ریاستی اداروں کے نئے حربے اور بلوچ قومی تحریک (تحریر: عابد بلوچ)

کوئٹہ /مضمون(ریپبلکن نیوز) بلوچ قومی تحریک پاکستان کے خلاف اُس وقت اُبر کر سامنے آئی  جب 27 مارچ 1948 کو پاکستانی دہشتگرد فوج نے بلوچ سرزمین پر بزور طاقت اپنا قبضہ جمالیا، اُسی دن سے پاکستانی ریاست کو بلوچوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔اور یہ مزاحمت  مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں ابر کر سامنے آتا رہا۔

پاکستانی قابض ریاست نے اس تحریک کو مختلف طریقوں سے کمزور کرنے کی کوششیں کیں، کبھی اسلام کا مقدص نام استعمال کر کے تو کبھی قرآن پاک کا نام سہارا لیکر۔ لیکن اکسیویں صدی کے شروع سے اس تحریک میں ایک نئی جان آگئی جب پہلی بار بلوچ تحریک میں فردوں کے بجائے قومی اداروں کا وجود سامنا آیا اور قومی اداروں نے قومی فیصلوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا، اور ان اداروں کی جڑیں قوم میں پوست ہونے لگیں۔اور پاکستانی ریاست کے لیے ان اداروں کا سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔

ریاستی اداروں نے بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کے لیے ہر طرح کے عربے آزمائے لیکن اس کے باوجود یہ عوامی تحریک اپنی منزل کی جانب بڑھتا رہا ہے۔ تمام تر کوششوں میں ناکامی کے بعد ریاستی عسکری اور سیاسی اداروں نے بلوچوں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے نام نہاد قوم پرست تنظیموں کو ہر ممکن مدد کر کے انہیں پاکستانی پارلیمنٹ تک رسائی دی، تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جائے بلوچ اتنے ہی محب وطن پاکستانی ہیں جیسے کہ دیگر صوبوں کے رہنے والے باشندے۔

اسی طرح ریاستی اداروں نے نیشنل پارٹی کو ہر ممکن مدد کرتے ہوئے اسے بلوچ نسل کشی میں اپنے ساتھ ملا لیا،اور اس کے بدلے میں نیشنل پارٹی کو ہر قسم کے مراعات سے نوازا گیا۔ اس میں دو رائے بالکل نہیں ہوسکتے کہ بلوچوں کی نسل کشی میں نیشنل پارٹی اور اسکے اتحادی برابر کے شریک ہیں۔ جس کی مثال ہمیں گزشتہ سال نیشنل پارٹی اور لشکرِ خراسان کے گڈجوڑ سے ملتی ہے۔

ریاستی پالیسی پر کام کرتے ہوئے نیشنل پارٹی نے اپنے چند لوگ بلوچ آزادی پسند قومی اداروں میں شامل کیئے۔ تاکہ وہ آزادی پسندوں کی صفوں میں شامل ہوکر قومی تحریک اور آزادی پسند اداروں کو اندر سے کمزار کر سکیں۔اور یہ لوگ بہت سے دوستوں کی مخبری کرنے اور انہیں ریاستی قابض فورسز کے ہاتھوں میں شہید کروانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

اب بلوچ آزادی پسند قیادت ، خاص طورپر مسلح تنظیموں کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاتے ہوئے بھرتی کے سلسلے میں اپنی پالیسی سخت کرنی ہوگی۔کیونکہ اگر ہم صرف تعداد بڑانے پر توجہ دیں گے تو ہماری صفوں میں ایسے لوگ آتے رہے گے جس سے قومی تحریک کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا پڑ سکتا ہے۔

ریاستی ادارے اپنی تمام تر سرتھوڑ کوششوں کے باوجود بلوچ قومی تحریک کو کچلنے میں بُری طرح ناکام رہے ہیں، لیکن اگر ہم خود سازشوں کو نہ سمجھتے ہوئے ہر کسی کو اپنے صفوں میں شامل کرنے  لگ جائے تو ریاستی ادارے اپنے مزموم عزائم میں کامیاب ہوجائے گےاور اسکا سہرا بھی ہمارے سر جائے گا کیونکہ ریاستی عسکری اداروں سے زیادہ ہمارے اپنے ہم زبان، جو ریاستی اداروں کے معاونتکار ہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کی پہچان کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروائے کار لانا ہوگا اور ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جس سے ریاستی لوگوں کو قومی تنظیموں میں شامل ہونے سے روکھا جا سکے۔

تحریر: عابد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون اور لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker