پنجگور میں واقع ریاستی ٹارچر سیل کی کہانی

پنجگور (بیورورپورٹ) پنجگورکی بلوچ قوم پرستی کی حالیہ لہر میں ایک اہم کردار رہا ہے۔ 2006 ء میں نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت ہو یا شہید غلام محمد ودیگرفرزندوں کی شہادتیں یا آغاعابد شاہ کی فوج کے ہاتھوں اغواء نما گرفتاری، ان تمام واقعات کے دوران پنجگور کے نوجوانوں نے بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرح پنجگور میں بھی انتہائی منظم اندازمیں ریاستی مشینری کو تباہ کردیاتھا۔ منظم سیاسی جہدوجہد کو کچلنے کے لیئے بلوچستان بھر میں ریاستی اداروں نے چن چن کر سیاسی کارکنوں کو اغواء اور قتل کیا۔ پنجگور میں آزادی پسند تنظیموں کے کارکنوں اور رہنماؤں کو اغواء بعد شہید کیا گیا ۔جن میں بلوچ نیشنل موونٹ ، بلوچ ریپبلکن پارٹی ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد سمیت بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعدادتھی۔سیاسی جہدوجہد کی ریاستی بربریت کے زیر عتاب آنے کے بعد اکثر سیاسی کارکن مزاحمتی تنظیموں سے وابستہ ہوگئے تو کچھ زیر زمین چلے گئے۔ پنجگور میں مزاحمتی تحریک کی شدت میں آنے کے بعد ریاستی اداروں اور ان کے قائم کردہ ڈیتھ اسکواڈ نے تحریک سے وابستہ کارکنوں کے رشتہ داروں سمیت تحریک سے وابستہ کارکنوں سے معمولی تعلق رکنے والے کو اغوا کرکے اپنے بدنام زمانہ حراستی مراکز پنجگور ایف سی کیمپ ،پنجگور رائفل کے ہیڈ کواٹر منتقل کردیاگیاہ۔
ہمارے نمائندے نے پنجگور میں واقع ریاستی ٹارچر سیل کے حوالے سے جب معلوم حاصل کرنے کی کوشش کی تو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اہلکار نے اسیران کی قربناک داستان بیان کیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ مذکورہ اہلکار بلوچ نہ ہونے کے باجود اسیران پر ریاستی مظالم بیان کرتے وقت آبدیدہ ہوگیاجس نے ہمارے نمائندے کو بھی اشکبار کر دیا۔اہلکار نے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی عرصے سے پنجگور میں واقع کیمپ میں تعینات ہے۔انکا کہنا تھا کہ 2006ء کے بعد کئی لوگوں کو گرفتارکر کے اس کیمپ میں لایا گیا ۔اس کیمپ میں 2006ء کے بعد ایک جیل وارڈ تعمیر کیا گیا جس میں 40افراد کو قید کرنے کی گنجائش ہے جو انتہائی چھوٹی سی سیل پر مشتمل ہے۔جبکہ اسی وارڈ میں زیرِ زمین ٹارچر سیل بھی موجود ہے۔ لیکن 40افراد کے اس چھوٹی سی جگہ میں ہمیشہ 100سے بھی زائد افرادکو قید کر کے رکھا جاتا ہے۔ایک ایسا بھی وقت آیا تھا جب چھوٹے چھوٹے سیلوں میں بڑی تعدا د میں لوگوں کو قید کیا گیا تھا۔جبکہ گرفتار لوگوں کی تعداد اتنی ہوگئی تھی کہ لوگوں کو رکھنے کے لیے جبکہ نہ ہونے پر چھوٹے سائز کے ٹینٹ لگائے گئے تھے اور گرمی یا سردی کے موسم میں اسیران ان عارضی قید خانوں میں شدید اذیت ہوتے تھے۔اور اس دوران متعدد قیدی جلد کی عجیب بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے جبکہ قیدیوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہوتی تھی۔2013ء میں گرمی کی شدید تبش سے دو نوجوان ہلاک بھی ہوگئے تھے۔ مذکور ہ نوجوانوں نے اپنی زندگیوں کو بچانے کے لیے متعدد بار جیل وارڈ سے درخواست بھی کرتے ہے لیکن انکی کسی نے نہی سنی۔بعد میں ان نوجوانوں کو رات کی تاریکی میں کہی لے جاکر گولی مار کر قتل کر دیا گیا ۔اہلکار کا کہنا تھا کہ کمانڈنٹ یا کوئی بھی بڑا آفیسر یا انکاباڑی گارڈ سیل میں موجود لوگوں سے جنسی تشدد کا نشانہ بھی بناتے تھے ۔جبکہ سیل میں قید تمام قیدیوں کے آنکھوں میں سیاہ پٹھیاں باندھی جاتی ہیں تاکہ کوئی کسی کہ پہچان نہ سکے۔جب کوئی قیدی دوسرے سے اپنی کہانی بیان کرتا یا پاکستان کے خلاف بھولتا تو فوراََ اس پر تشدد کیا جاتاتھا۔
اہلکار نے ایک واقع بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک مرتبہ بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے کیمپ پر راکٹ فائر کیئے گئے تو سیل میں موجود قیدیوں نے سرمچاروں کے حق میں نعرے لگائے اور انہیں شاباشی دیں جس پر تمام قیدیوں کو ایک جگہ اکھٹا کر کے صبح تک ان پر تشدد کیا گیا۔جیل میں دو ایسے قیدی بھی تھے جو اپنے شادی کے دو مہنے بعد اغواء ہوئے جو گزشتہ چار سالوں سے قید ہیں۔اہلکار نے قید خانے کی تازہ صورتِ حال کے بارے میں بتایا کہ اب بھی اس ٹارچر سیل میں سینکڑوں لوگوں کو قید رکھا گیا ہے جن کو شدید نوعیت کی تشدد سے گزارا جاتا ہے۔جب کہ طویل مدت سے قید متعدد لوگ اب نفسیاتی مریض بھی بن چکے ہیں اور کئی ایسے قیدی بھی ہیں جو اپنی رہائی کی تمام امیدیں کھو بھیٹے ہیں اور ہمیشہ خود کشی کے کوشش بھی کرتے ہیں اور اس عزات سے نجات کے لیے اپنے موت کی دعائیں کرتے ہیں۔اہلکار نے ہمارے نمائندے کو مزید بتایا کہ حال ہی میں منشیات کے تقسیم پر مقامی ڈیتھ اسکواڈ اور آئی ایس آئی کے درمیان شدید اختلافات کے سبب فورسز نے ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ کارندوں کو گرفتار کیا تھا جنہیں اسی ٹارچر سیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ جبکہ ان کارندوں میں چند ایسے سرمچار بھی شامل تھے جو سرنڈر ہو چکے تھے ۔جبکہ اب یہ لوگ اپنی اس حالت ہو دیکھتے ہوئے خود کولعنت کرتے ہیں اور خود کو شہیدوں کو مجرم کہتے ہوئے زور سے روتے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button