چین میں روزے رکھنے پر پابندی

Fast-Chinaبیجنگ(ریپبلکن نیوز) رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں سرکاری ملازمین، طلباء اور بچوں پر روزے رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی سرکاری طور پر لامذہب ہے اور کافی سالوں سے صوبہ سنکیانگ میں اس نے سرکاری ملازمین اور بچوں پر روزے رکھنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ اس دوران ہوٹلوں کو بھی کھلا رکھنے کا حکم دیا گیا۔

واضح رہے کہ سنکیانگ کی آبادی 10 ملین کے قریب ہے جن میں سے زیادہ تر مسلمان اقلیت اویغور سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس خطے میں اویغور مسلمانوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑہیں ہوتی رہتی ہیں اور چین اپنے مغربی صوبے سنکیانگ میں کشیدگی کا ذمہ دار علیحدگی پسند گروپ کو ٹھہراتا ہے۔

سنکیانگ کے متعدد مقامی حکومتوں کے دفاتر نے اپنی ویب سائٹس پر رمضان المبارک کے دوران روزے رکھنے پر پابندی کے حوالے سے نوٹسز پوسٹ کیے۔

سینٹرل سنکیانگ کولا سٹی کی ویب سائٹ پر درج نوٹس میں تحریر تھا، ‘پارٹی اراکین، سرکاری ملازمین، طلباء اور بچے رمضان میں روزے نہیں رکھیں گے اور نہ ہی مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے’۔

مزید کہا گیا کہ رمضان کے دوران کھانے پینے اور مشروبات کے کاروبار بھی بند نہیں کیے جائیں گے۔

سنکیانگ کے دارالحکومت میں تعلیمی بیورو کی جانب سے چلائی جانے والی ایک ویب سائٹ پر پوسٹ کے گئے نوٹس میں رمضان کے دوران تمام اسکولوں کی جانب سے طلباء اوراساتذہ کے مذہبی سرگرمیوں کے لیے مساجد میں داخلے پر پابندی کا کہا گیا۔

دوسری جانب شمالی شہر آلٹے میں سرکاری عہدیداران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ رمضان میں بچوں کو روزے رکھنے سے روکنے کے لیے ‘والدین سے رابطہ بڑھایا جائے’۔

جلاوطن گروپ ورلڈ اویغور کانگریس کے ایک عہدیدار نے ان پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ‘چین کو لگتا ہے کہ اویغوروں کے مذہبی عقائد بیجنگ قیادت کے لیے خطرہ ہیں’۔

یاد رہے کہ اویغور قوم کی اکثریت معتدل اسلام پر عمل پیرا ہے تاہم ان میں کچھ لوگ سعودی عرب اور افغانستان میں نافذ اسلامی طریقہ کار پر کاربند ہیں جیسا کہ خواتین کا نقاب کرنا اور مردوں کا داڑھیاں رکھنا، جن کے خلاف حالیہ سالوں میں چینی سیکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤن بھی کیا۔

گذشتہ چند سالوں میں سنکیانگ میں ہونے والی کشیدگی کے باعث سینکٹروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ چینی حکومت کی جانب سے یہاں امن و امان کی خراب صورت حال کا ذمہ دار اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ مشرقی ترکستان کے نام سے ایک علیحدہ ریاست بنانے والوں کو قرار دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب چین کی اسٹیٹ کونسل نے جمعرات کو ایک وائٹ پیپر بھی جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ سنکیانگ میں مذہبی آبادی کو تاریخ کے کسی بھی دور سے نہیں ملایا جاسکتا۔

مزید کہا گیا کہ ماہ رمضان کے دوران مسلمان ریسٹورنٹس اس بات کا فیصلہ خود کریں گے کہ وہ اپنا کاروبار جاری رکھیں گے یا نہیں، اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔

وائٹ پییر میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ رمضان کے دوران مذہبی سرگرمیاں منظم انداز میں کی جاسکیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close