انٹرنیشنل فرینڈز آف سندھ کے سیمینار میں بی آرپی، بی این ایم اور ایف بی ایم کے کارکنان کی شرکت

نیوزڈیسک (ریپبلکن نیوز)انٹرنشنل فرینڈز آف سندھ نے جرمنی کے شہر فرینکفورٹ میں ایک سیمنار کا انعقاد کیا جس میں بلوچ ریپبلکن پارٹی،پشتون تحفظ مومنٹ،بلوچ نیشنل پارٹی اور فری بلوچستان مومنٹ کے کارکنان نے شرکت کی۔

سیمنار کے مہمان خاص ایمنسٹی انٹرنشنل کے خاتون  سیگریڈ کریگ نے ادا کیں۔سیمنار  میں شرکا نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے شرکا نے بھی اس سیمنار میں شرکت کی جس میں بی آر پی جرمنی کے صدر جواد بلوچ،نائب صدر عادل بلوچ ،فنانس سیکرٹری نجیب بلوچ عبدالودود بلوچ اور نجیب شامل ہیں، اور بی آر پی جرمنی کے محمد بلوچ نے شرکا سے خطاب کیا اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔

محمد بلوچ کا کہنا تھا کہ بنگلادیش میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر حکومت پاکستان کو عالمی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے پوچھ گچھ ہوتا تو وہ آج یہ عمل بلوچستان میں نہیں دہراتا ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں خانہ جنگی سے بھی بدتریں بہران کا سامنہ ہے جو ہے بلوچ قوم کی نسل کشی اُس نے اقوام عالم سے اپیل کی کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر حکومت پاکستان سے سوال اٹھائیں اور وہاں جو کشت خون کا بازار پاکستان نے برپا کیا ہے اسے بند کرنے میں مدد دیں۔

شرکا میں پی ٹی ایم کے ریاض پیر ،بی این ایم کے حکیم بلوچ،ایف بی ایم کے بیبگر در محمد نے بھی اپنے خیالات کا آطہار کیا ۔

پروگرام کے آخر میں عاطف توقیر نے اپنا مشہور نظم “غدار” بھی پڑھ کر سنایا، جواد بلوچ نے انٹرنشنل فرینڈز آف سندھ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسطرح کے سیمنار جو محکوم قوموں کی یکجتی میں مدد دیں اور عالمی سطح پر محکوم قوموں پر ظلم جبر کو ظاھر کریں ہر وقت ہونے چایئے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close