برلن؛ نواب براہمدغ بگٹی کی پناہ کی درخواست رد کرنے، مہران مری پر پابندی کے خلاف، بی آر پی و بی این ایم کا مشترکہ احتجاج

مظاہرے میں فری بلوچستان مومنٹ کے کارکنان نے بھی شرکت کی

پ ر (ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی اور بلوچ نیشنل مومنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے دونوں جماعتوں کی طرف سے جرمنی کے شہر برلن میں سوئٹزرلینڈ کے سفارتخانے کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرے کا مقصد سوئس حکام کی جانب سے نواب براہمدغ بگٹی کی سیاسی پناہ کو رد کیئے جانے اور مہران مری کا سوئس سرزمین پر داخلے پر پابندی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سوئس حکام پاکستانی ریاست کے من گھڑت الزامات کے بجائے اپنا نمائندہ بلوچستان بھیج کر وہاں کے حالات کا بغور جائزہ لیں اور دیکھیں کہ بلوچستان میں عام بلوچ کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جارہا ہے اور پھر فیصلہ کریں۔ بلوچ رہنماؤں نواب براہمدغ بگٹی اور نواب مہران مری کا جدوجہد پاکستانی مظالم کے خلاف ہے۔ پاکستان کے الزامات میں ذرہ بھر صداقت نہیں۔ پاکستان اپنی دہشت گردانہ پالیسئواور بلوچستان میں مظالم کو چھپانے کیلئے بلوچ رہنماؤں پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نواب براہمدغ بگٹی ایک سیاسی رہنما ہے ہزاروں لوگ ان کی پارٹی سے منسلک ہیں جو لاکھوں بلوچوں کی نمائدگی کررہے ہیں۔ بی این ایم اور بی آر پی کے مرکزی رہنماؤں اور کارکنوں کو پاکستانی افواج نے جبری لاپتہ کرنے کے بعد قتل کر کے پھنک دیا ہے، بیان میں سوئس حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں پر دنیا کی سب سے بڑے مزہبی دہشت گردوں کو پناہ دی جاتی ہیں جن میں اسامہ بن لادن، ملا منصور، ملا عمر، حافظ سعید سمیت درجنوں بدنام زمانہ دہشت گرد گروپ اور ان کے سربراہان شامل ہیں ایسے ملک کے دباؤ میں آکر اپنی تاریخی غیرجانبداری کو ایک طرف رکھ کر مظلوم بلوچ قوم کے لیڈروں کے خلاف سفری پابندیاں اور سیاسی پناہ کو نہ دینے جیسے اقدامات سوئٹزرلینڈ اور یورپ کے قدیم تاریخی روایات کے برعکس ہیں، مشترکہ بیان میں سوئس حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ نواب براہمدغ بگٹی کے سیاسی پناہ کی درخواست پر ایک بار پھر سے غور کریں اور ان کی سیاسی پناہ کو قبول کیا جائے تاکہ وہ اپنی قوم کی آواز بن کر اُن پر ہونے والے مظالم کے خلاف دنیا کو بہتر انداز میں آگاہی دے سکے۔ بیان میں قوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سیشن میں پاکستان کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی پر مسلسل آواز اٹھانے پر نواب مہران مری کے خلاف پاکستان کی ایما پر سفری پابندیا عائد کرنے کے فیصلے کو یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا گیا اور سوئس حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ ان پر عائد سفری پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرے میں فری بلوچستان مومنٹ کے کارکنان نے بھی شرکت کی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close