بلوچ آرٹسٹ قطب رند کے قتل کا موضوع، سوشل میڈیا پر بحث میں تیزی

لاہور( ریپبلکن نیوز) جیکب آباد کے بلوچ نوجوان "قطب رند” کو لاہور میں کچھ مذھبی جنونی لوگوں نے توہین مذہب کا الزام لگا کر بہت زدوکوب کیا بازو اور ٹانگیں توڑنے کے بعد تیسری منزل سے پھینک کر قتل کردیا.

17 جولائی کو ہونے والا یہ قیامت خیر واقعہ الیکشن کے شور میں کہیں شب گیا. نہ کوئی آواز اٹھی نہ پاکستانی میڈیا پر خبر آئی. بعد میں قطب رند کے گھروالوں، دوستوں اور دیگر ذرائع سے حقائق آشکار ہوتے گئے. قطب رند فائن آرٹس میں پوزیشن ہولڈر اور لاہور کے مشہور ادارے این سی اے سے تعلیم یافتہ تھا.

قطب رند کے قتل کی ایف آء آر ان کے چچا گل بیگ رند کی مدعیت میں تھانا ساندہ میں نمبر 741/2018 34/302 تحت درج کی گئی ہے.

سندھ کے دانشور طبقے سمیت بلوچ نوجوانوں میں قطب رند کے قتل پر انتہائی دکھ، غم و غصہ پایا جاتا ہے. قتل کے اصل محرکات کے سامنے آنے کے بعد نوجوان آرٹسٹوں سمیت نوجوان سمیت ہر طبقہ فکر نے اس قتل کی مزمت کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا میں قتل کے خلاف باقاعدہ کمپین چلایا جارہا ہے قتل کی مزمت کرتے ہوے وائس فار مسنگ پرسن کے سرکردہ رہنما ماما قدیر نے کہا کہ ہم عظیم آرٹسٹ سے محروم ہوگے ہیں ماما قدیر نے مزید کہا کہ ہم لانگ مارچ کے کے دوران ان کی بنائی گی پینٹ اوراس کے جزبات کو بھول نہیں سکتے
ادھر سوشل میڈیا کارکنوں نے امید ظاہر کیا کہ
پنجاب سرکار اور لاہور پولیس سمیت پنجاب کی سول سوسائٹی اور قومی میڈیا کو اس بیہمانہ قتل کے خلاف فعال کردار ادا کریں گے

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close