بلوچستان میں نام نہادعام انتخابات، ریاستی اداروں کے نئے حربےاور ہماری زمہ داریاں

ہماری جنگ ایک عظیم مقصد کے لیے ہے، جس کے لیے ہزاروں ماوں نے اپنے لختِ جگر قربان کیئے

کوئٹہ/مضمون(ریپبلکن نیوز) بلوچستان میں عام انتخابات کے قریب آتے ہی ریاستی عسکری اداروں کے رویوں میں بھی کچھ تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، اور ریاستی اداروں کی جانب سے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے کچھ ایسے لاپتہ بلوچ فرزندوں کو بھی  رہا کیا گیا ہے جو سالوں سے قابض ریاست کے ٹارچر سیلوں میں ہر طرح کے انسانیت سوز مظالم و اذیتوں سے گزر رہے تھے۔

ریاستی عسکری ادارے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ گزشتہ انتخابات کی ناکامی کے بعد اس بار بلوچستان بھر میں انتخابات کو کامیاب کیا جائے اور ہمارے رویے شاید ایسا کرنے میں قابض ریاست کے اداروں کو مدد فرائم کریں۔کچھ عرصه قبل آزادی پسند جماعتوں کے درمیان انتہائی خوشگوار ماحول پیدا  ہوگیا تھا،  جہاں آزادی پسند کارکنان ایک دوسرے کے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ اتحاد کا بھرپور مظاہرہ کر رہے تھے لیکن  افسوس کہ یہ ماحول زیادہ دیر تک قائم نہ رہہ سکا اور ہمارے رویوں نے ہمیں پھر سے ایک دوسرے سے دور کردیا، اس کا زمہ دار اگر میں ریاستِ پاکستان کو قرار دوں تو ناانصافی اور اپنی غلطیوں کو چھپانہ ہوگا، کیونکہ خرابی ہمارے رویوں میں ہے، خامی ہم میں موجود ہے۔

ہمیں سمجھنا ہوگا  کہ ہماری جنگ ایک عظیم مقصد کے لیے ہے، جس کے لیے ہزاروں ماوں نے اپنے لختِ جگر قربان کیئے

 

بلوچستان میں 2013کے انتخابات کی ناکامی کا سہرہ بلوچ آزادی پسند جماعتوں اور بلوچ قوم کے سر جاتا ہے، جنہوں نے نام نہاد جمہوری انتخابات کو ناکام کر کے دنیا کے سامنے ریفرنڈم کیا کہ بلوچ ایک قوم ہے جو اپنی آزاد ریاست کی بحالی کےلیے جدوجہد کر رہی ہے۔ لیکن اس بار انتخابات کو کاونٹر کرنا زیادہ مشکل نظر آرہا ہے، کیونکہ ریاستی عسکری ادارے ہم سے بہت کچھ سیکھ چکے ہیں، لیکن ہم وہی کے وہی کھڑے ہیں۔

میر جان بلوچ کے مزید مضامین:

سوشل میڈیا کی طاقت اور منقسم بلوچ کارکنان

عدم برداشت ایک ذہنی مرض ہے، جلد ہی اپنا علاج کروائیں

عسکری ادارے اپنی نئی پالیسی کے تحت انتخابات کے قریب آتے ہی چند لاپتہ افراد کو رہا کر کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اطلاعات ہیں کہ ضلع کیچ کے چند علاقوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے لوگوں کو فوجی کیمپ بلا کر ان میں پیسے  بھی تقسیم کیے گئے ہیں، اور غریب  مکینوں نے فوج کی جانب سے دیئے گئے پیسوں کو خوشی خوشی قبول بھی کرلیاہے، یہ عمل یقیناََ ہمارے لیے باعثِ پریشانی ہے۔

