بلوچ سرزمین سے بے وفائی کا سوچ بھی نہیں سکتا، سرزمین کے لیے اپنے آٹھوں بیٹوں کو قربان کر سکتا ہوں ۔ شہید شاہ محمد بگٹی (اداریہ)

کوئٹہ/اداریہ (ریپبلکن نیوز) مادر وطن بلوچستان کیلئے اپنے سروں کی قربانی دینے والے شہید فرزندوں کی طویل فہرست میں ایک نام شہید شاہ محمد بگٹی کا بھی ہے۔شہید شاہ محمد بگٹی کا بنیادی تعلق ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی سے تھا اور بگٹی قبیلے کی راہجہ شاخ سے تعلق رکھتےتھے۔ آپ ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کے چاہنے والوں میں سے ایک تھے اور نواب صاحب سے محبت اور بلوچ قومی درد نے انہیں تحریک جوڑے رکھا۔

شہید شاہ محمد انتہائی نرم مزاج کے مالک تھے اور پارٹی میں آپ کو بیشتر لوگ وشڑی (نرم و میٹھا) کے نام سے جانتے تھے آپ بلوچی شاعری میں اپنا ایک مقام رکھتے تھے۔ ڈیرہ بگٹی میں فوجی چڑھائی کے بعد آپ نے روپوشی کی زندگی گزاری۔

2004 میں جب سوئی میں بگٹی ہاوس پر فوج نے حملہ کر کے وہاں موجود تمام زمہ داروں اور گارڈز کو گرفتار کیا تو ان زمہ داروں میں شہید شاہ محمد بگٹی کے بڑے فرزند قادر بخش بگٹی بھی شامل تھا۔ جن کو فوج نے گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا اور پانچ مہینے بعد سوئی میں مقیم کلپر شاخ کے کچھ لوگوں نے شہید شاہ محمد بگٹی کوپیغام پہنچایا کہ آپ کا فرزند زندہ ہے اور ہم اس کے بازیابی کیلئے کوششیں کرسکتے ہیں بشرت آپ اپنے خاندان کے ساتھ فوج کے سامنے سرینڈر کردیں۔

شہید نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہاں کہ ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان کا سپاہی ہوں، آٹھ بیٹے ہیں سب کو ڈاڈائے قوم کی سربراہی میں سرزمین پر قربان کرنے کو تیار ہوں۔ اس کے بعد شہید نے تمام تر مشکلات کے بعد کئی سال سندھ اور پنجاب میں روپوشی کے عالم میں گزار دیئے۔ حالانکہ لوگ کہتے ہیں کہ کاروباری یا پیسے والا طبقہ زیادہ مشکلات برداشت نہیں کر پاتے مگر شہید شاہ محمد بگٹی کا خدان مالی حوالے سے بہت طاقت ور تصور کیا جاتا تھا اور سوئی کے مالداروں میں ان کے خاندان کا نام سرفہرت تھا۔ مگر محاجرت اور شدید مشکلات کے بعد بھی انہیں ایسے مشکل اور کھٹن حالات کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ سندھ کے علاقوں میں رہتے ہوئے پتھر توڑنے پڑھے مگر کبھی ڈاڈائے قوم اور سرزمین سے غداری کا تصور بھی نہیں کیا۔

کٹھن حالات بھی ان کے چٹان جیسے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکا، کچھ وقت بعد وہ اپنے خاندان کے ہمرہ افغانستان منقتل ہوئے پھر کچھ مہینے کے مختصر عرصے کے بعد تنظیمی امور کے سلسلے میں واپس بلوچستان لوٹ آئے اور پارٹی کو منظم کرنے کیلئے اپنی کوششیں شروع کردی۔ واپس وطن جانے سے قبل شہید نے اپنے بیٹوں کو ایک ہدایت کی” ہم شاید واپس نہ مل سکیں مگر آپ سب کو آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہنا ہے اور نواب براہمدغ بگٹی سے ہم قدم رہتے ہوئے ڈاڈائے قوم کے خواب کی تکمیل تک اپنی جہد جاری رکھنی ہے، جب بھی جہاں بھی کسی بلوچ سے ملو تو خلوص سے ملو، آپس میں اتحاد ، خلوص اور ایمانداری ہی تمام تر مشکلات کا حل ہے “ ہمیں امید ہے کہ تمام بلوچ قائدین شہید شاہ محمد بگٹی سمیت تمام شہداء کے ارمانوں کے مطابق آپسی اتحاد کو پروان چڑھانے میں اپنا قردار ادا کرینگے۔

شہیدشاہ محمد بگٹی، بلوچ ریپبلکن پارٹی کے رکن تھے اور وہ پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی کے بھائی تھے انہیں پاکستانی قابض افواج نے 5دسمبر 2010کو روجھان مزاری سے دیگر پانچ ساتھیوں کے ہمرہ اغوا کیا تھا۔ شہید شاہ محمد بگٹی کو دو دن بعد شہید کر کے ان کی لاش سوئی میں ان کے قریبی رشتہ داروں کے حوالے کردی جبکہ شہید شاہ محمد کے دیگر ساتھیوں کی لاشیں جنوری 2011کو سوئی کے علاقے مچھی گوانی سے ایک اجتماعی قبر سے دریافت ہوئیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker