بی آر ایس او کے رہنماء فیضان بلوچ کی گرفتاری تعلیم یافتہ طبقے کو نشانہ بنانا ہے۔شیر محمد بگٹی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز )بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیرمحمد بگٹی نے اپنے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، بلوچ سیاسی کارکنان اور طالبعلموں کی جبری گمشدگیاں اور ماورائے قانون حراستی تشدد اور قتل معمول بن چکی ہیں۔ گزشتہ دنوں نام نہاد بلوچستان حکومت اور ریاستی فورسز کی جانب سے چھ لاپتہ بلوچ فرزندان کو شدت پسند ظاہر کرکے میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا جن میں بلوچ طلبا تنظیم بلوچ ری پبلکن سٹوڈنٹ آرگنازیشن کے ڈپنی سیکٹیری فیضان عرف مزار بلوچ بھی شامل ہیں۔ فیضان بلوچ ایک طالبعلم ہیں اور ان کے 25جون کو کوئٹہ سے ریاستی فورسز نے اس وقت اغواہ کیا جب وہ اپنے ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف تھے۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی فورسز کی جانب سے ہمیشہ سے کوشش کی گئی ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کو نشانہ بنایا جائے یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، حراستی تشدد اور مسخ شدہ لاشوں کی نشانہ بننے والے بلوچوں میں کثیر تعداد بھی بلوچ طلبا، سیاسی کارکنوں اور تعلیم یافتہ طبقے کی ہے۔ ریاستی کی کوشش ہے کہ بلوچ قوم کو تعلیم سے دور رکھا جائے کیونکہ تعلیم کی ہی بدولت بلوچ قوم ریاستی مظالم اور قبضہ گیر نظام کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے۔ جہاں تک فیضان بلوچ کا تعلق ہے تو جس تنظیم سے ریاستی فورسز کی جان سےان کو منسوب کیا جارہا ہے اس تنظیم نے بھی اخباری بیانات کے ذریعے اس بات کی تردید کردی ہے۔ بی آر پی بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ فیضان بلوچ سمیت تمام جبری گمشدگان اور بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close