سردار اخترمینگل کے نا م کھلا خط

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) میں یہ خط ایک ایسے وقت میں آپ کے نام لکھ رہا ہوں ،جس وقت بلوچستان میں قابض پاکستان اپنی پوری طاقت کے ساتھ بلو چ انسر جنسی کو ختم کر نے کی کو شش کر رہاہے لیکن بلوچ انسر جنسی جو اپنے ننگ و نا مو س کی تحفظ کیلئے اس لئے بہت بڑی مقام حاصل کر چکی ہے ، کیونکہ ہر بلوچ طویل غلامی کے اثرات کو شدت کے ساتھ محسوس کر رہا ہے جو نو آبادیاتی نظام کے زیر اثر بلوچستان میں ہے۔بلوچستان میں فو ج کی سربراہی میں نو آبادکاری کا سلسلہ زور و شورکے ساتھ رواں دواں ہے۔

اس سے خد شہ نہیں بلکہ صاف ظاہر ہو تا ہے کہ بلوچ کی شاخت کا مسئلہ پیدا ہوگیاہے۔ جب کو ئی آپ کی شاخت کو مٹانے کی کوشش میں ہے تو ہر اُس اہل علم کا فر ض بنتا ہے کہ وہ اپنی شناخت کی تحفظ کیلئے مثبت کر دار ادا کر یں۔ اس حو الے سے میرا فر ض ہو تا ہے کہ میں سوال کر وں ،ان لو گو ں سے جو سب کچھ دیکھتے ہو ئے اور جانتے ہو ئے بھی خواب خر گو ش میں گم ہیں۔

اس وقت بلوچستان میں پاکستانی فوج خو نی آپر یشن میں مصروف عمل ہے۔ بلوچ نسل کشی میں انہوں نے کو ئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ کوئی ایسا دن نہیں گز رتا ہے کہ بلوچستان میں کسی بلوچ فر زند کی لاش نہ گرتی ہو ،اورکسی گھر سے کو ئی نو جوان ،بزرگ،بچے کو اٹھا کر لاپتہ نہ کی جاتی ہو۔ اب صورت حال یہ ہے بلوچ خواتین کو گھروں سے اغوا کر کے فوجی کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ کیا سلوک ہو تا ہے تو آپ صدیق ساک کی کتاب’’ میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ‘‘ سے رہنما ئی حاصل کر سکتے ہیں۔ بنگالی عورتوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا اور میرے خیال میں اس فوج سے یہی توقع رکھناچاہیے۔جب کسی جگہ پر تنازعہ ہو تا ہے اور دشمنی پید ا ہو تی ہے، ایک جنگ شروع ہوجا تی ہے ، تو جنگ میں بہت کچھ ہو تا ہے لیکن جنگ میں بھی کچھ اخلا فیا ت ضرور ہو تے ہیں جہاں پر لوگو ں کی عزت نفس کو مجروح نہیں کیا جاتا۔

دنیا جس تہذیبی ارتکا سے گزر رہی ہے ، یا سائنس کی تر قی سے لوگ تر قی کی راہ پر گامزن ہیں، اسے معاشرے کے زندہ انسان سبق حاصل کر رہے ہیں۔ سائنس کی تر قی،علم نفسیات کی ترقی ،تا ریخ سے سبق حاصل کرنے والے لو گ جودوسروں کے لئے سبق آموز ہیں لیکن انسان کی حرص ،لا لچ،خوف پر قابو پانے والا ایک چیز ہو تا ہے وہ ہے زانت، شعور،علم ،رواداری۔ یہ تما م چیزیں انسانی تخلیق سے ایجا د ہو ئے ہیں ،کچھ چیزیں معاشرے میں رہتے ہو ئے سیکھنے کو ملتے ہیں۔ معاشرے میں احترام ،اپنوں کے ساتھ رہنے کا طریقہ ،جنگ اور جدل کو سمجھنا، عورتوں ، بچوں اور بزرگوں کا احتر ام، معاشرے میں رہ کر سبق حاصل کی جاتی ہے ۔
کہنے کا مقصد یہی ہے کہ بلو چ سر زمین پر گزشتہ 70سالو ں سے غلامی سے نجات کیلئے جد وجہد ہو رہاہے۔ ضرور اس میں سرخ روح جہد کاررہیں گے۔ اگر جد وجہد کی روح کو سمجھیں تو راہ راست کے ساتھ بہتر حکمت عملی کامیابی کی جانب گامزن کر تا ہے ۔

پاکستان کے وفاق پر ست پا رٹیو ں کو گوش گزار کرنا چا ہتا ہوں۔ آپ پاکستا ن کے اداروں میں بیٹھ کربلوچ چادر و چاردیو اری کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ بلوچ اس نیو نو آبادیاتی ریاست میں کوئی کسی بھی طرح محفوظ نہیں ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے باخبر ہونے کے باوجود بلوچ کی بقاء کے نام پر ووٹ مانگے ہر شہید کے گھر میں حاضری د ے ا ور جھوٹ کے قصے گاڑھے کہ ہم پاکستانی فو ج کے آپر یشن کو روکنے میں کردار ادا کر یں گے جن لوگوں کو پاکستانی فو ج نے اغوا کی ہے انکو بازیا ب کرائیں گے،کیا یہ اپنے کئے گئے وعدوں کو پو را کر سکتے ہیں ؟

اسد مینگل اور احمد شاہ کو پاکستانی فوج نے 70 کی دہا ئی میں اغوا کر کے غائب کیا تھا۔ اس درد کو سردار مینگل اور اُس کے خاندان سے بہتر کوئی اور محسوس نہیں کرسکتا۔ یقیناًآپ گزشتہ 50سالو ں سے کرب کے زندگی گزر رہے ہیں۔ ایک بھا ئی کی جدائی کا احساس سردار اخترمینگل سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔ ہزاروں بھائی ایسے ہیں جو اسی کرب ناک اور اذیت جیسی زندگی گز ار رہے ہیں ۔ اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ ا س درد کو محسوس کر نا کا فی ہے؟ میر ے خیال میں بالکل نہیں۔ آپ کی جد وجہد سے متعلق کچھ سوالات پیدا ہو تے ہیں۔اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتا ہو ں ، جو وعدہ آپ نے قوم کے ساتھ کی ہے کہ میں لا پتہ افراد کو بازیا ب کر تا ہو ں ،یہ بہت بڑی خبر ہے ہزاروں کے حساب سے لوگ لاپتہ ہیں سینکڑوں کی تعداد میں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہو ئی ہیں اجتماعی قبروں کا برآمد ہو نا وغیرہ وغیرہ۔

نام نہاد انتخابات کے بعد کچھ لوگ ضر ور بازیاب ہو چکے ہیں۔ ان علا قوں سے جہا ں ریا ست نے اپنے لئے نئے چہر وں کا انتخاب کیا ہے خاص کر ڈیر ہ بگٹی میں ریاست نے اپنے ایک زرخر ید سرفرار اینڈ کمپنی کی جگہ شاہ زین اور گہر ام بگٹی کو میدان میں اتارا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ان کو لانے کا مقصد نواب اکبر خان کی جد وجہد کو انکے خاندان کے ذریعے کاؤنٹر کر نا ہے ۔ انہوں نے جس طرح الیکشن مہم میں جو تقریریں کی تھیں ان کے مقصد کو ہر ایک نے سمجھ لیا ہے۔ وہ اب کیا کچھ کر سکتے ہیں،کسی طرح ریاست کے لئے پیادے کا کردار ادا کر تے ہیں۔

مرحوم میر غو ث بخش بزنجوکے فلسفے کا پر چار کرنے والا نیشنل پارٹی قومی ریاست کی بحالی کیلئے ہونے والی جد وجہد کا مخالف بن چکاہے ۔ان سے کو ئی بھی امید نہیں کیا جاسکتا چونکہ نیشنل پارٹی کی پالیسیوں سے اب ہر سیاسی کا رکن واقف ہے۔ اُس پر زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ۔

ان پُرآشوبی اور جنگی کیفیت میں سر دار اختر مینگل کیلئے یہ نعرے بہت بڑے امتحان سے کم نہیں کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت کے ساتھ شریک ہوکر جو مطالبات سردار صاحب نے سامنے رکھے ہیں کیا ان پر عمل درآمد ہو سکتا ہے؟ ان تمام باتوں کو پہلے بھی سابق حکمرانوں کے سامنے رکھا گیا تھا لیکن بعد میں وہ یہی جرم میں خود شریک رہے ۔اس وقت و ہی سب کچھ ہمارے سامنے گزر رہا ہے ۔

ایک طرف لا پتہ افراد کی بازیابی کی کو شش میڈیا میں زیر بحث ہے تو دوسر ی طر ف لاپتہ افراد کے نام پر بنائے گئے نام نہاد کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کے حالیہ بیان ہما رے سامنے ہیں۔ وہ کیا کچھ کہ رہے ہیں ۔ ساتھ ہی بلوچستان کے لو گو ں کو لا پتہ کر نے کا سلسلہ ختم نہیں ہو ا بلکہ اس میں شدت آئی ہے جہاں لو گوں کو شادی کے پروگراموں سے اُٹھایا جا رہا ہے۔ اسکی واضح مثال حال ہی میں27اگست کو مشکے سے صادق نامی نو جو ان جو شادی کے دوران فوج کے ہا تھو ں اغوا ہو ئے جوتاحال لا پتہ ہے۔اسی طر ح مشکے سے باپردہ بلوچ خواتین نو رملک اپنے دو بیٹیوں کے ساتھ لا پتہ ہیں۔ اور ساتھ ہی تین سالوں سے لاپتہ ہونے والے آواران کے رہا ئشی محمد بخش ولد کلملی کا لا ش کراچی سے بر آمد ہو ا۔

کیا آپ ان تمام سنجیدہ اور پیچیدہ معاملا ت کو دیکھ رہے ہیں؟ کیا آپ پا رلیمنٹ میں رہتے ہوئے ان تمام ہونے والے واقعات کوصرف لاپتہ ہونے والے نعرے میں دفن کرتے رہیں گے یا عملا اس پارلیمنٹ سے اپنے رشتے کو بر قرار رکھنا چاہیں گے جہاں آپ کو غلامی اور بے ضمیری کا احساس دلاتا رہے ۔

کیاآپ نو آبادیا تی نظام یا قابض اور مقبوضہ کے رشتے کو ان لاپتہ افراد کے نام نہاد بازیابی کے بیہودہ نعرے میں اپنی پارٹی ساکھ کو مستحکم رکھنا چاہتے ہیں یا اسٹبلشمنٹ کی جی حضوری کرکے سادہ لوح بلوچوں کو ماضی میں کیئے جانے والے بی این پی کے ناکام تجربوں کے چنگل میں ایک دفعہ پھر جکڑنا چاہتے ہو۔

بی این پی کی موجودہ پالیسی اور ماضی کی ناکامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچ حلقوں میں چند چیزیں زیر بحث ہوتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ آیا پاکستانی پارلیمنٹ میں رہتے ہوئے اختر صاحب واقعی اتنی قدر اور اہمیت رکھ پاتا ہے جو برملا اور دو ٹوک انداز میں اسٹبلشمنٹ کے حوالے سے سخت زبان بول رہا ہے ۔واقعی اس جیسی پُرآشوب اور جنگی حالات میں اختر صاحب ان معاملات میں باہمی اور اجتماعی مسلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے ؟ یہ آنے والے وقت ہی بتا سکتا ہے۔

تحریر: ہونک بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close