خطے اور عالمی بدلتی صورتحال و بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں مثبت اثرات (ریپبلکن اداریہ)

کوئٹہ/اداریہ ( ریپبلکن نیوز ) خطے اور عالمی سطح پر بدلتے سیاسی حالات کے پیش نظر بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں بھی مثبت تبدیلیوں اور نئے حکمت عملیوں کا جائزہ لیا گیا۔ پچھلے کچھ مہینوں سے بلوچ قومی مسلح محاز میں اتحاد، اشتراک عمل اور پرانی رنجشوں کے خاتمے کے مثبت خبریں دیکھنے کو ملیں، جو بلوچ قومی تحریک کو منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے انتہائی اہم پیشرفت سمجھے جاتے ہیں۔

یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ کوئی تحریک انتشار اور آپسی چپقلش سے کسی قسم کی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو بلوچ قومی مسلح یا سیاسی تنظیموں میں کسی قسم کی کوئی نظریاتی یا سیاسی اختلافات نہیں تھے اور نا رہیں گے ہاں اگر کہیں کچھ تشنگی تھا تو وہ غلط فہمیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے جو آج بلوچ مسلح قیادت نے ختم کرنے کی ضرورت محسوس کی، البتہ دیر آید درست آید والی بات ہے۔

حالیہ دنوں بلوچ مسلح محاذ میں دشمن سے نبرد آزما تین مضبوط مسلح تنظیمیں بلوچ ریپبلکن آرمی، یونائیٹڈ بلوچ آرمی اور لشکر بلوچستان نے اشتراک عمل کا اعلان کرکے متحد ہوکر دشمن سے لڑنے کا جو اعلان کیا بلوچ حلقوں میں اس کو بلوچ قومی تحریکِ آزادی کیلئے ایک انتہائی اہم قومی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔اسی طرح اس سے پہلے بلوچ لبریشن آرمی کا بلوچستان لبریشن فرنٹ سے اشتراک کا اعلان بھی انتہائی مثبت پیش رفت مانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کو اپنے تعلقات منظم کرنے کی ضرورت ہے

تیس لاکھ انسانی جانوں کی قربانیوں نے مشرقی پاکستان سے نگلہ دیش تک کے سفر کو سچ ثابت کردیا

بلوچ قومی یکجہتی کے حوالے سے نواب براہمدغ بگٹی کی ناقابل فراموش خدمات

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ نے بھی کچھ بلوچ حلقوں میں کافی ہلچل مچا دی تھی، چہ میگوئیاں شروع ہوئیں، جس میں یہ دعوٰی کیا گیا تھا کہ پچھلے کچھ سالوں سے چین کا کچھ بلوچ علیحدگی پسندوں سے رابطے رہے ہیں۔ تقریباً تمام بلوچ آزادی پسند تنظیموں اور قیادت نے کھل کر اس دعوے کی مذمت کی بلکہ اس طرح کے امکان کو بھی مسترد کر دیا۔ گواہے کہ کچھ بیانات کو کچھ حلقوں سے الگ زاویے سے لیا گیا لیکن اس دعوے کی تصدیق کسی نے بھی نہیں کی۔

بلوچستان میں آئے روز پاکستانی قبضہ گیر ریاستی دہشت گرد فورسز کی دہشت گردانہ کارروائیاں مختلف شکل میں ہوتے رہے ہیں۔ کبھی آبادیوں پر آپریشن کرکے لوگوں کے گھروں سے مال مڈیوں کو لوٹنا اور پھر انکے گھروں کو جلانا۔ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ فورسز کے ہاتھوں دو یا تین بلوچ اغواء نا ہوئے ہوں.۔

گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے

کچھ ہی دنوں پہلے بولان میڈیکل کے ایک طالب علم ڈاکٹر سعید بلوچ کو اسکے کالج ہاسٹل کے احاطے سے ہی اٹھا کر غائب کیا گیا جس کا تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا۔ کالج انتظامیہ اور طلباء پچھلے دو تین دنوں سے احتجاج پر ہیں، لیکن اس بہرے اندھےاور گھونگھے ریاست کو کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اسی طرح دو اور طلباء کا پنجگور اور کیچ سے بھی اٹھائے جانے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔

ایک طرف ریاستی ظلم اور بربریت اپنے عروج پر ہے تو دوسری طرف بلوچ کلچر ڈے کے نام پر ریاستی ادارے میلے اور نمائشوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوج کی جانب سے عام بلوچوں کو زبردستی ان نمائشوں اور میلوں میں لیجایا جارہا ہے جن کے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھما کر انہیں زبردستی محب وطن بنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔کلچر ڈے کے نام پر بلوچ ثقافت کو مسمار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

بلوچ قوم کو ان ریاستی حربوں سے واقف ہونا چاہیے اور انہیں خود کو ایسے ریاستی کاموں کا حصہ دار نہیں بنانا چاہیے جو بلوچ قومی غلامی کی زنجیر کو مزید مستحکم کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker