بلوچ نیشنل موومنٹ نے ماہ اکتوبر کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ نے اکتوبر کے مہینے کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس مہینے ریاستی فورسز نے46 سے زائد فوجی آپریشنز اور چھاپوں میں،دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 155 افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا جبکہ فورسز ہاتھوں لاپتہ کیے جانے والے افراد کی تعداد اکتوبر کے ماہ اس سے بھی زائد ہے ،مگر یہ تعداد وہ ہیں جنکی تفصیل بی این ایم کے پاس موجود ہیں۔فورسز نے دوران آپریشن سو سے زائد گھروں میں دھاوابول کر وہاں موجود تمام قیمتی اشیاء اپنے ساتھ لے گئے اورایک درجن سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا ۔ صرف جھاؤ کے مختلف علاقوں سے فورسز نے 54 افراد کو ملٹری کیمپ منتقل کرکے لاپتہ کر دیا ہے۔اسی ماہ33 نعشیں ملیں جس میں6 بلوچ فرزند ریاستی آپریشنز میں شہید ہوئے جبکہ دو لاشیں ناقابل شناخت تھیں۔دس افراد کے قتل کی وجوہات سامنے نہ آ سکے جبکہ جھل مگسی میں آئی ایس آئی کے زیر دست مذہبی شدت پسندوں کے حملے میں16 افراد جابحق ہوئے۔بلوچستان بھر میں دوران فوجی آپریشن آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا اور بڑی تعداد میں لوگوں کے مال مویشی بھی لوٹ لئے۔بلوچستان میں آئے روز فورسز کی آپریشنز شدت کے ساتھ جاری ہیں جو ایک تاریخی المیہ ہے۔میڈیا بلیک آوٹ کی وجہ سے بلوچستان کے زمینی حالات دنیا کے مجاذ اداروں تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں نو کمسن بچوں و طلباء کو فورسز نے کھلے عام اغوا کرکے لاپتہ کیا مگر یہ خبر کسی بھی اخبار یا نیوز چینل میں جگہ نہ پا سکی جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

1 اکتوبر
۔۔۔۔پاکستانی فوج نے تربت میں ریاستی مظالم و آپریشن کی پردہ پوشی کیلئے انٹر نیٹ سروس آٹھ مہینوں سے معطل کی ہوئی ہے ۔ آٹھ مہینوں سے تربت میں خفیہ ادارے نے موبائل کمپنیوں کو انٹر نیٹ سروس کی فراہمی سے روک رکھا ہے۔ انٹر نیٹ سروس کی معطلی سے پہلے تربت سمیت دشت بلیدہ ہوشاپ اور نواحی علاقوں میں آپریشن کے دوران بلوچ مخلوق پر تشدد ، گھر بار جلانے حتی کہ نوجوانوں کو براہ راست قتل کرنے کے کئی ایک ویڈیوز لیک ہوئے تھے جس کا بلوچ تنظیموں سے وابستہ سیاسی کارکنوں نے انٹر نیٹ میں بھر پور استعمال کرتے ہوئے ریاست کی ننگی جارحیت دنیا کے سامنے دکھادیا۔ اس کی وجہ سے فوجی اداروں کو بلوچستان میں مظالم بلوچ عوام پر ننگی جارحیت اور آپریشن کے الزامات کی حقائق سے منہ چھڑانے کا کوئی راستہ نہیں نہ ملا ۔اسی سبب خفیہ اداروں نے انٹر نیٹ کی فراہمی پر بندش لگا کر تمام موبائل کمپنیوں کو سختی سے تھری اور فوری انٹر نیٹ سروس مکمل معطل کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد سے تاحال تربت میں بلوچ مخلوق جدید دنیا سے کٹے رہنے پر مجبور ہیں۔

۔۔۔۔ ضلع کیچ کے علاقے تجابان میں ایک گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر گھر کے قیمتی اشیا لوٹ لئے اور سرکاری ملازم ہیڈ ماسٹر ناصر ولد جمعہ کو حراست میں لیکرنامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

2 اکتوبر
۔۔۔۔حب کے علاقے محمد گوٹھ میں گذشتہ شب پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے بلوچوں کے عبادت گاہ ذکرخانہ پر اس وقت حملہ کیا جب وہ چوگان کے عبات میں مصروف تھے ۔فورسز نے عبادت میں مصروف افراد کو تشدد کا نشانہ بناکر زبیر ولد یار محمد اور زفیر ولد یارمحمد نامی دو بھائیوں کو حراست میں لیکر لاپتہ اپنے ساتھ لے گئے ۔بعد ازاں زفیر کو بری طرح تشدد کا نشانہ بناکر زخمی حالت میں چھوڑ دیا جبکہ زبیر تاحال لاپتہ ہیں۔

3 اکتوبر
۔۔۔۔دشت و حب سے فورسز ہاتھوں 2افراد حراست بعد لاپتہ، ۔اسی طرح پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے دشت کھڈان میں آپریشن کرکے سمیر ولد مراد جان نامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیاہے ۔
۔۔۔۔ کیچ بس اسٹاپ سے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جہانزیب اور حفیظ نامی دو افراد جنکا تعلق کوہاٹ تمپ سے تھا حراست بعد لاپتہ کردیا ہے۔

4 اکتوبر
۔۔۔۔کیچ پاکستانی فورسز نے دو افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا، بدھ کے روز تربت ہسپتال سے پاکستانی فورسز نے مولا بخش ولد محمود سکنہ پل آباد تمپ کو حراست بعد لاپتہ کردیا،جبکہ کچھ روز قبل پاکستانی فورسز نے تربت سے پسند ولد ابراہیم سکنہ گورکوپ کو حراست بعد لاپتہ کردیا تھا،جو روزگار کے لیے دبئی جانے والا تھا۔

۔۔۔۔ڈیرہ بگٹی،کوہستان مری کے درمیانی علاقوں نشاؤ،جنت علی و گرد نواع میں پاکستانی فوج کا زمینی و فضائی آپریشن۴ روز بھی جاری ہے،پہاڑی علاقوں سے درجنوں افراد کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے آرمی کیمپ منتقل کر دیا گیا ہے،جبکہ گھروں میں لوٹ مار بعد درجنوں گھر وقصبے مسمار کر دئیے گئے ہیں،جبکہ مال مویشیوں کو بھی لوٹا گیا،
۔۔۔۔گزشتہ روز دوران آپریشن کے پہلے روز ڈیرہ بگٹی اور مری علاقے کے درمیان دو بگٹی بلوچوں کو شہید کیا گیا تھا ،جنکی شناخت لال بگٹی اور تاجا بگٹی سے ہوئے تھے۔ دوران آپریشن بری تعداد میں خواتین و بچوں کے بھی زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔
۔۔۔۔کراچی سٹی میں ایک ہوٹل کے اندر سے پاکستانی خفیہ اداروں و پولیس نے مند کے رہائشی فٹبالر کیپٹن اکرم راہی اور انکے ساتھ ایک اور شخص کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔تاہم دوسرے شخص کی شناخت نہ ہو سکی۔

۔۔۔۔گوادر فورسز نے اسکول ٹیچر کو حراست بعد لاپتہ کردیا، گزشتہ رات پاکستانی فورسز نے گوادر کے علاقے فقیر کالونی میں ایک گھر پر دھاوا بول خواتین و بچوں کو حراساں کرنے کے ساتھ گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو لوٹا اور وہاں موجود ماسٹر عیسیٰ نامی شخص کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

۔۔۔۔ گذشتہ شب ضلع گوادر کے علاقے پسنی کے وارڈ نمبر 6میں ایک گھر پر پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر میران ولد صوالی نامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے ۔ میران ولد صوالی کا تعلق شہید صدیق عیدو فیملی سے ہے اور اس سے قبل اس کے ایک بھائی کو بھی لاپتہ کیاگیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا تھا۔

5 اکتوبر۔۔۔۔کیچ کے علاقے مند،گوک میں فورسز کے ہاتھوں ہونے والے عطااللہ ولد میار، حیدر ولد شاہ میر کے خاندان والوں کا مند آرمی کیمپ کے سامنے احتجاج۔
۔۔۔۔۔۔۔۔جعفر آباد سے ایک شخص کی لاش برآمد، جعفر آباد پولیس تھانہ کیٹل فام کی حدود گوٹھ نظام الدین مستوئی کی قریب نوجوان کی لاش برآمد، جس کی شناخت عبدالرحیم کے نام سے ہوئی ہے ۔

6 اکتوبر
۔۔۔۔جھاؤ کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج نے جمعہ کی صبح سے فوجی آپریشن شروع کیا۔

8 اکتوبر
۔۔۔۔ ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں دونوں افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے، لاشوں کی شناخت عامر اور شعیب کے ناموں سے ہوا ہے۔
۔۔۔۔آواران،گچک پاکستانی زمینی و فضائی فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت ،آپریشن کا خدشہ

9 اکتوبر
۔۔۔۔۔کیچ کے علاقے دشت سے فورسز ہاتھوں3افراد حراست بعد لاپتہ ، دشت کرک میں مراد ولد حسن نامی کے گھرپر چھاپہ مار کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔گھرمیں توڑ پھوڑ کی اور قیمتی اشیا لوٹ لئے ،جبکہ مراد ولد حسن کو ان کے دو بیٹوں زاہد ولد مراد اور راشد ولد مراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے ۔
10 اکتوبر
۔۔۔۔۔خضدار فورسز نے ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ ، گزشتہ شپ پاکستانی فورسز نے خضدار سے ایک شخص راشد صالح زئی لو حراست بعد لاپتہ کردیا جو زہری کا رہائشی بتایا جاتا ہے،مزکورہ شخص نے دو روز قبل بازار میں ثناہ زہری کے خلاف بات کی تھی۔
11 اکتوبر
۔۔۔۔کلیرہ دشت سے زباد ولد دوست محمد اغوا۔
۔۔۔۔آواران کے تحصیل جھاؤ میں ملٹری آپریشن کے دوران کئی افراد کو پاکستانی فوج نے اُٹھا کر لاپتہ کیا۔ جن میں سے کچھ نام یہ ہیں۔ مجید ولد گل محمد، اللہ بخش ولد سبزو، اسحاق ولد بھرو، جمعہ ولد مبارک، اللہ بخش ولد علی محمد، اللہ بخش ولد روزی، دل مراد ولد رحمت، نزیر ولد خدا بخش، قمبر ولد مرید، کمعہ ولد لعل بخش، نوربخش، ولد پیر محمد،علی محمد ولد دلد سردو، نصیر ولد محمد، ریاض جان ولد محمد،
۔۔۔۔الطاف ولد ریاض احمد سنٹ سر پجگورسے اغوا،
۔۔۔۔گمانی ولد خدا بخش اور حکیم ولد در محمد وندر ضلع لسبیلہ سے اغوا۔
۔۔۔۔شعیب ولد لطیف جو ہ سر آواران سے اغواء۔

12 اکتوبر
۔۔۔۔آواران مادہ کلات سے پندرہ ستمبر کو اغوا ہونے والے ناصر ولد شیر جان، ظریف ولد علی، حمید ولد بشیر، عبدالغنی ، صوال جان ولد شیہک، چاکر ولد شیہک، عطا ولد اللہ بخش، علی ولد اللہ بخش، بازیاب اور رہا ہوئے۔
۔۔۔۔مند میں فورسز ہاتھوں گاڑی مسافروں سمیت لاپتہ ،بروزجمعرات کو کیچ کے علاقے مند میں دوکوپ کے مقام پر پاکستانی فوج کے چیک پوسٹ پر ایک پک اَپ مسافرگاڑی کو فورسز نے روک دیا جس کے بعد گاڑی کو مسافر سمیت کیمپ منتقل کردیا گیا۔دو تین گھنٹے کے بعد فورسز نے گاڑی میں سوار توام مسافروں کو چھوڑ یا جبکہ گاڑی کی ڈرائیور اور کلینر تا حال لاپتہ ہیں۔
۔۔۔۔مشکے تین سال بعد دو افراد ریاستی عقوبت خانوں سے بازیاب، گزشتہ روز مشکے کے رہائشی،ماجد ولد ولد اسلم ساجدی اور تیمور ولد نعیم ساجدی بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے،واضح رہے کہ تین سال قبل پاکستانی فورسز نے دو افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا تھا۔۔
۔۔۔۔وندر پاکستانی فورسز ہاتھوں دو افراد حراست بعد لاپتہ، پاکستانی فورسز نے وندر میں ایک گھر پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ستر سالہ گمانی ولد حدا بخش اور حکیم ولد در محمد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔
۔۔۔۔پنجگور سے فورسز ہاتھوں ایک شخص حراست بعد لاپتہ، گزشتہ روز پنجگور بازار سے پاکستانی فورسز نے ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ کردیا جنکی شناخت الطاف ولد ریاض سکنہ پنجگور سے ہوئی ہے۔
۔۔۔۔مشکے حراستی قتل عام جاری،ایک بلوچ شہید، مشکے سے ایک لاش برآمد ہوئی ،جسکی شناخت محمد بخش سے ہوئی جسے پاکستانی فوج نے پانچ روز قبل حراست بعد لاپتہ کر دیا تھا۔
۔۔۔۔آواران پاکستانی فوج نے مزید دو چوکیاں قائم کر لیں، آواران کے علاقے کولواہ میں آشال اور رودکان کے مقام پر پاکستانی زمینی فوج نے مزید دو چوکیاں قائم کر لی ہیں ،اس دوران زمینی فوج کے ساتھ دو گن شپ ہیلی کاپٹر بھی فضا میں گشت کرتے رہے،واضح رہے کہ آواران،کولواہ میں اس وقت پاکستانی فوج کی 25 سے زائد چوکیوں سمیت ۷آرمی کیمپ بھی موجود ہیں۔
۔۔۔۔تمپ فورسز کے زیر حراست ایک بلوچ بازیاب،تمپ گومازی کے رہائشی شیر محمد آج بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا جسے کچھ روز قبل پاکستانی فورسز نے گومازی شنکن آپریشن کے دوران لاپتہ کردیا تھا۔

13 اکتوبر
۔۔۔۔ پاکستانی فوج نے تمپ ،سرنکہن فوج کا آپریشن،آبادی میں موجود تمام مرد،نوجوان،بزرگ،بچے حراست بعد ملٹری کیمپ منتقل، جمعہ کے روز تمپ کے علاقے سری کہن میں آبادی پر دھاوا بول کر گھروں میں لوٹ مار کی اور خواتین کو حراسان کرنے کے ساتھ علاقے میں موجود تمام مرد حضرات سمیت چند کمسن بچوں کو ملٹری کیمپ منتقل کردیا،بعد تشدد شام کو سب افراد کو چھوڑ دیا گیا۔
۔۔۔۔ گزشتہ روز تربت بازار سے مند گوبرد کے رہائشی پیک اپ ڈرائیور حمید ولد محراب کو فورسز نے اغوا کر لیا۔
۔۔۔۔گوادر فورسز نے ایک نوجوان کو حراست بعد لاپتہ کردیا،کستانی فورسز نے گوادر کے شہر فقیر کالونی میں ایک گھر پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو حراساں کرنے کے ساتھ گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو لوٹا اور وہاں موجود ایک نوجوان فدا ولد رحیم بخش کو حراست بعد لاپتہ کردیا۔
۔۔۔۔جمعہ کودکی کے علاقے لونی میں کلی مرجانزئی میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے داد محمد نامی شخص کو قتل کردیا او رموقع سے فرار ہوگئے۔ وجہ معلوم نہ ہو سکی۔
پولیس نے لاش کو تحویل میں لیکر ہسپتال منتقل کردیا جہاں ضروری کاروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی گئی ۔
۔۔۔۔مستونگ میں چلتن کے پہاڑوں سے منگچر کے رہائشی نوجوان دین محمد ولداحمد سمالانی کی لاش برآمد ہوئی مقتول کو سرمیں گولی مار کر قتل کیاگیاہے مقتول کے بھائی کے مطابق مقتول 2 دن قبل دوستوں کے ساتھ شکار کیلئے نکلا ،قتل کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔
۔۔۔۔ضع کیچ کے علاقے دشت میں پاکستانی فوج نے ایک گھر پر چھاپہ مارکر خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر بہرام ولد محمد حیات نامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔
۔۔۔۔آواران کے علاقے جوسر میں سید عیسیٰ زیارت کے مقام پر فورسز نے آپریشن کرکے شعیب ولد لطیف نامی ایک نوجوان کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔آپریشن کے دوران فورسز نے اسماعیل نامی ایک شخص کے گھر میں خواتین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایااور گھر کے قیمتی سامان لوٹ لئے ، اسماعیل نامی شخص کو پاکستانی فورسز پہلے بھی دو بار لاپتہ کرچکی ہے جبکہ اس کا بیٹا امین اب بھی ریاستی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔
۔۔۔ ضلع کیچ کے علاقے مند میں پاکستانی فوج نے مقامی ہسپتال کو محاسرے میں لیا ، جبکہ تردان ڈن کے علاقہ بھی فورسز کے محاصرے میں ہے ۔

14 اکتوبر
۔۔۔مشکے النگی میں پاکستانی فوج کا آپریشن ، 26افراد حراست بعد لاپتہ ۔ النگی میں آج علی الصبح پاکستانی فوج نے آبادی کا محاصرہ کرکے 20سے زائد افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا ہے ۔ فورسز نے خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی گھروں کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کردیا ہے ۔