ہم پریہ زمہ داری عائد ہوتی ہے  کہ ہم اپنی  قومی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے وقتی اختلافات، ضداور انا سے بالاتر ہوکر وسیع تر قومی مفادات کے خاطر اکھٹا ہوکر مل کر دشمن قوتوں کا مقابلہ کریں۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ جنگ صرف بندوق سے جیتنا  ایک فرسودہ اور ناکام طریقہ ہے، موجودہ دور میں جنگوں میں فتح حاصل کرنے لیے بندوق کے ساتھ ساتھ دیگر صلایتوں کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔بندوق ایک ذریعہ ضرور ہے لیکن اس کےساتھ ساتھ ہمیں اپنی دیگر صلایتوں میں بھی بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچ مسلح و غیر مسلح تنظیموں کی حمایت میں بلوچستان بھر میں کمی آئی ہے، اور جس بندوق کو سیاست کے زیرِ دست ہونا تھا اُسی بندوق نے سیاست کو اپنا تابع  کرلیاہے۔ جبکہ مسلح تنظیموں کے رویوں کی وجہ سے بلوچستان بھر میں انکی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے جو بلوچ تحریک کےلیے نقصاندہ ہے۔ بلوچ  سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں کا آپس میں انتہائی گہرا رشتہ ہے، یہ دونوں آپس میں جڑے ہیں، اگر سیاسی جماعتوں کے تعلقات ایک دوسرے سے ٹھیک ہوجاتے ہیں تو مسلح تنظیمیں خود ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، بالکل اسی طرح اگر مسلح تنظیموں کے تعلقات ایک دوسرے سے ٹھیک ہوجائیں تو آزادی پسند سیاسی جماعتوں کے تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔

بلوچ آزادی پسند جماعتوں میں دوریوں کے اسباب ایسے بھی نہیں جو ناقابلِ حل ہوں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں  کہ دوریوں کے اسباب ہمارے  اپنے رویے   ہیں، ہم سے مراد آزادی پسند جماعتوں کے رہنماہان اور کارکنان، (وہ  رہنماہان جن کے پاس اختیارات ہیں) ، اور وہ کارکنان  جو سوشل میڈیا سمیت دیگر فارم  میں ہمہ ایک دوسرے کی کردار کشی میں تیار  رہتے ہیں۔

مزید مضامین:

بلوچستان میں نام نہاد انتخابات اور بلوچ تنظیموں کی بیان بازیاں

مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی عام انتخابات کا ڈرامہ

منتشر بلوچ قوت کب یکجا ہوگا!

ہمیں سمجھنا ہوگا  کہ ہماری جنگ ایک عظیم مقصد کے لیے ہے، جس کے لیے ہزاروں ماوں نے اپنے لختِ جگر قربان کیئے، خدانخواستہ اگر موجودہ تحریک ناکامی کا شکار ہوجاتا ہے تو اسکا زمہ دار مجھ سمیت تحریک سے وابستہ ہر کارکن و رہنما قرار پائے گا۔آج بلوچ قومی تحریک کی حالت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ہماری مائیں، بہنیں پشتون تحفظ موومنٹ کے پاس اپنی فریاد لے جانے پر مجبور ہیں، حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ پشتون قوم مدد کے لیے ہمارے اداروں کو دستک دیتی، کیونکہ ہم قابض ریاست سے گزشتہ ایک دہائی سے زاہد عرصہ سے حالتِ جنگ ہیں اور اس جدوجہد میں ہمارا تجربہ ان سے زیادہ ہے۔تحریکوں میں اس طرح کے مراحل آتے ہیں لیکن صرف وہی تحریکیں ان مراحل سے کامیاب نکلنے میں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں اور انہیں بطورِ تجربہ استعمال کرتی ہیں۔

موجودہ تحریک بلوچ قوم  کی طویل المدتی تحریک ہے، جہاں بلوچ قوم نے ثابت قدم رہتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک آزاد بلوچ ریاست کی تشکیل کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے لیے تیار ہے، اور ہمارے قوم کے فرزندوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اپنی قومی جذبے سے ریاستی اداروں کے ہوش اڑا دیئے ہیں، بس اگر کمی ہے تو اتحاد ، یکجہتی، صبر و برداشت کی۔

بلوچستان میں موجودہ انتخابات میں عسکری اداروں نے ایک نئی پارٹی متعارف کرائی ہے ، انکی کوشش ہوگی کہ اس  نام نہاد سیاسی جماعت کو بلوچستان بھر میں کامیاب کرایا جائے، کیونکہ اس جماعت میں موجود لوگ بلوچستا ن کے سودےبازی میں ریاستی اداروں کے معاونتکار ہونے کا کردار ادا کریں گے۔ ہم پریہ زمہ داری عائد ہوتی ہے  کہ ہم اپنی  قومی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے وقتی اختلافات، ضداور انا سے بالاتر ہوکر وسیع تر قومی مفادات کے خاطر اکھٹا ہوکر مل کر دشمن قوتوں کا مقابلہ کریں،اور دنیا کے سامنے بلوچ آزادی پسند اداروں کا ایک مثبت چہرہ عیاں کریں۔

تحریر: میر جان بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close