سال نو میں آئیں اپنے بچے بچیوں کے لئے جہدوجہد کریں | ریپبلکن مضمون

سال نو میں آئیں اپنے بچے بچیوں کے لئے جہدوجہد کریں

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) مجھے معلوم ہے کہ ہمارے سماج اور معاشرے میں ایک بیٹی کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے اگر میں بھی اپنے معاشرے کی طرح سوچنے لگوں تو شاید میں بھی اس وہم و فکر میں مبتلا ہوجاتا ہوں کہ جس بیٹی کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں اسے اسکول کیسے بھیجوں پھر جب میں انسان بن کر سوچتا ہوں تو آئینے کی طرح صاف عیاں ہوجاتا ہے کہ یہ ایک بیٹی کے ساتھ حد سے زیادہ ناانصافی اور زیادتی ہے

ہم اپنے گھر کے تمام بچوں کو سکول میں پڑھانے بھیج دیتے ہیں تو بچیوں کو کیوں نہیں۔۔؟ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ والدین پر بچوں اور بچیوں کا پہلا فرض انہیں تعلیم و تربیت دینا ہے ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ جو چیز اپنے بیٹوں کے لئے پسند کروں وہ بیٹیوں کے لئے بھی پسند کروں یقینا آپ اپنے بیٹوں کو سب سے پہلے تعلیم دینا پسند کرو گے تو بیٹیوں کے لئے کیوں نہیں۔۔؟

قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ہر مرد اور عورت پر تعلیم و علم فرض ہے۔! یاد رکھیں کہ ہمارا پہلا تہذیب رسم رہن سہن دین اسلام کی بنیاد سے شروع ہوتی ہے ہم ایک مری، بگٹی، بزدار بعد میں ہیں اور اسلام میں کسی بھی کتاب میں بیٹیوں کو تعلیم و علم سے محروم رکھنے کی اجازت نہیں ہے، وہ قوم ناکام ہے جو عورتوں کو مردوں کے برابر نہ سمجھے  اور انہیں خود سے کمتر سمجھے  آج آپ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس کا جائیزہ لیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ غریب بلوچستان میں ہے اور اس سے بھی زیادہ بلوچستان میں چند قوم انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور  ہیں جس میں مری، بگٹی وغیرہ شامل ہیں یہ بات الگ ہے کہ مری بگٹی علاقے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں میرے علم میں اس کی سب سے بڑی وجہ اپنے عورتوں کو مردوں کے برابر ناسمجھنا ہے جبکہ ہمارے دین ہمیں صاف بتا رہا ہے بیٹیوں کو بھی بیٹوں کی طرح حقوق دو جس کی پہلی حقوق علم و تعلیم ہے یہ تو عیاں ہوگیا کہ ہمارا دین اور اسلام اس بات کی کھلی اجازت دیتی ہے کہ کسی بھی حالت میں اپنے عورتوں کو تعلیم اور کسی بھی میدان میں کمتر مت سمجھیں اور بیٹیوں کی مکمل حقوقِ دینا والدین اور ایک مسلمان پر فرض ہے۔!

ایک نظر غربت پر۔! یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان میں غربت کی وجہ سے بیشتر بچے اور بچیاں اسکول تعلیم اور علم کی روشنی سے مکمل طور پر محروم ہیں جو غریب بچے اور بچیاں شروع سے سکولوں میں جاتے ہیں بھی تو غربت اور فیس ادا نہ کرنے کے باعث وہ اپنے کلاسز اور علم کی روشنی کو اپنے آنکھوں میں دیکھ کر واپس تاریکیوں میں لوٹ کر آتے ہیں پھر وہی تاریکیوں میں اپنے زندگی بسر کرتے ہیں لیکن میں پھر بھی ان والدین کے حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کرتا ہوں جو غربت اور تہذیب و رسم سے بالاتر ہو کر اسلام کے تحت اپنے بچے بچیوں کو علم روشناس کرنے کی کوشش کرتے ہیں قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ رزق کی میزبانی اللّٰہ تعالیٰ خود کرتا ہے یقیناً جب تک ایک شخص کی پیٹ بھوکا رہے گا سورج مغرب میں غروب نہیں ہوگا آپ اپنے دو وقت کی روٹی کے لئے اپنے بچے اور بچیوں کے حیات تاریکیوں میں مت ڈالے رزق دینے کی پیروی اللّٰہ تعالیٰ خود کرتا ہے اور ایک قومی تہذیب سے بالاتر ہوکر اپنے بچے اور بچیوں کو آج ہی اسکول میں داخل کروائیں۔، شکریہ

قلمکار: نذر بلوچ قلندرانی

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button