جرمنی میں شادی کے لیے لڑکی نہ ملنے پر پاکستانی پناہ گزین کا عام لوگوں پر حملہ

جرمنی (ریپبلکن نیوز) جرمن عدالت میں ایک ایسے کیس کی سماعت کا آغاز ہوا ہے جس میں ایک پاکستانی پناہ گزین نے شادی کے لیے عورت نا ملنے پر اپنا غصہ عام لوگوں پر اتارتے ہوئے ایک عورت سمیت متعدد لوگوں پر حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا تھا۔

یہ واقعہ مئے کے مہینے میں جرمنی کے شہر ٹٹلنگن میں پیش آیا تھا، جبکہ اِس پاکستانی پناہ گزین کی عمر 48 بتائی جاتی ہے، جب پاکستانی پناہ گزین کو عدالت میں جج کے سامنے پیش کیا گیا تو اس کے ہاتھوں پر ہتکڑیاں  لگی ہوئی تھیں تاکہ وہ پھر سے لوگوں پر حملہ آوار نہ ہوجائے۔

جب جج نے پاکستانی پناہ گزین سے غصہ اور عام لوگوں پر حملے کی وجہ پوچھی تو 48 سالہ پاکستانی شخص نے کہا کہ شادی کے لیے عورت نا ملنے کی وجہ سے وہ زہنی دباو کا شکار ہے۔

پاکستانی شخص نے جج سے کہا کہ مجھے شادی کے لیے عورت فرائم کیا جائے یا مجھے دوبارہ پاکستان بھیج دیا جائے۔

یاد رہے کہ جرمنی سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں پاکستان کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ صوبہ پنجاب کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں، جبکہ ان میں اکثریت لوگ جھوٹی کہانیاں بناکر پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یورپی قواتین کے مطابق بہت کم پاکستانیوں کی یورپ میں پناہ دی جاتی ہے۔

یورپ میں مستقل ویزا حاصل کرنے کے لیے اکثر پاکستانی پناہ گزین یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والی عورتوں سے شادی کرنے کو اپنا اولین مقصد بناتے ہیں، اور ویزا حاصل کرنے کےبعد ان خواتین سے طلاق لے لیتے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close