اکتو بر میں فورسز نے250افراد لاپتہ کئے ،100رہا 120تاحال لاپتہ ہیں۔بی ایچ آر او

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اکتوبر کے مہینے میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت ہونے والے قتل کے واقعات کی تفصیلات میڈیا کو جاری کردیں۔ بی بی گل بلوچ نے کہا کہ اکتوبر کے مہینے میں بلوچستان میں فورسز کے ہاتھوں 250 سے زائد افراد لاپتہ کردئیے گئے ہیں، جن میں سے ایک سو کے قریب چند دنوں بعد رہا کردئیے گئے، جبکہ 120سے زائد تاحال لاپتہ ہیں۔ 4اکتوبر کو فورسز نے ایک کاروائی کے دوران ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ سے 26 افراد کو حراست کے بعد لاپتہ کردیا تھا، ان میں بی ایس او آزاد کے رہنماء شبیر بلوچ بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ آواران، کولواہ، کوئٹہ، دالبندین، مند، تمپ، دشت ، نصیر آباد سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مختلف کاروائیوں کے دوران لوگ گرفتار کر لئے گئے۔ کولواہ میں پانچ اکتوبر کی آپریشن کے دوران فورسز نے لطیف ولد مقصود کو پانچ دیگر افراد کے ہمراہ اغواء کرلیا، مقصود ایک چرواہا تھے ، چند دنوں بعد تربت کے علاقے آبسر سے لطیف کی لاش برآمد ہوئی۔ اکتوبر کے مہینے میں لاپتہ افراد کی 17مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی سمیت بلوچستان میں 51افراد مختلف کاروائیوں کے دوران قتل کردئیے گئے۔ ان مسخ شدہ لاشوں میں ایک خاتون کی لاش بھی شامل تھی جسے ڈیرہ بگٹی سے سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران حراست میں لیا تھا۔اس کے علاوہ تین لاشیں قلات کے علاقے سے بھی برآمد ہوئیں جو کہ لاپتہ افراد کی تھیں۔ ڈیرہ بگٹی سے 26اکتوبرکودو بھائیوں سمیت تین افراد لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں چند دنوں پہلے حراست میں لیا گیا تھا۔ہلاک ہونے والوں میں سے 14 افراد ذاتی دشمنی کی بناء پر قتل کر دئیے گئے، جبکہ 20افراد مختلف کاروائیوں کے دوران فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والوں میں مشکے کے رہائشی سیاسی کارکن حاصل اور جھاؤ کے رہائشی خمار ولد اسحٰق بھی شامل ہیں۔ حاصل کو پانچ اکتوبر کو آپریشن کے دوران فورسز نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔اس کے علاوہ اکتوبر کے مہینے میں فورسز کی حراست میں موجود 24افراد بازیاب بھی ہوگئے، جن میں سے بیشتر پچھلے دو سالوں سے لاپتہ تھے۔ بازیاب ہونے والوں میں 27نومبر2013کو کونشقلات سے اغواء ہونے والے حیدر کے بی،ایک سال قبل گرمکان پنجگور سے اغواء ہونے والے خادم ولد عبدالقادر ، تین سال قبل، وشبود سے اغواء ہونے والے کمبر بلوچ بھی شامل تھے۔اس کے علاوہ اسی مہینے کوئٹہ ٹریننگ سنٹر حملہ جیسا اندوہناک واقعہ بھی پیش آیا جس کے نتیجے میں 62نوجوان مارے گئے ۔بی بی گل بلوچ نے کہا کہ یہ بات درد دل رکھنے والوں کے لئے کسی المیے سے کم نہیں کہ بلوچستان کے لوگوں کی جانوں کی ضیاع پر حکومت، میڈیا، سیاسی جماعتیں سب یکساں طور پر خاموش ہیں۔انسانی حقوق کے اداروں کی بار ہا کی اپیل، سپریم کورٹ کے احکامات بھی بلوچستان میں مکمل نظر انداز کیے جا چکے ہیں۔ ایک دہائی سے زائد کے عرصے سے جاری لاپتہ افرادکا مسئلہ حل ہونے کے بجائے روز بہ روز پیچیدہ تر ہوتا جارہا ہے۔ پہلے مغوی لوگوں کی گمشدگی کی ایف آئی آر انتظامیہ درج کرتی تھی لیکن آج صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پولیس اور لیویز ایف آئی آر درج کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔ بلوچستان میں لوگوں کی مشکلات فوجی آپریشنز، چھاپوں، چوکیوں ، مسخ شدہ لاشوں اور گرفتاریوں کی وجہ سے انتہائی زیادہ ہو چکے ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی روز مرہ کی زندگی میں مشکلات نے لوگوں کا جینا دو بھر کردیا ہے۔ پانی، صحت، روزگار جیسے بنیادی سہولیات کا اندرون بلوچستان لوگ تصور بھی نہیں کرتے ہیں۔ اکیسیوں صدی میں بھی درجنوں ایسے اضلاع ہیں کہ جہاں کے بیشتر علاقوں میں خواتین پانی لانے کے لئے میلوں کا سفرطے کرتے ہیں۔ معمولی مریضوں کے لئے قریب ترین ہسپتال کراچی میں ہیں ، جس کا کم از کم فاصلہ سات گھنٹوں سے زائد کا ہے۔ یہی حال تعلیم کا بھی ہے، غربت، تنگدستی اور سرکاری عدم توجہی کی باعث لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، آواران، کیچ ، اور پنجگور کے علاقوں میں ایک درجن کے قریب ہائی اسکول، پرائمری اسکول اور مڈل اسکولوں پر فورسز کا قبضہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک خطرناک رجحان مذہبی شدت پسندی کا بھی ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ فورسز انسر جنسی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے مذہبی شدت پسندوں کو اسلحہ و تربیت فراہم کررہے ہیں۔ ان تمام صورت حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو بلوچستان کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ انتہائی مایوس کن ہے۔بی بی گل بلوچ نے با اختیار اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی ایف آئی آر درج کرانے کے لئے انتظامیہ کو پابند بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو گمشدہ کرنے اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کی انسان دشمن پالیسی کو فوری طور پر روک دے ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker