بلوچستان لبریشن فرنٹ کے داعش کارندوں کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کر لی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے داعش اور پاکستانی فوج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ 7 جولائی کو سرمچاروں نے جھاؤ کے علاقے پیلار میں فائرنگ کرکے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم داعش کے چار کارندوں آدم، فاروق، علی شیر اور سراج کو ہلاک کیا۔ جھاؤ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں مختلف مذہبی شدت پسند تنظیموں سمیت داعش بھی متحرک ہے۔ جس کا ذکر بی ایل ایف اور دوسرے بلوچ قوم پرست رہنما متعدد بار اپنے بیانات اور پیغامات کے ذریعے کرچکے ہیں۔ چونکہ انہیں یہاں پاکستان کی سرپرستی میں کھلی چھوٹ حاصل ہے تو آج تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ لیکن بی ایل ایف بلوچستان کی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو دہشت پھیلانے کی اجازت نہیں دیگی۔ یہ تنظیمیں بلوچستان میں حکومت کی سرپرستی میں بلوچ جہد آزادی کے خلاف کام کر رہے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف بر سرپیکارعالمی طاقتوں کو بلوچستان میں داعش کی موجودگی پر تشویش ہونا چاہئے کیونکہ یہاں اس خطے میں پاکستان نے پہلے ہی طالبان، حقانی گروپ ، لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی جیسے کئی تنظیمیں بنا کر خطے میں دہشت گردی کا جال پھیلایا ہوا ہے۔ہندوستان، افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں امن پاکستان کی وجود سے مشروط ہے۔ بنگلہ دیش میں دہشت گردی کا حالیہ لہر بھی پاکستانی سرپرستی میں چلنے والی شدت پسندوں سے مل رہے ہیں ۔ گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے مزید کہا کہ 5 جولائی کو تربت میں فائرنگ کرکے پرویز نامی دکاندار کو ہلاک کیا، وہ ایک اہم ریاستی مخبر تھے جسے راشد پٹھان نے لاکر یہاں آباد کیا تھااور بلوچ قوم کے خلاف کام کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ حملے کے دوران کچھ لوگوں نے اس مجرم کو بچانے اور سرمچار وں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو سرمچاروں نے انہیں سمجھایا کہ یہ شخص مجرم ہے مگر وہ باز نہیں آئے تو اپنی دفاع اور وارننگ کے طور پر انہیں زخمی کیا گیا۔ ایسے اشخاص کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچ کے دشمن و اس کے کارندوں کی حفاظت نہ کریں جنکے ہاتھ ہزاروں بلوچوں کے خون سے رنگے ہیں ۔5 جولائی کو چار بجے بلیدہ میں بٹ ایف سی کیمپ کے قریب پیدل گشت کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کرکے ایک ہلاک اور دو زخمی کئے۔ اسی دن مغرب کو بلیدہ میں آرمی کی چار گاڑیاں سور کمب کی جانب جارہی تھیں، جن پر سرمچاروں نے فائرنگ کرکے واپس جانے پر مجبور کردیا۔ چھ جولائی کو گومازی میں ملانٹ آرمی کیمپ پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close