جھاؤ میں فورسز اور مذہبی شدت پسندوں کی کاروائیوں میں اب تک 30سے زاہد افراد اغواہوچکے ہیں۔بی این ایف

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان کے علاقے جھاؤ کے مختلف علاقوں کو آرمی اور مذہبی شدت پسندوں کی جانب سے گزشتہ چار روز سے گھیرے میں لینے اور گھروں میں لوٹ مار کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فورسز اور مذہبی شدت پسندوں کی مشترکہ کاروائیوں میں اب تک 30سے زائد افراد گرفتار کرکے لاپتہ کردئیے گئے ہیں جبکہ کوہڑو، پیلار، کورک اور دّرا بھینٹ کے علاقوں میں 25 گھروں کو نظر آتش کردیا گیا ہے۔ بی این ایف کے ترجمان نے کہا ریاستی بربریت کو پاکستانی میڈیا حتی الوسع چھپانے کی کوشش کے باوجود ناکام ہورہی ہے، اب فورسز اپنی بربریت کو سوشل میڈیا میں چھپانے کے لئے مواصلاتی نظام کو منقطع کرکے آپریشن کرتے ہیں۔ گزشتہ چار دنوں سے جھاؤ کے علاقوں، پیلار، کورک، کوہڑو کے اسکولوں پر آرمی اور مذہبی شدت پسندوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، جھاؤ میں ایک عرصے سے ریاست کی سرپرستی میں مذہبی شدت پسندی پروان چڑھائی جاررہی ہے۔ گزشتہ مہینے کورک میں بی ایس او آزاد کے زونل رہنماء خمار بلوچ ولد اسحٰق بھی انہی شدت پسندوں کی فائرنگ سے شہید ہوا تھا، آزادی پسند پارٹی اور تنظیموں کی بارہا کی نشاندہی کے باوجود اس جانب عالمی میڈیا اور دیگر طاقتوں نے کوئی توجہ نہیں دیا ہے، گزشتہ چار دنوں کی مشترکہ کاروائی اس بات کو ظاہر کررہی ہے کہ بلوچستان کو مذہبی شدت پسندوں کی آماجگاہ بنانے کی پالیسی پر ریاست بھرپور طریقے سے عمل پھیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور تنظیمیں پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبرو ں کے بجائے زمینی حقائق کا تجزیہ کرکے ریاستی پالیسی کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ کیوں کہ پاکستانی میڈیا بلوچستان کے حوالے سے مکمل طور پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، میڈیا کے بعض ادارے بلوچستان کی اصل صورت حال کو چھپا نے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے من گھڑت شوشے چھوڑتے ہیں تاکہ اصل صورت حال کو عالمی رائے عامہ کی نظروں سے چھپایا جا سکے۔گڈانی میں مزدوروں کی ہلاکت کا واقعہ، کوئٹہ میں ہونے والی ہلاکتیں اور ہزاروں دیگر ایسے واقعات پر پاکستانی میڈیا کی خاموشی اس بات کو ظاہر کرچکی ہے کہ میڈیا بھی بلوچستان میں بطور مخالف فریق سرگرم ہے۔ بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے عالمی رہنماؤں اور مہذب ممالک سے اپیل کی کہ اگر وہ مذہبی شدت پسندی کو روکنے اور ایک معتدل سماج کی تشکیل کے لئے حقیقی معنوں میں سنجیدہ ہیں تو وہ بلوچ آزادی کے جدوجہد کی حمایت میں عملی میدان میں آئیں، کیوں کہ مذہبی شدت پسندی پھیلانے کی ریاستی پالیسی کے خلاف بلوچ مجموعی طور پر جدوجہد کررہے ہیں۔ –

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker