روہنگیائی مسلمانوں کے قتل عام کا افسوس ہمیں بھی ہے لیکن!

کوئٹہ/اداریہ(ریپبلکن نیوز)  برما میں جاری گزشتہ کئی سالوں سے روہنگیائی مسلمانوں پر مظالم قابل مزمت ہیں، کوئی بھی انسان دوست شخص برما میں جاری ریاستی دہشتگردی کے حمایت نہیں کر سکتا۔ بحیثیت بلوچ ہم روہنگیائی مسلمانوں کے  درد و غم اور تکلیف بہتر محسوس کرسکتے ہیں کیونکہ ہم خود اسی کیفیت سے گز ررہے ہیں۔

برمامیں اس وقت بظاہر  جمہوری حکومت قائم ہے لیکن پشت پردہ وہاں فوج کا کنٹرول ہے اور ریاست کے تمام اختیارات فوج کے  زیردست ہیں۔ برما کی آبادی کا 85 فیصد بدمت کے پیروکار ہیں جسے امن کا مزہب بھی کہا جاتا ہے دوسری جانب ہیی امن کے ماننے والے دوسری جنگ عظیم کے بعد سےلیکر موجودہ دن تک برما میں موجود دیگر مزاہب کے ماننے والوں کی نسل کشی میں تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔

برمی حکومت کی ملک میں اقلیت کے  لیے نفرت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران برما نے جاپان کا ساتھ دیا تھا جبکہ ملک میں موجود اقلیتوں نے برطانیہ اور امریکہ کا ساتھ دیا تھا جس کی وجہ سے ان اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت پائی  جاتی ہے۔ صدیوں سے آباد روہنگیائی مسلمانوں کو حکومت وقت خارجی قرار دے چکی ہے، حکومت کا موقف ہے کہ روہنگیائی مسلمانوں کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے جبکہ بنگلہ دیش انہیں اپنانے سے انکارکرتا رہا یے اور بنگلہ دیش نے برما سے لگنے والی سرحد کو بھی بند کردیا یے۔ سرحد کی بندش کے باوجود ہزارروں روہنگیائی بنگلہ دیش میں داخل ہوچکے ہیں۔

گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر لاشوں کے تصاویر کے امبار ہیں،۔ فیسبک کھولتے ہی کسی  لاش کی تصویر نظر آتی ہے یا کسی کو قتل کرنے کی ویڈیوں نظر آتی ہے جنہیں روہنگیائی مسلمان کہہ کر آگے شئیر کرنے کو کہا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت ان تصاویر کا روہنگیائی مسلمانوں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ سوشل میڈیا میں اکثروبیشتر تصاویر جعلی ہوتے ہیں جنہیں برمی مسلمانوں سے جوڑکر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

برما میں ریاستی افواج اود دیگر ریاستی ادارے جس وحشی پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں اسکی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔ اور جس طرح پاکستانی مسلمان ان مظالم کے خلاف سوشل میڈیا کے زریعے آواز بلند کر رہے ہیں بہت اچھی بات ہے، نہ صرف مسلمان بلکہ ظلم کسی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو آواز بلند کرنا ہر انسان کا اخلاقی فرض بنتا ہے۔

جب کوئی غیر مسلم ملک مسلمانوں پر ظلم کرے تو قابل مزمت لیکن اس سے زیادہ مظالم جب ایک مسلمان ملک مسلمانوں پر ہی ڈھائے تو خاموشی؟ کیا یہ منافقت یا دوغلہ پن نہیں؟

پاکستانی ریاست کے وجود میں آنے سے لیکر آج تک بلوچستان میں نہ بلوچوں کی عزت محفوظ ہے نہ ہی جان و مال۔ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن میں اب تک ہزاروں بلوچ فرزندوں کو اغوا و شہید کیا جا چکا ہے۔ 2004 سے جاری پانچویں فوجی آپریشن میں بلوچ قوم کے رہنماؤں سمیت ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو چن چن کر اغوا و شہید کیا جا رہا ہے۔ 20 ہزار سے زاہد لوگ گمشدہ ہیں جنہیں برمی افواج نے نہیں بلکہ پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغوا کیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں کو دوران حراست شہید کیا گیا ہے اور یہ سب بھی ایک مسلمان ملک کے فوج نے کیا ہے لیکن اس پرپاکستانی خاموش۔۔۔!

یہ تصاویر روہنگیائی مسلمانوں کی نہیں ہے بلکہ یہ وہ بد نصیب مسلمان ہیں جن کی نسل کشی پر امت مسلمہ خود برابر کا شریک ہے کیونکہ انہیں قتل کرنے والا ایک مسلمان ملک کا مسلمان افواج ہیں۔ بلوچ فرزندوں کی تشدد زدہ لاشوں کے ایسے ہزاروں تصاویر موجود ہیں جو دیگر تصاویر کی طرح جعلی بھی نہیں، لیکن پر بھی پاکستانی مسلمان ان مظالم پر خاموش ہیں۔

برما پاکستان سے2813کلو میٹر کی دوری پر واقع ہےلیکن پھر بھی پاکستانی ٹی اینکرز یا زرائع ابلاغ سے وابستہ افراد وہاں جاکراپنے مسلمان ہونے کا سبوت پیش کرتے ہیں دوسری جانب بلوچستان پاکستان کے اندرہوتے ہوئے بھی صحافی یا انسانی حقوق سے وابستہ لوگ جانا گوارا  نہیں سمجھتے کیونکہ وہاں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والا ایک مسلمان ملک ہے۔

انسانوں پر مظالم ایک غیر مسلم ملک ڈھائے یا مسلمان ریاست اس پر فرق کرناانسانیت کی قدر سے انکار کرنے کے مترادف ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہے چائے وہ کسی بھی مزہب یا نسل سے تعلق رکھتاہو۔ ہمیں پوری انسانیت کے لیے آواز بلند کرنا چاہیے، چائے وہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی یا کسی بھی مزہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close