15 اکتوبر
۔۔۔تمپ میں فورسز ہاتھوں ایک شخص حراست بعد لاپتہ ، بروز اتوار کو علی الصبح پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ کونشقلات میں ایک گھر پر چھاپہ مارکر چادرو چاردیواری کی تقدس کوپامال کرتے ہوئے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر کے قیمتی اشیا کو لوٹ لیا جبکہ راشد ولد درویش نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے جو تاحال لاپتہ ہیں۔
۔۔۔مند سے فورسز ہاتھوں لاپتہ6افراد بازیاب ، بروز اتوار کو پاکستانی فوج کیٹارچرسیلوں سے مند کے 6افراد بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ۔جنہیں دو دن قبل پاکستانی فوج نے مند گوبرد میں ایک آپریشن کے دوران حراست بعد لاپتہ کیا تھا۔جبکہ مذکورہ آپریشن میں ٹوٹل 12افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا لیکن صرف 6کو چھوڑ دیا گیا اور باقی6اب بھی فورسز کے اذیت خانوں میں غیر انسانی تشدد سہ رہے ہیں۔ بازیا ب ہونے والے افراد کی شناخت انور ولد رضا، سلمان ولد انور رضا،سمیر ولد
فناصر،ماسٹر اسلم ولد محمد حسن ،خالد ولد عبدالقادراور درمحمد ولد حیاتان کے ناموں سے ہوگئی ۔امجد ولد جلال اورباقی 5مزدور وں کی فی الحال کوئی خیر خبر نہیں ہے ۔
16 اکتوبر
۔۔۔پاکستانی فوج نے گچک میں مزید تین چوکیاں قائم کردیں،،ایک چوکی گچک کہن میں قائم مدرسے میں قائم کیا گیا،جبکہ ایک چوکی گچک،سیاہ دمب میں اور ایک چوکی عین اسی جگہ قائم کی گئی جہاں پاکستانی فوجی کرنل عامر وحید مارا گیا تھا،مذکورہ چوکی کا نہ بھی کرنل عامر سے منصوب کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔جھل مگسی میں درگاہ پر خود کش حملہ، اہلکاروں سمیت16 جاں بحق
۔۔۔۔ بروز پیر کو علی الصبح پاکستانی فوج نے سی پیک روٹ سے منسلک ضلع کیچ کے علاقے دشت شولیگ میں آپریشن کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا،گھروں کے قیمتی اشیا لوٹ لئے اور 3افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ۔جن کی شناخت حمید ولد عبدالقادر ، نویدولد عبدالرحمان اور بشیر ولد حمزہ کے ناموں سے ہوگئی جبکہ بشام ولد اسماعیل نامی ایک شخص کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر بعد ازاں چھوڑ دیا گیا۔
۔۔۔۔ گذشتہ شب ڈیرہ بگٹی کے علاقے زین کوہ میں فورسز نے ایک گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا،گھرکے قیمتی اشیا لوٹ لئے اور دو افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شاخت علی حسن بگٹی اور شاہ مراد بگٹی کے ناموں سے ہوگئی ۔
۔۔۔۔مستونگ میں آپریشن ،2افراد حراست بعد لاپتہ ،پاکستانی فورسز کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان کے مطابق فورسز نے مستونگ کے مختلف علاقوں کلی پہلوان زئی اور اسپلنجی میں سرچ آپریشن کے دوران 2 مشتبہ افراد محمد امین اور محمد ابراہیم کو حراست میں لے کر ان کو نامعلوم مقام منتقل کردیا۔
۔۔۔۔پاکستانی فوج نے دشت کے علاقے بل نگور جتانی بازار سے 2کمسن لڑکوں کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شناخت صغیر ولد حاصل اور نعیم ولد علی اکبر کے ناموں سے ہوگئی ۔ دونوں لڑکے پہاڑوں سے بھیڑ بکریوں کیلئے گھاس اکھٹا کرنے گئے تھے کہ فورسز نے انہیں حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے ،۔
۔۔۔۔ میرانی ڈیم سے فورسز نے ایک چرواہے کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جس کی شناخت مجیب ولد شمبے کے نام سے ہوگئی مجیب نامی چرواہا اپنے بکریوں کو گھاس چرارہا تھا کہ فورسز نے انہیں حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ۔
۔۔۔۔ پسنی سے 9ستمبر کو فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے نودین کریم آج گوادر سے بازیاب ہوگئے ۔واضع رہے کہ نودین کریم لاپتہ بولان کریم کا چھوٹا بھائی ہے اور بولان کریم گذشتہ کئی سالوں سے لاپتہ ہے ۔ بولان اور نودین کے والد کریم بلوچ گذشتہ دو تین سالوں سے دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور گذشتہ دو مہینے قبل سرکار کے ساتھ مک مکاؤ کرکے واپس آگئے اور پہلے گوادر پہنچ کر فورسزکیمپ میں پیش ہوگئے اور بعد ازاں اپنے گھر پسنی پہنچ گئے لیکن اس کے بیٹے بولان کریم تاحال لاپتہ ہیں اور کریم بلوچ کے سرنڈر کرنے کے ایک مہینے بعد اس کے دوسرے بیٹے نودین کو فورسز نے پسنی سے حراست بعد لاپتہ کردیا تھا جو آج بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔
17 اکتوبر
۔۔۔۔تمپ : ملانٹ میں فورسز کا گھر پر حملہ ،۱یک شخص حراست بعد لاپتہ، ضلع کیچ کے علاقے تمپ ملانٹ میں پاکستانی فوج نے آج بروزمنگل کو ایک گھر پر حملہ کرکے چادرو چاردیواری کی تقدس کو پامال کیا اور خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر شاکر نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔جبکہ آپریشن دوران فورسز نے گھر کے تمام قیمتی اشیا سمیت 2موٹر سائیکل کو لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئے ۔
۔۔۔۔تمپ سے فورسز ہاتھوں مزید 2افراد حراست بعد لاپتہ، بروز منگل کو پاکستانی فوج نے ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں ملانٹ میں علی الصبح آپریشن کرکے خواتین و بچوں کا تشدد کا نشانہ بنایا۔گھر میں لوٹ مار کی اور جاویدولد اختر سکنہ پروم نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔اسی طرح تمپ کے علاقے پل آباد بوستان میں فورسز نے ایک گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھرکے قیمتی اشیا لوٹنے کے بعدعارف ولد رسول نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔
۔۔۔۔گریشہ میں پاکستانی زمینی فوج و مقامی ڈیتھ اسکواڈ نے کئی علاقوں کا محاصرہ کرنے کے ساتھ گھروں میں لوٹ مار کی جبکہ پاکستانی زمینی فوج کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل رہی ہے۔
۔۔۔۔ ضلع کیچ کے علاقے شہرک میں پاکستانی فوج نے ایک گھر پر حملہ کرکے خواتین وبچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔حسب معمول گھروں کے قیمتی سامان لوٹنے کے بعد دو افراد کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے ۔جن کی شناخت یوسف ولد سرور اور دادشاہ ولد منیر کے ناموں سے ہوگئی۔
18 اکتوبر
۔۔۔۔آواران وگچک فوج کی زمینی و فضائی نقل و حرکت میں اضافہ،آپریشن کا خدشہ
۔۔۔۔کیچ پاکستانی فورسز ہاتھوں دو بلوچ حراست بعد لاپتہ،چار بازیاب، ضلع کیچ کے علاقے شہرک میں ایک گھر پر دھاوا بول کر دو افراد سرور اور داد شاہ منیر کو حراست بعد لاپتہ کر دیا ،جہاں خواتین و بچوں کو حراساں کرنے کے ساتھ گھروں میں لوٹ مار کی۔بدھ کے روز ہی مند میں پاکستانی فوج کے زیر حراست خان محمد،یعقوب،کفایت خدابخش،ولیدی ولد شوکت،عبداللہ ولد حکیم بازیاب ہو گئے۔
۔۔۔۔پاکستانی خفیہ اداروں و فورسز نے پسنی کے علاقے زیرو پوائنٹ سے ماسٹر لیاقت نامی ایک شخص کو بس سے اتار کر لاپتہ کردیا جو دشت بل نگور دمب بازار کا رہائشی بتایا جاتاہے ۔
19 اکتوبر
۔۔۔۔گچک،مشکے،آواران پاکستانی فوج کی گن شپ ہیلی کاپٹروں کا آپریشن جاری
۔۔۔۔نجگور،آواران پاکستانی فوج کی زمینی و فضائی نقل وحرکت میں اضافہ،آپریشن کا خدشہ
20 اکتوبر
۔۔۔۔پنجگورگچک میں زمینی وفضائی آپریشن جاری، بمباری کی اطلاعات ۔
۔۔۔۔ مستونگ کونگڑ میں آپریشن جاری،بی این ایم رہنما نثار بلوچ قتل کردیا گیا۔، مستونگ کے کونگڑ کے علاقے میں فوج گھر گھر آپریشن و خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ پانچ افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،جنکی شناخت صدام حسین،محمد اعظم،عبدالغفار،حفیظ اللہ،بزرگ محمد صالح سے ہوئے۔
۔۔۔۔مشکے کے علاقے تنک شرودئی میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے ایک گھر پر حملہ کرکے خواتین و بچوں کو ہراساں کرکے کریم ولد جمعہ نامی ایک70سالہ شخص کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے ۔
۔۔۔۔گوادر میں رات گئے کریک ڈاؤن، درجن سے زیادہ افراد گرفتار،دو کی شناخت ہوگئی ۔ قادر بخش ولد خیر محمد اور شہنواز ولد جلال خان کے ناموں سے ہوگئی جو دونوں شولی کے رہائشی ہیں۔
۔۔۔۔کوئٹہ کے علاقے سے خاتون کی تشدد زدہ لاش برآمد تفصیلات کے مطابق جمعہ کو کوئٹہ کے علاقے کانسی روڈ پر واقع ٹین ٹاؤن میں مدنی اسٹریٹ سے پولیس کو ایک تشدد زدہ خاتون کی لاش ملی جسے تحویل میں لیکر شناخت کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔وجہ معلوم نہ ہو سکی۔
۔۔۔۔حب کے علاقے گڈانی سے دو ماہ پرانی لاش برآمد، جمعہ کو گڈانی کے علاقے ہاشم شیخ گوٹھ میں جھاڑیوں سے پولیس کو دو ماہ پرانی لاش ملی جسے شناخت کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔

21 اکتوبر
۔۔۔۔کوئٹہ لاش برآمد،شناخت نہ ہو سکی، منیر مینگل روڈ کے علاقے سے پولیس کو ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی، لاش کی شناخت نہ ہو سکی۔

22 اکتوبر
۔۔۔۔کیچ کے علاقے تمپ کونشقلات کے جنگل میں ایک لاش برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت حنیف لیلیٰ ولد عیسیٰ کے نام سے ہوگئی ہے جو سکنہ کونشقلات کا رہائشی بتایا جاتا ہے ۔مقتول دو دن سے لاپتہ تھا ۔مقامی ذرائع کے مطابق مقتول کا کسی بھی سیاسی و مزاحمتی تنظیم سے تعلق نہ تھا اور اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا ۔قتل کی وجوہات معلوم نہ ہوسکیں۔
۔۔۔۔دشت شولی میں آپریشن ، 2افراد حراست بعد لاپتہ ، کیچ کے علاقے دشت شولی میں آج پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے گھر گھر تلاشی لی، خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔گھروں کے قیمتی سازو سامان لوٹنے کے بعد دو افراد کو ھراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے جن کی شناخت بشام ولد اسماعیل اور طفیل کے ناموں سے ہوگئی۔
۔۔۔۔خاران بی این ایم کے رہنماشہید نثار بلوچ سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد مادریں وطن ، مستونگ میں دوران آپریشن شہید ہونے والے فرزند نثار احمد سیاپاد ولدحاجی عبدالواحد سیاہ پاد کو انکے آبائی گاؤں میں سپر سرزمین کر دیا گیا،نامہ نگار کے مطابق بیس اکتوبر بروز جمعہ کو پاکستانی فوج نے مستونگ میں آبادی پر دھاوا بول کر کئی افراد کو حراست بعد لاپتہ کرنے کے ساتھ ایک بلوچ نوجوان نثار احمد سیاپاد کو شہید کر دیا جنکو آج بروز اتوار انکے آبائی علاقے خاران میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد مادریں وطن کر دیا گیا،شہیدنثار بلوچ کی نماز جنازہ اور آخری دیدار کے لیے خاران،نوشکی،قلات،مستونگ ،ماشکیل اور ایران سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
۔۔۔۔گوادر فورسز نے تین بھائیوں کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،گزشتہ رات پاکستانی فورسز نے گوادر کے علاقے مونڈی میں ایک گھر پر دھاوا بول کر لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں موجود تین بھائیوں،مصدق ولد عصاء،عبدالعزیز ولد عصاء ،محمد جان ولد ولد عصاء کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔
۔۔۔۔کیچ پاکستانی فوج نے دو افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا،کستانی فورسز نے ضلع کیچ کے علاقے آبسر،آسکانی بازار میں دھاوا بول کر دو افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا جنکی شناخت،واھگ ولد بائیان سکنہ کنہری کولواہ اور زائد بلوچ سکنہ شاپک سے ہوئے۔
23 اکتوبر
۔۔۔۔پنجگور،گچک پاکستانی فورسز نے تین افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا، گچک،کرک ڈل سے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے تین افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا،جنکی شناخت واحد بخش ولد جمعہ،پیر جان ولد میر خان،بائیان ولد میر خان سے ہوئے۔تین افراد ایک ہی خاندان سے بتائے جاتے ہیں جو گچک کرک ٹل کے رہائشی ہیں۔

24 اکتوبر
۔۔۔۔مند میں فورسز ہاتھوں 10افرادزیر حراست ،9رہا، ا یک لاپتہ ، ضلع کیچ کے علاقے مند میں گذشتہ روزپاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے کھیل کے میدا ن پر چھاپہ مارکر 10افراد کوحراست میں لیکر لاپتہ کردیا ۔بعد ازاں لاپتہ کئے کئے 9رہا افرادکردیئے گئے جبکہ ایک تا حال لاپتہ ہے جس کی شناخت یوسف ولد ملاداؤد کے نام سے
۔۔۔۔بلوچستان میں اخبارات پرنٹ ، مگر ترسیل مکمل بند ہے، رپورٹ
۔۔۔۔گوادشہر میں 10نئی فوجی چوکیاں قائم کردی گئیں ، فاضل چوک ، جی ٹی روڈ،الحبیب بینک سمیت کئی علاقوں میں چوکیاں قائم کردی ہیں ۔ واضع رہے کہ فاضل چوک گوادر شہر کے قلب میں واقع پرانا اور تاریخی حیثیت رکھتاہے اور یہ پرانا بازار ہے جو صرف قدیم ہے بلکہ تنگ بھی ہے گاڑیوں کو آنے جانے کیلئے بھی سخت دشواری کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود فورسز نے اس جگہے پر چوکی قائم کرکے آمدو رفت کیلئے مشکلات کھڑی کردی ہیں ۔

25 اکتوبر
۔۔۔۔چار جون کو گیاب مند سے اغوا ہونے والا اسحاق ولد داؤد آج بازیاب ہوئے۔
۔۔۔۔گذشتہ روزکراچی کے علاقے ملیر میں پاکستانی خفیہ اداروں و فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر ہیبتان نامی ایک شخص کو دو بچوں احمد اور محمد سمیت حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔
۔۔۔۔ بروز بدھ کو احمد صوالی نامی ایک لاپتہ نوجوان گوادر سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے ۔علاقائی ذرائع کے مطابق احمد صوالی کو 7مہینے قبل پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے پسنی کے وارڈ نمبر 6میں ایک آپریشن کے دوران حراست بعد لاپتہ کیا تھا جبکہ اس آپریشن میں احمد صوالی کے علاوہ اسی خاندان کے دیگر کئی افراد کو بھی حراست بعد لاپتہ کیا گیا تھا جن ابھی بھی کئی لاپتہ ہیں ۔
۔۔۔۔پنجگور کے علاقے گچک میں پاکستانی فوج کا آبادی پر وقفے وقفے سے مارٹر گوں سے حملہ ،علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فورسز نے گچک کے ندی کے منسلک تمام درختوں کو نذر آتش کیا جارہا ہے جس سے نہ صرف علاقے میں آلودگی پھیل گئی بلکہ جن غریب افراد کی درختیں تھیں ان کے منع کرنے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں ۔
۔۔۔۔بلوچستان بھر میں اخبارات کی ترسیل مکمل بند،بلوچستان بھر میں اخبارات کی ترسیل مکمل بند،سرکاری و غیری سرکاری دفاتر بھی اخبارات سے محروم، بلوچستان لبریشن فرنٹ کو دیگر بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے میڈیا کو دی جانے والی الٹی میٹم کے اختتام پر25 اکتوبر بروز بدھ بلوچستان بھر میں اخبارات کی ترسیل مکمل بند ہو چکی ہے،جبکہ24 اکتوبر کو بھی کوئٹہ کے سرکاری دفاتر میں ہاکرز نے اخبارات تقسیم نہیں کیے۔
۔۔۔۔بلوچ میڈیابائیکاٹ کے خلاف آئی ایس آئی کے مذہبی شدت پسند بھی میدان میں،صحافیوں کو بلوچ میڈیا بائیکاٹ کے ساتھ دینے پر حملوں کی دھمکیاں، ’’ شوری فدایان اسلام‘‘ کے نام سے کوئٹہ میں پمفلٹ تقسیم کی گئی جس میں صحافیوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں جس میں انکو خبردار کیا گیا کہ بلوچ آزادی پسندوں کے میڈیا بائیکاٹ کا ساتھ دینے والے نشانے پر ہونگے،۔
۔۔۔۔کوئٹہ کے علاقے پر نس روڈ پر گلیشئر ہوٹل کے قریب ایک شخص کی لاش ملی جس کی شناخت پیر داد ولد نیا ز محمد کے نام سے ہوئی ،قتل کی وجہ سامنے نہ آ سکی ۔

26 اکتوبر
۔۔۔۔ضلع کیچ19 اسکول ملٹری کیمپوں میں تبدیل،ایجوکیشن آفیسر کا اعتراف، ،ضلع کیچ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کا خط ،کوئٹہ آفیسر کے نام ،لیٹر کے مطابق دشت کے پانچ اسکول اور ہوشاپ 14 اسکول بند ملٹری کیمپوں میں تبدیل ،اس لیٹر کے ساتھ ایک اور خط بھی جس میں کہا گیا ہے کہ اب یہ اسکول آرمی کے زیر کنٹرول ہیں جہاں چوکیاں یا کیمپ قائم کردئیے گئے ہیں، واضح رہے کہ ضلع کیچ کے علاقوں دشت اور ہوشاپ سے آواران تک لاکھوں افراد فورسز کی آئے روز کی آپریشنوں اور سی پیک روٹ کی وجہ سے زبر دستی بے دخل کر دئیے گئے ہیں۔ جہاں موجود اسکولوں کو فوج نے کنٹرول میں لے کر کیمپ قائم کردئیے ہیں، خودایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اس کا اعتراف کیا ۔،جس میں کہا گیا ہے کہ امن و امان اور سیکورٹی معاملات کی وجہ سے ہوشاپ اور دشت میں لوگوں کی بڑی تعداد نے نقل مکانی کی ہے ،لیٹر میں19 اسکولوں کا نام دیا گیا جو اب ملٹری کیمپوں میں تبدیل ہیں،1 ،مدادگ قلات اسکول ،ہوشاپ2 ،گموک اسکول،ہوشاپ3 ،جت کولواہ، ہوشاپ،4 ،بدرنگ اسکول ہوشاپ،5 ،شپکول اسکول ہوشاپ،6 ،نیرب گٹے دپ اسکول ہوشاپ،7 ،گونڈ سریں اسکول،ہوشاپ،8 ،ڈنڈار اسکول ہوشاپ،9 ،پرکودگ اسکول ہوشاپ،10 ،ساگوک، حمید بازار اسکول ہوشاپ،11 ، ساگوک پھلین بازار ہوشاپ،12 ، پدی لعل محمد بازار ہوشاپ،13 ، کنہری کولواہ ہوشاپ،14 بدولک اسکول ہوشاپ،15 ، روڈ سر اسکول ،دشت،16 ،زیارتی اسکول دشت،17 ،لنگاسی اسکول ،دشت،18 ،زریں بگ بوائز اسکول دشت،19 زریں بگ گرلز اسکول دشت۔ واضح رہے کہ یہ19 اسکول وہ ہیں جنکے بارے میں لکھا گیا لیٹر ادارہ سنگر کو موصول ہوا ہے،ایسے درجنوں اسکول بلوچستان بھر میں ہیں جہاں آرمی کیمپ قائم کر دئیے گئے ہیں،مشکے میں تمام اسکول اس وقت فوجی کیمپوں میں تبدیل ہیں اور کوئی بھی اسکول تعلیمی حوالے سے فنکشن نہیں ہے اسی طرح آواران سے کولواہ تک بارہ اسکول بند اور انھیں فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
۔۔۔۔خضدارمسلح افراد کا گھر میں گھس کر فائرنگ ،1ہلاک،2خواتین زخمی، نال کے علاقے ختیچک میں نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں محمد عالم نامی شخص ہلاک جبکہ دو خواتین زخمی ہو گئے ،۔حملے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔
۔۔۔۔ ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے نذر آباد بازار سے پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے ایک دکان سے ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے ۔جس کی شناخت زین ولد بابو کے نام سے ہوگئی ۔ لاپتہ کئے گئے زین ایک دکاندار ہے ۔
۔۔۔۔ کراچی کے علاقے نیول کالونی میں دو دن قبل پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور رینجرز اہلکاروں نے ایک گھر پر چھاپہ مارکر ایک شخص کو حراست میں لیکر لاپتہ کیا جسکی شناخت وارث کے نام سے ہوگئی جو تمپ کوہاڈ کا رہائشی بتایا جاتا ہے ۔

27 اکتوبر
۔۔۔۔فقیر کالونی گوادر سے صادق ولد مستری خان محمد، اغوا۔
۔۔۔۔بالگتر سے امین ولد باہڑ، محمد جان ولد عبداللہ، ہاتم ولد عبداللہ، سخی داد ولد شمبے، جمعہ ولد کریم بخش، داد دجان ولد سخی داد، ریاض ولد میار، صالح محمد ولد مبارک، عبداللہ ولد مبارک اغوا۔
۔۔۔۔ بلیدہ کے علاقوں الندور ، کوچگ ، مچکدگ ، بُن آپ ، گردانک و گردونواح میں پاکستانی فوج نے آپریشن کرکے خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔گھروں میں کوٹ مار کی اور لوگوں کو ہراساں کیا ۔
28 اکتوبر
۔۔۔۔کراچی میں رات گئے پاکستانی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے چار گھروں پر چھاپے مار کرخضدار، مشکے ضلع آواران اور گچک ضلع پنجگور کے تعلق رکھنے والے نو کمسن بچوں اور طلبا کو اغوا کیا اور ایک خاتون فرح کو تیسری منزل سے گراکر ڑیڈھ کی ہڈی توڑ دی۔ اغوا شدگان میں میں بلوچ ہیومین رائیٹس آرگنائزیشن کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری نواز ولد عطامحمدسکنہ گچک، عابد ولد اشرف سکنہ گورجک مشکے، فرہاد ولد انور سکنہ گجر مشکے، سجاد ولد یارجان سکنہ گورجک مشکے، تیرہ سالہ الفت ولدالطاف سکنہ گورجک مشکے، راوت ولد تاج محمد سکنہ خضدار، آٹھ سالہ آفتاب ولد محمد یونس سکنہ خضدار، محمد عارف ولد محمد یونس سکنہ خضدار، الیاس ولد فیض محمد سکنہ گچک پنجگور، شامل ہیں۔
۔۔۔۔دشت سے خلیل ولد فیض محمد اغوا۔
۔۔۔۔ جھاؤ فورسز نے آپریشن کر کے دو بلوچ فرزند رازق ولد قادر بخش،الہیٰ بخش ولد یعقوب کو شہید کر دیا
۔۔۔۔پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے پنجگور سے 6 افراد لاپتہ، پنجگور میں ایئر پورٹ کے علاقے سے فورسز نے 5افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا جن کی شناخت سلیم ولد خدا بخش،پیر بخش ولد عیسیٰ،خالقداد ولد مینگل ،اسد ولد جمال اور عیسیٰ ولد رضا کے ناموں سے ہوگئی جو سب گچک کے رہائشی بتائے جاتے ہیں جبکہ پنجگور میں ایک اور واقعہ میں فورسز و خفیہ اداروں نے چتکان میں ایک گھر پر چھاپہ مارکر خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر مرشد ولد محمد بخش نامی ایک شخص کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے ۔
۔۔۔۔ ساحلی شہر گوادر میں فورسز و خفیہ اداروں نے فقیر کالونی میں ایک گھر پر چھاپہ مارکر صادق ولد ٹھیکدار خان محمد نامی ایک کو حراست بعدلاپتہ کر لیا۔ لاپتہ کیئے گئے شخص دشت شولیگ کا رہنے والا ہے جو کافی عرصے سے گوادر میں رہائش پذیرتھا۔
۔۔۔۔جھاؤ تین روز سے فورسز کی بربریت کا شکار،آپریشن جاری،چالیس سے زائد افراد حراست بعد لاپتہ، جھاؤ تین روز سے آپریشن جاری ایک انسانی بستی مکمل نذر آتش، چالیس سے زائد افراد حراست بعد لاپتہ،25 لاپتہ افراد کی شناخت ہو گئی ، جھاؤ میں جمعرات26 اکتوبر سے پاکستانی فوج کی زمینی و فضائی آپریشن جاری ہے،جمعرات کے روز پاکستانی زمینی فوج نے جھاؤ کے علاقے گزی کو محاصرے بعد گھروں میں موجود تمام اشیاء کو لوٹنے کے ساتھ تمام گھروں کو نذر آتش اور منہدم کر دیا، جبکہ کوہڈو سے فورسز نے بھی کئی افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا،گزی ،کوہڈو گرد نواع سے پاکستانی زمینی فوج نے سو سے زائد خواتین و بچوں کو آرمی ٹرکوں میں ڈال کر ملٹری کیمپ منتقل کردیا ،آرمی کیمپ میں خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ انکی تذلیل و بے حرمتی کے بعد پاکستانی آرمی نے انکو کیمپ سے باہر نکال کر چھوڑ دیا، گزی سے فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے 7 افراد کے نام یوں ہیں، ملا ابراہیم ولد ملا یعقوب،عالم ولد کمال خان،ڈاکٹر نذیر ولد کمال خان،شمس ولد موسٰی،سراج ولد عیسیٰ،میران (کسان) محمد (کسان)۔
کوہڈو سے فورسز ہاتھوں حراست بعد لاپتہ کیے جانے والے 18افراد کے نام،محراب ولد ابراہیم (چرواہا) عبدالکریم ولد یعقوب(آٹاچکی ولا)فیض ولد یعقوب(چرواہا) نیک محمد ولد یعقوب (کسان) محمد ولد حمل (کسان) محمود کو انکے دو بیٹوں کرم اور اکرام الدین کے ساتھ لاپتہ کیااکرام الدین کی عمر 14 سال بتائی جاتی ہے۔خیر بخش ولد موسیٰ (دیوانہ،پاگل)ماسٹر صادق ولد موسیٰ،80 سالہ بزرگ علی ولد شاہ بیگ، جو آنکھوں سے اندھا ہے ۔ جمل(کسان عمر بیس سال)لعل بخش، عبداللہ ،دونوں بزرگ ہیں،واحد ولد آجو عمر تیرہ سال،مولا بخش ولد عصو(زمیندار)راشد ولد لعل محمد (زمیندار)قادر بخش ولد تاجو(کسان).تاحال جھاؤ میں پاکستانی فوج کی زمینی و فضائی آپریشن شدت کے ساتھ جاری ہے ،جبکہ پہاڑی علاقوں میں وقفے وقفے سے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری کا سلسلہ بھی جاری ہے، جھاؤ میں کئی مساجد اس وقت عالمی شدت پسند داعش کے کنٹرول میں ہیں جہاں پاکستانی آرمی کے اہلکاروں کا آنا جانا معمول کی بات ہے اور یہ لوگ فورسز کے ساتھ ملکر آپریشن اور آبادیوں کو نشانہ بھی بناتے ہیں۔
۔۔۔۔دشت پاکستانی فوج نے ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ کردیا، ضلع کیچ ،دشت کے علاقے تیراں دسک سے خلیل ولد فیض محمد نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کردیا۔

