کوئٹہ لاء کالج کے پرنسپل بیرسٹر امان اللہ اچکزئی پر قاتلانہ حملے میں ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں.بی ایس اے سی

BSACکوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کوئٹہ لاء کالج کے پرنسپل بیرسٹر امان اللہ اچکزئی پر قاتلانہ حملے میں ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے تعلیم دشمنی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں خوف حراس کاماحول پیدا کرکے علم دوست اساتذہ کو تعلیم سے دور رکھ کر تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی دانستہ کوششیں کی جارہی ہیں جس سے بلوچستان کے طلبا ء کا مستقبل تباہی کی دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ترجمان نے مزیدکہاکہ اس سے پہلے بھی بلوچستان میں تعلیم دوست و عظیم پروفیسر صباء دشتیاری،زاہد آسکانی سمیت متعدد اساتذہ و علم دوستوں کو قتل کرکے بلوچستان میں تعلیمی ماحول کی خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ امان اللہ اچکزئی کی قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری ، چیف سیکرٹری بلوچستان ، آئی جی پولیس کمشنر کوئٹہ سے اپیل کرتے ہیں کہ واقع کا سختی سے نوٹس لیکر قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے اساتذہ، پروفیسرز سمیت تعلیمی اداروں کی حفاظت یقینی بنائیں ۔علاوہ ازیں ترجمان نے کہا کہ گذشتہ روز لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے سمر کی فیس میں فی مضمو ن500اضافہ کیا گیا ہے جو کہ طلبا ء کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے اس کے علاوہ رزلٹ کو جاری کرنے میں تاخیر کی وجہ سے طلبا اسکالرشپ سے محروم ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے یونیورسٹی میں زیر تعلیم اسٹوڈنٹس شدید مشکلات کا شکار ہیں۔طلبا ایکشن کمیٹی یونیورسٹی میں اس طرح کی کمزوریوں کو برداشت نہیں کرسکتی ۔سمر فیس میں اضافہ غریب طلبا کے ساتھ زیادتی ہے،ہم یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر فیس میں اضافے کی فیصلے پر نظر ثانی کرکے نوٹس واپس لے بصورت دیگر اس عمل کے خلاف سخت احتجاج کریں گے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close