گوادر کو پانی فراہم نہ کرنیوالے ساحل و وسائل کا کیا دفاع کریں گے. بلوچستان نیشنل پارٹی

BNP 1کوئٹہ(ری پبلکن نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ گوادر کو پانی فراہم نہ کرنیوالے ساحل و وسائل کیا دفاع کریں گے ریکوڈک کے کک بیگز کیلئے جتن کرنے والے آج مفادات کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا کا درس دے رہے ہیں گوادر کے بلوچوں کوجدی پشتی زمینوں سے بے دخل کرکے اپنے آقاؤں اور جیلوں کے ناموں پر الاٹ کرنا قومی خدمت نہیں بی این پی پر تنقید کرنے والوں کا قصور نہیں کیونکہ بلوچی میں کہاوت ہے کہ پیسہ کا زور یا تو ہندو برداشت کر سکتا ہے یا گائے ۔اربوں کا لوٹ مار کرنے والے ذہنی طور پر بوکھلا گئے ہیں بلوچ روایات بھی بھول چکے ہیں نیشنل پارٹی کے مستونگ و پنجگور کے جلسوں میں سرکاری مشینری کا بے جا استعمال اور سرکاری ملازمین کو جلسے میں شرکت کیلئے پابند بنانا قابل مذمت ہے وڈھ کے وزراء اعلی پر تنقید کرنے والوں کیخلاف کرپشن کی تحقیقات کی جائے تو ان کے سفید ریش کے پیچھے کالا چہرہ عوام کو نظر آ جائے گا بلوچ نسل کشی اور اربوں کی کرپشن کا داغ نیشنل پارٹی سے صدیوں تک مٹ نہیں سکتا بلوچستان کے پہلے وزیراعلی کے اوپر بلا جواز تنقید اور چھوٹی منہ بڑی بات کے مترادف ہے اگر انہیں بلوچستان کے پہلے وزیراعلی کے دور میں خامیاں ڈھونڈنے کی جسارت کریں تو انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان کے آباؤاجداد بھی اس تنقید سے محفوظ نہیں رہ سکتے وہ بھی اس دور میں حکومت کا حصہ تھے بلوچستان کے ہر ذی شعور عوام کو بخوبی علم ہے کہ بلوچستان کے پہلے وزیراعلی سردار عطاء اللہ خان مینگل کی جدوجہد اور اس دور کی کامیابیوں سے انکار کرنا ممکن نہیں اگر چند لوگ جن کے ضمیر اب زندہ نہیں رہے اور بلوچوں کے مثبت روایات ، رواداری احترام کی سیاست ان کے سامنے ختم ہو چکی ہے یہ دانستہ طور پر اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی باتیں کر رہے ہیں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں بلوچستان کے عوام کے سامنے اپنی سیاسی و اخلاقی شکست سے پریشان ہیں تب ہی تو حضرات اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں انہیں یہ بھولنا نہیں چاہئے کہ من گھڑت ، غیر اخلاقی باتوں اور کسی کے مردہ باد زندہ باد سے یہ بلوچ عوام کے دل جیت سکتے ہیں نہ ہی ہمدردیاں ، سوشل میڈیا کے دور میں عوام بخوبی اس بات سے آگاہ ہیں کہ انہوں نے مشرف دور سے اب تک کیا کیا کارستانیاں دکھائیں اور اب موجودہ ڈھائی سالہ دور حکومت میں ان کا مقصد کیا رہا لفاظی باتوں اور مخبری سے قوموں کے حقوق نہیں لئے جا سکتے سیاست میں عملی جدوجہد کو اہمیت کی حامل ہوتی ہے قومیں تب ہی ترقی و خوشحال کی منازل طے کر سکتی ہیں بہت ہی پارٹیاں قوموں کیلئے جدوجہد کرتی ہیں اور بہت سے متوسط طبقے کے نام پر مال و زر کو بڑھانے کی جدوجہد کرتے ہیں مشرف دور سے اب تک ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بلوچ فرزندوں کی قتل و غارت گری میں معاون ثابت ہوں انہوں نے مستونگ کے جلسہ عام میں اپنی تقاریر میں بھی اس باتوں کا ذکر کیا کہ ہم نے بلوچستان میں سماج دشمن عناصر کو ٹارگٹ کر کے یہاں پر امن قائم کیا یہ خود ان کا اقبالی بیان ہے جنہوں نے مستونگ کے عوام کے سامنے کی تاکہ اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کر سکیں کہ ہم نے بلوچوں کی نسل کشی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور ہم وفادار ثابت ہوئے ترجمان نے کہا کہ ہم ہمیشہ بلوچستان کی سیاست میں بزرگ سفید ریش گراں قدر سیاستدانوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھا لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان کے بزرگ سیاستدان سردار عطاء اللہ خان مینگل کے خلاف زبان درازی کرنا کسی بھی زیب نہیں دیتا ان کی زندگی ، جدوجہد ، قربانیاں کھلی کتاب کی مانند ہے بلوچستان کے بلوچ عوام تاریخ خود اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کن لوگوں نے کیا جدوجہد کی اور کس مقصد کیلئے کی فیصلہ بلوچستان کے عوام خود دیں گے ہمارے اوپر تنقید کرنے والے یہ تو باتیں کہ میر غوث بخش بزنجو صاحب کو جب ون یونٹ کے دوران کوڑے مارنے یا بیس ہزار روپے جرمانہ جب سزا سنائی گئی تو اس دور میں بھی ہم ہی نے میر صاحب کیلئے جرمانہ کی رقم دی تاکہ میر صاحب کو مصائب نہ اٹھانے پڑیں لیکن یہ لوگ کہاں تھے کیا ان میں اتنی سکت تھی کہ وہ میر صاحب کے جرمانے کی رقم دیتے یا دانستہ طور پر انہوں نے خاموشی اختیار کی آج ہر شہر میں بنگلوں ، محلوں ، فیکٹریز کے مالک کیسے بن گئے ہر دور میں ان کا محور و مقصد مال کماؤ اور ایسا نام بناؤ شیوا رہا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ 90 کی دہائی میں سینٹ کے الیکشن میں اپنی ہی پارٹی ورکروں کو نظر انداز کر کے مکران سے تعلق رکھنے والے سید احسان شاہ کو لاکھوں کے عیوض پارٹی کا ٹکٹ نیلام کیا ترجمان نے کہا کہ سابق ادوار میں بھی بی اینڈ آر ، ایری گیشن میں جتنے بھی گھپلے کئے گئے اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ پٹ فیڈر کینال کے فنڈز میں جس طرح لوٹ مار کی گئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی عوام کے فلاح و بہبود کیلئے جو اسکیمیں رکھی گئیں لوٹ مار کا بازار اس دور میں بھی گرم رہا یہاں تک کہ زراعت کے تخم ، بلڈوزر گھنٹوں اور سپیئر پارٹ تک کرپشن کی نظر ہوئے تحقیقاتی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہاں بھی تحقیقات کریں جس سے وزیر موصوف کے سفید ریش کے پیچھے کالا چہرہ ضرور نظر آئے گا ترجمان نے کہا کہ کاش کہ نیشنل پارٹی کا مستونگ کا جلسہ عام اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے نہیں بلکہ مشیر کی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے نیب کے دفتر کے سامنے کیا جاتا تو بات بنتی محکمہ خزانہ میں کرپشن میں ڈھوبکیاں جن حضرات نے لگائی ان کا بوجھ فرد واحد پر ڈالنا حسب روایت اپنے آپ کو بچانے کی کوشش ہے نیشنل پارٹی کی قیادت اداکاری کے گر سے بخوبی واقف ہے انہوں نے ہمیشہ سیاست کو سودا بازی کے مقصد کیلئے استعمال کیا 1990ء کی دہائی سے جو شیروانی بنوائی تھی اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے جو تگ و دو کی ایک وزارت کیلئے ان کے ہاتھ اور چہرے خون سے رنگے ہیں بلوچستان کے بلوچ بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے بلوچ قوم کی نسل کشی ، ساحل وسائل کا کس حد تک دفاع کیا کتنی جتنیں کیں ایک وزارت کیلئے اب جا کر نصیب تو ہوا لیکن آج ان کی سیاست اور پارٹی پوزیشن کیا ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا ترجمان نے کہا کہ جلسہ عام میں بلند و بالا دعوؤں سے مسائل حل نہیں ریکوڈک ، سیندک اور بلوچستان کے ساحل و سائل کیلئے انہوں نے جتنی جدوجہد کی وہ عوام کے سامنے ہے ریکوڈک کو بیچنے کیلئے کک بیگز کے حصول اور ریکوڈک کے وسائل کو شیر مادر سمجھ کر کک بیگز اور ڈالر کے حصے مختص کئے گئے تھے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں بحر بلوچ کی ساحلی پٹی پر بلوچ ہزاروں سالوں سے آباد ہیں ان کے آباؤاجداد کی زمینوں کو سرکاری زمینیں قرار دے کر اپنے عزیزوں ، ترجمانوں اور غیر بلوچستانیوں کے ناموں پر الاٹ کرنا یہ کونسی بلوچ خدمت ہے کہ جدی پشتی زمینوں سے بلوچوں کے بے دخل کر کے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کی جائے کیا اس طریقے سے انہوں نے ساحل بلوچ کی حفاظت کی ؟ ترجمان نے کہا کہ گوادر میں بلوچوں کی زبوں حالی ، پورٹ کے اختیارات بلوچستان کو دینے ، بلوچ تہذیب و تمدن تاریخ و تشخص کو بچانے کیلئے کبھی بھی راہداری روٹ پر انہوں نے لب کشائی ، بلوچ مفادات کو خاطر میں لائے اس لئے اس ملک کے حکمران اور اہل دانش یہی سمجھ بیٹھے کہ گوادر کا مسئلہ مغربی روٹ ہے انہوں نے غیر بلوچ پارٹیوں کو خوش کرنے کیلئے اپنے ضمیر کا سودا کیا اور چھپ سعد دی تھی گوادر کے بلوچوں کو نیشنل پارٹی والے پانی تک فراہم نہیں کر سکے تو کیسے ساحل وسائل پر ہاتھ صاف کرنے والوں کا راستہ روکیں گے ترجمان نے کہا کہ گوادر سے متعلق بی این پی نے گوادر کے بلوچوں کے مفادات کی حفاظت کیلئے اجلاس بلایا تھا ان میں تمام مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا تاکہ بلوچ اپنی سرزمین ، تہذیب و تاریخ و تمدن کو برقرار رکھ سکیں اس سے قبل جتنے بھی آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئے اس میں سردار اختر جان مینگل ، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے آواز بلند کی اور پارٹی کا قومی معاملات میں واضح موقف ہے جبکہ نیشنل پارٹی کے حضرات نے وہاں پر خاموشی کو جان کی امان گردانہ کیا اس طریقے سے بلوچوں کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے ان کے دور حکمرانی میں بلوچ قومی مفادات کو ٹھیس پہنچایا گیا اس کا ہر بلوچ کو بخوبی علم ہے کہ انہوں نے غیر بلوچوں کے کہنے پر افغان مہاجرین کے بلاک شدہ شناختی کارڈز کے اجراء کیلئے صوبائی و قومی اسمبلی میں آواز بلند کر کے سہولت کار کا کردار ادا کیا جبکہ سندھ ، پنجاب ، خیبرپختونخواء اور مرکزی حکومت کی پالیسی واضح تھی کہ ان کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے لیکن ان کے ڈھائی سالہ دور میں انہوں نے اتحادی جماعت کی ایماء پر اس متعلق کوئی پالیسی واضح نہیں کرے گی جو ان کی نااہلی اور اپنی حکمرانی کو دوام دینے کی کوشش تھی لسانی جماعت کی ناراضگی مول نہیں سکتے تھے ترجمان نے کہا کہ سردار اختر جان مینگل کے دور حکمرانی میں کم وسائل کے باوجود 24اضلاع کے ملازمین کو 40فیصد الاؤنس دینا عوامی خدمت سے کم نہیں آج جو بلوچستان میں سیاست کے بلند و بالا دعوے کر رہے ہیں یہ بتائیں کہ عوامی خدمت کرپشن کرکے کی جا سکتی ہے یا عوام کی فلاح و بہبود کیلئے عملی جدوجہد کر کے ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker