بی آر ایس او کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری کو دہشتگردظاہر کرنا ریاستی پولیسیوں کا تسلسل ہے. بی ایس او آزاد

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز )بلوچ اسٹوٖڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان نے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کی جانب سے میڈیا میں پیش کیے جانے والے ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بغیر ثبوتوں کے بلوچ فرزندوں کو غیر ملکی ایجنٹ ثابت کرنے لئے قیدیوں پر تشدد کا وحشیانہ استعمال کیا جارہا ہے۔ حالیہ چند وقتوں سے فورسز بلوچ سیاسی قیدیوں پر لگائے جانے والے الزامات کو اپنے ہی عدالتوں میں ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد اب انہیں حراست میں تشدد کا نشانہ بنا کر ان سے اپنی مرضی کا بیان حاصل کرنے کی کوشش کو رواج دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے کسی بھی قانون میں تشدد کے ذریعے حاصل کیے جانے والے بیانات قابل قبول نہیں ہوتے ہیں۔بی آر ایس او کے جوائنٹ سیکرٹری فیضان ،جسے انکی تنظیم کے مطابق 24جون کو گرفتار کیا گیا تھا، اس کی ویڈیو میڈیا میں پیش کرکے اسے دہشتگرد اور بیرونی ایجنٹ ثابت کیا جارہا ہے جو کہ سراسر جھوٹ اور زبردستی لیے گئے بیانات پر مبنی دعویٰ ہے۔ دنیا کو پاکستان کے اس رویے کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے کہ کیوں کہ مغوی سیاسی کارکنان کو خفیہ حراستی مراکز میں تشدد کا نشانہ بناکر اپنی مرضی کا بیان حاصل کرنے کا ایک ظالمانہ رجحان پاکستانی فورسز میں پروان چڑھ چکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی کاروائی خود یہ ظاہر کررہی ہیں کہ پاکستان کے ریاستی ادارے مکمل طور ناکام ہو چکے ہیں ، اس ریاست کو اب صرف ایک طبقہ فوجی طاقت کے زور پر اپنے مفادات کے لئے چلارہی ہے۔ پاکستانی بیمار معاشرہ اور کارپوریٹ میڈیا ایسے حساس معاملات کی سنگینی اور ان کی تہہ تک پہنچے بغیر انہیں نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ ایسے خبروں کو مزید اچھالتی ہے ، لیکن بطور آزادی پسند قوم بلوچ کو اس طرح کے واقعات سے شدید تشویش ہے کیوں کہ ہزاروں لاپتہ سیاسی کارکنوں کے ساتھ ایسی گھناؤنی حرکتیں ریاستی فورسز آئندہ بھی کرسکتے ہیں۔بی ایس او آزاد کے ترجمان نے 14اگست کو تنظیم کے سابقہ مرکزی سیکرٹری جنرل رضا جہانگیر بلوچ(شے مرید) کی تیسری برسی کے موقع پر تمام زونوں میں ریفرنسز کی کال دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے علاقوں میں شہید رضا جہانگیر بلوچ اور عظیم بلوچ شہدا کی یاد میں ریفرنسز کے انعقاد کی تیاری کریں. 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close