بلوچ عورتوں کا اغواء بدترین ریاستی دہشتگردی ہے۔ بی این ایف

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے گزشتہ روز مشکے کے علاقے مُرماسی میں فوجی کاروائیوں کے بعد پورے گاؤں کو جلانے اور 15سے زائد خواتین و بچوں کی دو ، ایک سال سے کم عمر بچوں سمیت اغواء کو بدترین ریاستی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا بلوچستان میں ریاستی جرائم روز بہ روز سنگین رخ اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بھر میں ریاستی فورسز بلوچ خواتین، بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں پر طاقت استعمال کرکے انہیں اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے سے دستبردار کرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن ریاستی فوج اور اس کے مقامی گماشتوں کو یہ نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیے کہ ایک دہائی سے زائد کے عرصے سے تسلسل کے ساتھ ہونے والی ریاستی بربریت جس طرح بلوچ عوام کو تحریک سے دور کرنے میں ناکام ہوئی ہے، اسی طرح آئندہ بھی کوئی کامیابی قابض فورسز کے ہاتھ نہیں آئے گی۔ ترجمان نے کہا کہ طاقت کے استعمال کے باوجود اپنی شکست کو واضح طور پر محسوس کرکے ریاستی فورسز بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، اپنی بوکھلاہٹ کو چھپانے کے لئے خواتین کو اغواء کرکے اپنے کیمپوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ مشکے کے علاقے مرماسی سے اغواء کیے جانے والے خواتین کو فورسز نے مشکے گجر میں قائم آرمی کیمپ میں منتقل کردیا ہے، جہاں ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے کہا کہ بی این ایف کی اپیل پر آج سوشل میڈیا صارفین نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر SaveBalochWomen ہیشٹیگ کا استعمال کرکے بلوچ خواتین کے اغوا اور ریاستی تشدد کو اجاگر کیا۔ بی این ایف نے عالمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا پاکستان آرمی طاقتور ریاستی مشینری کو نہتے عوام حتیٰ کہ خواتین کے خلاف استعمال کررہی ہے، لیکن انسانی حقوق کے علمبردار ادارے اور ریاستیں اس مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے اپیل کی کہ بلوچ خواتین کی بازیابی اور ریاستی جبر کو بلوچ عوام پر روکنے کے لئے اقوام متحدہ و دیگر ادارے کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close