کوئٹہ: پولیس کی وحشانہ تشدد سے نواجوان ہلاک

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ کا رہائشی اٹھائیس سالہ نوجوان پولیس کے مبینہ تشدد سے جاں بحق ہوگیا۔ ورثاء نے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر سول ہسپتال کے سامنے احتجاج کیا۔متوفی کے بھائی غلام فاروق نے بتایا کہ اس کے بھائی فضل احمد کی ایک سال قبل ہی شادی ہوئی تھی اور وہ ایک بچے کا والد تھا۔

وہ مشرقی بائی پاس پر ایک کریش پلانٹ میں منشی کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ منگل کی صبح کریش پلانٹ کے کسی کام سے گاہی خان چوک گیا جہاں سے واپس آتے ہوئے راستے میں ایک جاننے والے شخص کو موٹرسائیکل پر لفٹ دی۔ ہزارگنجی کے قریب ایگل اسکواڈ کے اہلکاروں نے انہیں روکا اور تلاشی لی تو پیچھے بیٹھنے والے شخص سے پستول برآمد ہوا جس پر پولیس نے دونوں کو گرفتار کرکے تھانہ شالکوٹ منتقل کیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے بھائی کو پورا دن برہنہ کرکے لٹکائے رکھا اور ان پر شدید تشدد کیا۔ جب زیادہ حالت خراب ہوگئی تو پولیس نے انہیں رہا کردیا۔بھائی کی حالت پوری رات انتہائی خراب رہی اور صبح تک درد سے تڑپتے رہے۔

صبح وہ اچانک گھر گئیانہیں نجی ہسپتال پہنچایا تو انہوں نے سول ہسپتال لے جانے کا کہا۔ سول ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کے بھائی کی موت ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کی موت پولیس کے بہیمانہ تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے۔

سول ہسپتال کے شعبہ حادثات کے ڈاکٹر نے بھی تصدیق کی کہ متوفی کے پیٹھ اور کولہو وں پر شدید تشدد کے نشانات ہیں تاہم اس کی موت تشدد سے ہوئی ہے یا نہیں اس کی حتمی تصدیق پوسٹمارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہوگی۔

تشدد کے نشانات کی تصدیق ہونے کے بعد پولیس سرجن نے ورثاء کی درخواست پر فضل احمد کے لاش کا پوسٹ مارٹم کیا۔ سول ہسپتال پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ مختلف نمونے حاصل کرکے فارنزک لیب کو بجھوادیئے گئے ہیں جن کی رپورٹ آنے میں چند دن لگیں گے۔ رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ پتہ چلے گی۔ فضل احمد کے بھائی اور دیگر رشتہ داروں نے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر سول ہسپتال کے سامنے احتجاج کیا۔

ان کا مطالبہ تھا کہ فضل احمد کو تشدد کرکے جان سے مارنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرکے انہیں انصاف دلایا جائے۔ ایس پی سٹی اور دیگر حکام نے ان سے مذاکرات کئے اور یقین دلایا کہ پوسٹمارٹم رپورٹ میں تصدیق کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ایس ایچ او شالکوٹ قادر قمبرانی نے بتایا کہ فضل احمد سمیت دو افراد کو اسلحہ برآمد ہونے پر ایگل سکواڈ نے شالکوٹ پولیس کے حوالے کیا تھا۔ اسلحہ لائسنس یافتہ ہونے کا ثبوت جمع کرانے کے بعد دونوں افراد کو رہا کردیا گیا تھا انہوں نے دوران حراست تشدد کے الزام کو مسترد کیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close