نیشنل پارٹی کے ڈھائی سالہ دور حکومت کے حوالے سے ملک کے معتبر اخبارات میں 42ارب روپے کے کرپشن. بی این پی

BNP 1کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے نیشنل پارٹی کے ڈھائی سالہ دور حکومت کے حوالے سے ملک کے معتبر اخبارات میں 42ارب روپے کے کرپشن ‘ سیوریج اور ڈرینج سمیت دیگر منصوبوں میں خوردبرد ‘ کوئٹہ میں بڑے کمرشل پلازے تعمیر اور سینکڑوں ایکڑ اراضی پر قبضے کرنے کے انکشافات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربوں روپے کے کرپشن اور بلوچ نسل کشی کو من گھڑت بیانات دینے سے چھپایا نہیں جا سکتا کرپشن کا داغ ان کے کپڑوں پر لگ چکا ہے جسے مٹانا ممکن نہیں پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل و ان کے خاندان وڈھ میں لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کے جدی پشتی مالک ہیں ڈیفنس میں بنگلہ کوئی بڑی بات نہیں ہمیں اپنے پارٹی کے قائد پر فخر ہے جن پر آج تک ایک پائی کرپشن کا الزام نہیں لگا طوطے کی رٹ لگائے دبئی جانے آنے پر واویلا دانشمندی نہیں جو جہاں رہے یہ اس کی اپنی مرضی ہے ترجمان نے کہا کہ بی این پی کی قربانیاں سب کے سامنے عیاں ہیں انہیں بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں سردار اختر جان مینگل کو آمر حاکم مشرف نے پابند سلاسل کر کے زندان میں ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا جب موصوف اور ان کی جماعت کے لوگ اس دور میں ناظم اعلیٰ سمیت دیگر اقتدار کے دیگر عہدوں پر براجمان تھے اور اس آمر جنرل مشرف کے ریفرنڈم میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا اپنے آمر اتحادی جنرل مشرف کو ووٹ دلانے کی تگ و دو میں مصروف عمل تھے جنرل مشرف سے ان کے قریبی تعلقات سے ہر ذی شعور واقف ہے انہوں نے ایڑی چوٹھی کا زور لگا کر ریاستی مشینری کے ساتھ مل کر جنرل مشرف کو ووٹ میں اہم کردار ادا کیا ترجمان نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے پنجگور و مستونگ کے جلسوں سے قبل ہی بی این پی تاریخی بددیانتی ٹینکی لیکس کے حوالے سے پارٹی موقف کو واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام کا بجٹ جو امانت تھی اس میں خیانت کرنے والے عناصر کی سرکوبی کی جائے کیونکہ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ عوام کی اسکیمات کی رقوموں کو مادر شیر سمجھ کر ہڑپ کر لے ہم نے تنقید کرپشن کرنے والوں پر کی ہے اس پر شورمچانا اور پریشانی معنی خیز ہے اس سے یہ امر واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے کرپشن کی بہتی گنگا ڈوبکی ضرور ماری ہے ترجمان نے کہا کہ ملک کے معتبر اخبارات میں بلوچستان میں کرپشن کے حوالے سے کئی رپورٹ شائع ہو رہے ہیں جس سے بلوچستان کی جگ رسائی ہو رہی ہے جو اسلام آباد جا کر سیمینار ‘ آل پارٹیز کانفرنس اور اہل قلم و دانش کو یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ان کی حکومت نے بلوچستان میں تاریخی کام کئے ہیں دانستہ طور پر کرپشن کے بھی تمام ریکارڈز توڑ دیئے ہیں ان کے چہرے ملک کے تمام طبقہ فکر کے سامنے عیاں ہو چکے ہیں انہوں نے سیاست عوام کی خدمت کیلئے نہیں بلکہ مال کھاؤ نام بناؤ کیلئے کی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ایک سیاسی قومی جماعت ہے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل پارٹی کے اداروں کے فیصلوں کے پابند ہیں پارٹی سیاسی ادراک رکھتے ہوئے جو بھی فیصلے کرے یہ پارٹی کے اندرونی معاملات ہیں اس بات کو لے کر یہ کہنا کہ سردار صاحب کہاں رہیں اس سے کسی کو سروکار نہیں ہونا چاہئے اگر ان کے پاس بی این پی کے خلاف کوئی منطقی ایشو نہیں تو اپنی سیاسی و اخلاقی شکست کو تسلیم کرے انہوں نے اب تک کیا کارستانیاں سرانجام دیں اور کن لوگوں کے ایجنڈے پر برسرپیکار رہے بلوچ قومی مفادات کو ٹھیس پہنچایا آپریشنز میں سہولت کار کے طور پر کردار ادا کیا پارٹی سمجھ سکتی ہے کہ انہوں نے بلوچستان میں جو اقدامات اٹھائے تھے اور خام خیالی میں تھے کہ شاید غیور بلوچ عوام ان کے اقدامات سے بے خبر رہیں گے لیکن وقت و حالات نے ثابت کر دیا کہ لفاظی بڑھک بازی اور من گھڑت باتوں کی دنیا انتہائی چھوٹی ہوتی ہے آخر کب تک عوام کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے ڈھائی سالوں میں اتنے بڑے سکینڈل کے سامنے آنا اور بلوچ بے گناہ کے خون سے ہاتھ رنگے سے ان پر پریشانی کا لاحق ہونا فطری عمل ہے اب وہ اس خام خیالی میں ہیں کہ بے بنیاد بیانات داغ کر وہ عوام کی توجہ کرپشن سکینڈل سے ہٹا پائیں گے بلوچ مائیں بہنیں کئی سالوں کے اپنے پیاروں کی واپسی کی آس لگائے بیٹھے ہیں ان کو بازیاب کرانے کے دعوے تو کئے گئے لیکن عملی طور پر آج تک کوئی بازیاب نہیں ہو سکا نہ آپریشن بند ہو سکی نہ انسانی حقوق کی پامالی رک سکی آج بھی نیشنل پارٹی والے صوبائی اور مرکزی حکومت سے مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں ان کی حکمرانی آج بھی قائم ہے یہ تو اتنے بے صلاحیت لوگ تھے جب ان کے دور حکمرانوں میں ان سے پوچھا جاتا کہ بلوچ معاملے کو حل کریں اور ان کے اکابرین مختلف ٹی وی انٹرویوز میں یہ کہتے نہیں تھکتے کہ بلوچستان کے جملہ مسائل کا حل ان کے پاس نہیں انہوں نے تو حد کر دی اٹھارویں ترمیم کے تمام اختیارات صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے پاس ہونے چاہئے تھے لیکن ان کے پاس اتنی اخلاقی جرات نہیں تھی کہ وہ جامعات کے اختیارات کے حوالے سے ان سے بات کرے کیونکہ یہ ان کی ناراضگی مول نہیں سکتے تھے ترجمان نے کہا کہ حالیہ دنوں کے نیشنل پارٹی کے بیانات دیکھ کر افسوس ہی کیا جا رہا ہے کہ ان کی باتیں منطق سے دور ہیں پنگا لینے کی باتیں غیر سیاسی ہیں پارٹی سمجھی کرپشن سے پاک معاشرے کا قیام اولین ذمہ داری ہونی چاہئے جن لوگوں نے کرپشن سے پاک معاشرے کے دعوے کئے انہوں نے ہی ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن کردیا اب اپنے کارستانیوں کو اس طرح چھپانا ممکن نہیں اخلاقی طور پر انہیں پابند ہونا چاہئے تھا کہ وہ اتنے بڑے کرپشن کے بعد اپنی کمزوری اور خامیوں کی اصلاح کرتے لیکن انہوں نے اپنی اصلاح کرنے کے بجائے چور مچائے شور کی پالیسی اپنائی اور اتنا شور کے جہاں اخلاقیات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت کا کوئی کارنامہ بلوچ عوام کو بتائیں جس سے عوام سمجھے کہ واقعی انہوں نے کوئی اچھا اقدام اٹھایا ہو بلوچ مسئلہ آج تک حل طلب ہے بلوچ قوم کا کونسا مسئلہ ان لوگوں نے حل کیا ؟صرف یہ ضرور کیا کہ توتک جیسے سانحہ ، میگا کرپشن کا تحفہ ضرور دیا اپوزیشن جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکمران جماعت پر مثبت تنقید کرے اب بی این پی اپنا سیاسی کردار ادا کرر ہی ہے تاکہ ان کی اصلاح ہو سکے ہم اصلاح کی بات کرتے ہیں تو یہ سیخ پا ہو کر ذاتیات پر اتر آ رہے ہیں اس میں کیا مسئلہ ہے کہ کرپشن نہ کی جائے ، بلوچوں کی لاشیں نہ گرائی جائیں ہم یہ ضرور محسوس کر رہے ہیں ان کی ڈھائی سالہ حکومت میں ان کے اکابرین آسٹریلیا ، چھلی ریکوڈک کا سودا لگانے گئے تھے تو ملک کے معروف تجزیہ نگاروں ، اینکر پرسنز ، دانشور وں شاہین صبائی ، ڈاکٹر شاہد مسعود ، مبشر لقمان ، ڈاکٹر طاہر القادری نے ریکوڈک کے کک بیکس کے متعلق بہت سے پروگرام کئے آن لائن نے کرپشن کی خبر چلائی تو انہوں نے مثبت تنقید کا جواب دینے کی بجائے سیخ پا ہو کر قانونی چارہ جوئی اور ہرجانے کا دعوی کیا اگر کسی پارٹی نے ان کے خلاف مثبت تنقید کی تو سیخ پا ہو کر اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر رہے ہیں تنقید کو برداشت کرنے کی بجائے ذاتیات پر اتر آ رہے ہیں بی این پی ایسے بیانات کو وقت کا ضیاع سمجھتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے کرپٹ لوگوں کے خلاف مسلسل بیانات دینا بہتر اقدام نہیں کیونکہ ان کی کوئی وقعت نہیں ملک کی تمام طبقہ فکر ان کے کارناموں سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں اب ہزاروں بیانات داغیں لیکن ان کی اب وہ پہلی والی حیثیت نہیں رہی جب وہ متوسط طبقے کا نقاب اوڑھے ہوئے تھے ان کے حقیقی چہرے عوام کے سامنے آ چکے ہیں ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close