تنظیم کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری فیضان بلوچ کو دہشتگرد قرار دینے کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔بی آر ایس او

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے تنظیم کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری فیضان عرف مزار بلوچ کی گرفتاری اور دہشتگرد قراردینے کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔اس مظاہرے کا مقصدبلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی کی جھوٹ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہے جس میں انہوں نے بی آر ایس او کے مر کزی ڈپٹی جنرل سیکرٹر ی فیضان بلوچ کو مسلح تنظیم یونائٹڈ بلوچ آرمی سے جوڈ کر انہیں میڈیا میں دہشتگرد کے طور پر پیش کیا۔مظاہرین نے کہا کہ فیضان بلو چ پر انسانیت سوز تشدد کر کے اس سے زبر دستی اعترافی بیان لیا گیا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ جبکہ فیضان بلوچ کو پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے 25جون 2016ء کو کوئٹہ سے اغوا ء کیا تھا جسے طویل مدت تک خفیہ اداروں کے ٹارچر سیلوں میں اذیتیں دیکر اعترافی بیان لیا گیا ہے۔جبکہ ان دنوں فیضان بلوچ کوئٹہ ڈاکٹر اکیڈمی میں میڈیکل ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف تھا ۔مظاہرے میں شامل بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے کہاکہ بی آر ایس او ایک پُر امن تنظیم ہے جو جمہوری اور پُر امن سیاسی اصولوں پر یقین رکھتی ہے ، بی آر ایس او کے لیڈرشپ نے ہمیشہ خود کو مسلح تنظیموں سے دور رکھتے ہوئے اپنے کارکنوں کو پُر امن وسیاسی اصولوں پر کاربند رہنے پر پابند کیا ہے۔بی آر ایس او ایک طلبہ تنظیم ہے جو بلوچ طلبہ کو تعلیم کی جانب راغب کرنے میں اپنا کردار نبھارہی ہے لیکن اس کے باوجود بی آر ایس او کے مر کزی لیڈرشپ سمیت کارکنان ریاستی اداروں کے نشانے پر ہیں۔
مظاہرین نے مزید کہا کہ پُر امن سیاسی ورکروں اور طلبہ کا اغواء روز کا معمول بن چکا ہے ۔ اس سے پہلے بھی متعدد بار پاکستانی خفیہ ادارے اورپاکستانی فورسز سیاسی کارکنوں پر تشدد کرکے ان سے جبراََ اعترافی بیان لے چکے ہیں جبکہ متعدد سیاسی کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل یا جعلی مقابلوں میں شہید کیا جا چکا ہے۔مظاہرین نے میڈیا سے وابستہ حضرات سے درخواست کی ہے کہ وزیرِ داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کیاس جھوٹ کو دنیا کے سامنے آشکار کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close