29 اکتوبر
۔۔۔۔پنجگور میں ایک گھر ، ایک اسکول فورسز کی چوکیوں میں تبدیل ، پاکستانی فوج نے پنجگور کے علاقے بونستان اور دازی میں وارد ہوکر نصیر نامی شخص کے گھر کا تالہ توڑ کران پرقبضہ جماکر اپنی چوکی قائم کرلی ہے ۔
۔۔۔۔مندمیں شہید غلام محمد کے رشتہ داروں کے گھروں پر پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کا حملہ ،خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر 2افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کرنے بعد چھوڑ دیا گیا۔ضلع کیچ کے علاقے مند سورو میں شہید بلوچ رہنما غلام محمد بلوچ کے رشدہ داروں میر غلام رسول امرزئی ،سرور کینگی اور میر لال محمد کے گھروں پر چھاپہ مارکر چادرو چاردیواری کی تقدس کو پامال کرکے خواتین وبچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور جلیل ولد میر غلام رسول اورامداد ولد میر غلام رسول نامی دو افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا ۔جنہیں کیمپ میں شدید تشدد کے بعد گھنٹوں بعد چھوڑ دیا گیا۔

30
۔۔۔۔ پاکستانی فورسز آئی ایس آئی نے کوئٹہ سے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی بیوی کو چار خواتین ،آٹھ بچوں سمیت اغوا کر لیا ہے۔فضیلہ بلوچ اہلیہ ڈاکٹر اللہ نذر،بیٹی پوپل جان،گوہر جان بنت غلام قادر،ایال بنت امین،انکی بیٹی زہیرگ دوسالہ،۔ دوسرے مغویاں میں بی بی سلمیٰ بنت رحیم داد اور اسکی ڈیڑھ سالہ بچہ عرفان،۷ سالہ گہرام،۹ سالہ میرک،سترہ سالہ، بیبرگ،دو کزن،۸ا سالہ سمیع اللہ،۱۶ سالہ شاہ میر،۔ فضیلہ بی بی جو مشکے میں ڈاکٹر اللہ نذر کے گاؤں پر بمباری میں زخمی ہوئی تھیں، ان کی ایک دفعہ ریڈھ کی ہڈی میں آپریشن کے بعد صحت یاب نہ ہونے کی وجہ ایک دفعہ پھر علاج کی غرض سے کوئٹہ آئی تھیں، اور یہ خواتین ان کی تیمار داری کیلئے ساتھ تھیں کہ بدنام زمانہ آئی ایس آئی نے انہیں اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے جہاں ان کی زندگیوں کو انتہائی سنگین خطرات لاحق ہیں۔
۔۔۔۔زہری فورسز ہاتھوں دو بلوچ نوجوان حراست بعد لاپتہ، زہری سے خضدار جانے والے لوکل ویگن کو زہری انجیرہ میں آرمی و ثناہ زہری کی پرائیوٹ کارندوں نے روکھنے بعد اس میں سوار دو نوجوانوں کو حراست بعد لاپتہ کر دیا جنکے شناخت مستی خان ولد گہور خان لوٹانی سکنہ نورگامہ،دوسرے نوجوان کی شناخت عابد ولد غلام حسین عمرانی،سکنہ خاخوئی زہری۔
۔۔۔۔جھاؤ آپریشن جاری مزید،12 افراد حراست بعد لاپتہ،دو فرزند شہید، جھاؤ پاکستانی فوج کی زمینی و فضائی آپریشن پانچویں روز بھی جاری،مزید12 افراد حراست بعد لاپتہ کئی بستیاں لوٹ مار بعد نذر آتش،دو روز قبل فورسز نے چالیس سے زائد افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا تھا،جبکہ کل اور آج مزید12 فراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا گیا ہے، جنکی تفصیل یوں ہیں،جھاؤ کے علاقے کوہڈو سے بادین ولد سلیمان،سلیم ولد چاکر،پھلین ولد عباس،چاکر ولد عصا،بابل ولد عباس، شاہی ولد کسو، فتح محمد ولد ولی داد حراست بعد لاپرہ،جبکہ جھاؤ کے علاقے درے کوچک سے موسیٰ ولد الحی بخش،الہٰی بخش ولد خیر محمد اور جھاؤ گزی کور سے فورسز نے خان محمد ولد کہور خان،داد محمد ولد نوروز،خیر جان ولد رحمت کو حراست بعد لاپتہ کردیا،اس طرح پانچ روز سے جاری فوجی آپریشن میں اب تک پچاس سے زائد افراد کو حراست بعد لاپتہ کرنے کے ساتھ دو افراد کو شہید کیا گیا ہے۔ جنکی شناخت رازق ولد قادر بخش اور الہٰی بخش ولد یعقوب سے ہوئے۔
۔۔۔۔دشت ،کھڈان پاکستانی فوجی آپریشن جاری، ضلع کیچ کے علاقے دشت کھڈان میں پاکستانی زمینی فوج نے گزشتہ شب گیارہ بجے دھاوا بول کر خواتین و بچوں کوحراساں کرنے کے ساتھ رات بھر گھروں سے باہر رکھا،۔

31 اکتوبر
۔۔۔۔ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے اہلیہ خواتین و بچوں کی اغوا پرعوام میں شدید غم و غصے کی لہر
۔۔۔۔بلوچستان حکومت کاڈاکٹر للہ نذر بلوچ کی اہلیہ وبچے کی گمشدگی کا عتراف
۔۔۔۔آواران بی این ایف کے پہیہ جام ہڑتال کی خلاف ورزی پر گاڑیوں پر فائرنگ
۔۔۔۔مند،تمپ،دشت،مکمل پہیہ جام ہڑتال ۔
۔۔۔۔بلیدہ شٹر ڈاؤن،پہیہ جام ہڑتال جاری، آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے اہلیہ ،بچوں و دیگر خواتین کی فورسز کے ہاتھوں حراست بعد ، بلیدہ میں منگل کے روز مکمل شٹر ڈاؤن،پہیہ جام ہڑتال رہی،
۔۔۔۔ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں مکمل ہڑتال،سرمچاروں کا گشت۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close