”میں تو دنیا میں نہیں آنا چاہتا تھا پھر تم نے مجھے پیدا کیوں کیا؟“ نوجوان نے اپنے والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا اعلان کردیا

نیوز ڈیسک (ریپبلکن نیوز) بھارت میں لوگوں کا ایک ایسا گروہ فروغ پا رہا ہے جو بچوں کی پیدائش کے خلاف ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ہمیں بچے پیدا کرکے انہیں زندگی کی مصیبتوں سے دوچار نہیں کرنا چاہیے اور یہی طریقہ ہے کہ جس کے ذریعے اس زمین کو انسان کے فساد سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ اب اس گروہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے اپنے ماں باپ کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے کہ انہوں نے اس کی مرضی کے خلاف اسے پیدا کیوں کیا۔

ممبئی کے رہائشی 27سالہ رافیل سیموئیل نامی نوجوان کا کہنا ہے کہ ”میرے والدین نے مجھے میری مرضی کے خلاف کیوں پیدا کیا۔ اس پر میں جلد انہیں عدالت لیجانے والا ہوں۔“ اس کا کہنا تھا کہ ”میں بھارت کے تمام بچوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ پر اپنے والدین کے حوالے سے کچھ بھی فرض نہیں ہے۔ مجھے اپنے ماں باپ سے محبت ہے اور ہمارا باہم تعلق بہت اچھا ہے لیکن انہوں نے صرف اپنی خوشی اور لطف کے لیے مجھے پیدا کر دیا۔میری زندگی تو اچھی جا رہی ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں کوئی بچہ پیدا کرکے اس کی سکول جانے اور کیریئر بنانے جیسی زندگی کی تکالیف میں کیوں ڈالوں، وہ بھی ایسے میں انہوں نے مجھے پیدا کرنے کے لیے نہ کہا ہو۔ میں ہر بھارتی بچے سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے ماں باپ سے پوچھیں کہ انہوں نے اسے کیوں پیدا کیا؟“۔

رافیل نے ایک اور فیس بک پوسٹ میں اپنی ماں کے خیالات کو بھی شیئر کیا۔ اس کی ماں کا کہنا ہے”مجھے اپنے بیٹے کے عدالت جانے کی تعریف کرنی چاہئے۔ ہم میاں بیوی وکیل ہیں۔ اگر رافیل دلیل کے ساتھ آتا ہے کہ ہم کیسے پیدا ہونے کیلئے اس کی رضامندی مانگ سکتے ہیں تو میں اپنی غلطی قبول کروں گی“۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button