بلوچ ریپبلکن پارٹی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی 37ویں سیشن کے دوران اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا (رپورٹ)

جنیوا/رپورٹ(ریپبلکن نیوز) اقوام متحدہ کی 37ویں سیشن کے دوران بلوچ ریپبلکن پارٹی نے بلوچستان میں جاری ریاستی درندگی، فوجی آپریشن میں ہونے والے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ، بلوچوں کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی سرگرمیوں کا اغاز کردیا۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی 37ویں سیشن کے شروع ہوتے ہی بلوچ ریپبلکن پارٹی نے اپنی سرگرمیوں کا اغاز کردیا ہے۔ آج بی آر پی کی جانب سے جنیوا شہر سے اقوامِ متحدہ کے دفتر تک ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں شامل شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز، بینرز اور پارٹی و بلوچستان کا بیرک اٹھائے رکھے تھے۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی میڈیا سیل سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تین دنوں کے لیے آج سے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے ایک آگاہی کیمپ بھی لگائی گئی ہے۔ جس کا مقصد اقوام متحدہ کے سیشن میں آنے والے دیگر ممالک کے رہنماوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو بلوچستان میں جاری ریاستی جارحیت اور بلوچوں کی ماورائے عدالت گرفتاریوں اور ہلاکتوں کے بارے میں معلومات فرائم کرنا ہے۔

خیال رہے کہ یورپ بھر سے بلوچ ریپبلکن پارٹی  کے کارکنان اور زمہ داران اقوامِ متحدہ کے سیشن کے دوران ہونے والی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ سیشن کے دوران بی آر پی کے رہنماوں کا مختلف ممالک کے رہنماوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ سیشن کے اختتام پزیر ہونے تک جاری رہتا ہے۔

اسی بارے میں:

اقوام متحدہ کی 34ویں سیشن میں پاکستان بلوچ آواز کو دبانے میں ناکام

اقوام متحدہ کے سیشن کے دوران بلوچ ریپبلکن پارٹی یورپ اور ہیومن رائٹس ونگ کے زمہ داران خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میں جاری ریاستی دہشتگردی اور بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھانے کی کوششٰں کرتے ہیں۔ جبکہ انہیں پاکستان اور چین کے رہنماوں کا بھی سامنا کرنا ہوتا ہے، جو مسلسل اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کسی بھی طرح بلوچوں کے موقف کو دنیاکی نظروں اوجل رکھ سکیں۔

گزشتہ سال مارچ کو ہونے والے اقوام متحدہ کے 34ویں سیشن کے دوران پاکستانی نمائندے نے بلوچ ریپبلکن پارٹی کے ہیومن رائٹس ونگ کے رہنما عبدل نواز بگٹی کو روکنے کی متعدد کوششیں کیں لیکن امریکی و دیگر ممالک کے رہنماوں نے بی آر پی کے نمائندے کا حمایت کرتے ہوئے اسے خطاب کرنے کی اجازت دیں ۔

 

 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker