بلوچ یوٹیوبر انیتا جلیل اور برطانوی خاتون ایوا سو بیک کی حقیقت

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا دل بھی کہا جاتا ہے، جہاں چین اپنا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیےنام نہاد  میگا پروجیکٹس کا آغاز بھی کر چکا ہے۔ اور سی پیک سے وابستہ ان تمام منصوبوں میں 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔

پاکستانی معیشت مکمل مفلوج ہوچکی ہے جسے دوبارہ قابل بنانے کے لیے بلوچستان کے ساحلی بیلٹ کو چین کے بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے حوض چینی حکومت کے حوالے کیا جارہا ہے۔جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں سے حاصل ہونے والا فاہدہ یقیناََ بلوچ کے حصے میں نہیں ائے گا بلکہ پنجاب کو سہارہ دینے کے لیے بلوچوں کی سرزمین کو تباہی کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔

لیکن چونکہ بلوچستان ایک جنگ زدہ خطہ ہے جہاں بلوچ قوم اپنی ننگ و ناموس اور قومی آزادی کے لیے پاکستانی ریاست سے حالتِ جنگ میں ہیں، تو چینی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ پاکستانی ریاست مکمل کوشش کر رہی ہے کہ دیگر ممالک بھی بلوچستان میں سرمایہ کاری کریں تاکہ بلوچوں کی قومی دولت سے حاصل ہونے والے پیسوں سے پنجاب اور پاکستانی عسکری اداروں کو فائدہ پہنچایا جاسکیں اور ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا مل جائے، کیونکہ ہر قابض کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ محکوم و مظلوم اقوام کی دولت کو جتنا زیادہ ہوسکیں اپنے مفاد میں استعمال کرے اور یہی سب کچھ پاکستان بھی دہرا رہا ہے۔

مزید مضامین:

آزادی حاصل کرنے والے چار خوش نصیب و بدنصیب ممالک اور بلوچستان

قومی آزادی پسند جہدکار کی پہچان اور ذمہ داریاں

تنظیم اور گروہ!

بلوچستان میں بین القوامی سرمایہ کاری کے لیے ریاستی اداروں کے سامنے بلوچ مزاحمت ایک بڑی چیلنچ ہے، بلوچستان میں کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرتا جہاں پاکستانی مسلح افواج پر حملے نا ہوتے ہوں، تو لہذا اب پاکستانی ادارے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ بین القوامی سرمایہ داروں کو یہ باور کرایا جائے کہ بلوچستان کے حالات مکمل پُرامن ہیں اور سرمایہ کاری کے حالات سازگار ہیں۔

بلوچستان کے حالات کو سازگار دکھانے کے لیے ریاستی میڈیا، کھٹ پتلی سیاستدان، مقامی زرخریدوں سمیت مختلف لوگوں کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ایک برطانوی خاتون (Eva Zu Beck)ایوا سو بیک بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کا دورہ کرتی ہے۔

اپنا تعارف کرتے وقت وہ کہتی ہے کہ اسے برطانوی کمپنی کی طرف بلوچستان بھیجا گیا ہے جس نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ اسکے ساتھ مزید لوگ بھی موجود تھے جو اس کے ساتھ برطانیہ سے گوادر آئے۔

اس برطانوی خاتون کا گوادر کا دورہ کرنا در حقیقت یہ دکھانے کی کوشش تھی کہ بلوچستان کے حالات مکمل طورپر پرسکون اور سازگار ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو باور کرایا جاسکے۔ جبکہ یہ خاتون اپنے ویڈیو میں بلوچ خاتون یوٹیوبر انیتا جلیل کے بارے میں بھی بات کرتی ہے اور اپنے ویڈیو کے نیچھے اسکے چینل کا لنک بھی ڈسکرپشن میں دیتی ہے۔

ریاستی اداروں نے گوادر شہر کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے رکھا ہے پورا شہر فوجی چھاونی میں بدل دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کا کوئی نا خوشگوار واقع پیش نہ آسکے جس سے سرمایہ دار ڈر جائیں اور سرمایہ کاری سے انکار کردیں۔

بلوچ خاتون انیتا جلیل اور برطانوی خاتون ایوا درحقیقت پیڈ پروموشن کر رہے ہیں، جنہیں بلوچستان کے حالات کو پُر امن دکھانے کے لیے پیسے دیئے جاتے ہیں۔ انیتا جلیل کے ویڈیوز کو اگر دیکھا جائے تو حقیقت سے پردہ اُٹھ جاتا ہے۔ وہ گوادر میں ریاستی اداروں کی جانب سے منعقد کی گئی کسی بھی تقریب سے خود کو دور نہیں رکھ سکتی ، اور ہمیشہ ان تقریبات میں پیش پیش نظر آتی ہے اور انکا پھرپور پروموشن کرتی ہے۔

ہمیں ان کرداروں کو سمجھ لینا چاہیے اور انہیں کاونٹر کرنے کے لیے حکمت عملی بھی تربیت دینی چاہیے تاکہ بلوچستان کے حالات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے انہیں روکھا جاسکے۔

تحریر: میر جان بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close