نہتے بلوچوں کےقاتل و ریاستی کارندے جان محمد بلیدی پر حملے کی زمہ داری قبول کرتے ہیں، بی ایل ایف

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سٹیلائٹ فون کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز سرمچاروں نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں میناز کے قریب نیشنل پارٹی ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے اور ترجمان جان محمد بلیدی کے قافلے پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ جس میں جان محمد بلیدی کے محافظ زخمی ہوئے ہیں۔ جان محمد بلیدی نیشنل پارٹی کے ترجمان اور صوبائی حکومت کے سابق ترجمان ہیں۔ ڈاکٹر مالک کی وزارت اعلیٰ کے دوران جان محمد بلیدی نے پاکستانی فوج کی بلوچ نسل کشی کی حمایت کرتے ہوئے بلوچستان میں فوجی آپریشن اور آزادی پسندوں کے اغوا اور قتل میں نہایت تیزی لاکر بیدردی سے سینکڑوں بلوچوں کو شہید کیا۔ انہی کے دور حکومت میں خضدار توتک سے اجتماعی قبریں برامد ہوئیں، جن میں 169 لاشیں برامد ہوئیں۔ ان لاشوں میں دو کی شناخت آواران کے رہائشی قادر بخش اور نصیر کے نام سے ہوئی جو پاکستانی آرمی کے ہاتھوں اغوا ہوکر لاپتہ ہوئے تھے۔ پاکستانی آرمی کے ان کرتوتوں کو نیشنل پارٹی اور اس کے جان محمد بلیدی جیسے ترجمان رہنماؤں نے کھلے عام دفاع کرتے ہوئے بلوچ نسل کشی میں تیزی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نیشنل پارٹی کے حکومت کے دوران صوبائی ترجمان اور وزارت داخلہ نے اپنے دو بیانات میں خود اعتراف کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت بالترتیب نوہزار اورتیرہ ہزار بلوچوں کو حراست میں لیا ہے، آج تک ان افراد کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیااور وہ بدستور لاپتہ ہیں۔ ان کی ذمہ داری ڈاکٹر مالک کی سرکار، نیشنل پارٹی اور اس کے رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔ نیشنل پارٹی کے ڈیتھ اسکواڈ اب بھی بلوچستان میں ملابرکت، راشد پٹھان، منشیات کے اہم سرغنہ امام بھیل اور نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی کمیٹی کے رکن علی حیدر و دوسروں کی سربراہی میں سرگرم ہیں۔ ان ڈیتھ اسکواڈ کا نام نہاد سیاسی ترجمان جان محمد بلیدی ہے، جس سے بلوچ قوم اور ساری دنیا واقف ہے۔ نیشنل پارٹی بلوچ نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں براہ راست ملوث ہے اور ان کو سزا دینا بلوچ قوم اور عالمی عدالتوں کی ذمہ داری اور فرض ہے۔ اسی طرح پنجگور میں نیشنل پارٹی ڈیتھ اسکواڈ نیشنل پارٹی کے صوبائی وزیر رحمت صالح کی سربراہی میں قائم ہے۔ رحمت صالح جو ایک ادنیٰ کمپاؤنڈر ہے کو ڈیتھ اسکواڈ چلانے پرانعام کے طور پر اسٹیبلشمنٹ نے جعلی ووٹوں سے وزیر بنایاہے۔ پورے بلوچستان میں نیشنل پارٹی کرسی، مراعات اور وزارت کی حصول کیلئے بلوچ نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close