مضامین:

بلوچستان میں نام نہادعام انتخابات، ریاستی اداروں کے نئے حربےاور ہماری زمہ داریاں

مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی عام انتخابات کا ڈرامہ

منتشر بلوچ قوت کب یکجا ہوگا!

آپ نے استعفیٰ دیتے وقت اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ آپ اپنی زاتی مجبوریوں کے سبب تنظیم سے حلحیدگی اختیار کر رہے ہو، جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو تنظیم سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔اور کچھ عرصہ بعد آپ انہوں لوگوں کی صفوں میں شامل ہوگئے جو سنگت ثنااور الطاف جان سمیت متعدد بلوچ فرزندوں کو شہادت میں برائے راست ملوث تھے اور ہزاروں بلوچ فرزندوں کو لاپتہ کروانے میں معاونتکار کا کردار کرتھے رہے۔

زاکر جان جان اور زرینہ مری سمیت ہزاروں بلوچ فرزند آج بھی ریاستی عقوبت خانوں میں انسانیت سوز مظالم سے گزر رہے ہیں جن کے زبان پر صرف ایک ہی کلمہ ہے اور وہ ہے آزاد بلوچستان، آج بھی بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں بلوچ مادرِوطن کے فرزندوں کو ریاستی فورسز نے شہید کیا ہے۔

بلوچستان میں ریاستی مظالم آج بھی جاری ہیں، کچھ نہیں بدلا، بلکہ تب ریاستی مظالم شاید آج سے کم تھے، میں جانتا ہوں کہ ان باتوں کا آُ پ پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا، کیونکہ آپ بک چکے ہو، تک چکے ہو، آپ کا ضمیر مرچکا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آُپ چند مراعات کے لیے بک گئے ہواور آپ کے اور ملا برکت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایاتھا، خیر میں اس معاہدے کی تفصیلات یہاں بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔

جناب گلزار دوست، میں آپ کو بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ تاریخ کے پنوں پر نظر ڈالیں اور دیکھے کہ میر غوث بخش بزنجو تاریخ نے کہا کھڑا کردیا ہے، کئی ایسا نہ ہو کہ کل آپ کی آںے والی نسلیں آپ کے قبر پر لعنت بھیجے۔

تحریر: عابد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close