برسلز میں بلوچستان سے بھیجا گیا وفد کسی زاویے سے بلوچوں کے نمائندے نہیں۔بی ایس او آزاد

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد نے بلوچستان کے کٹھ پتلی وزرا کو جرمنی بھیجنے اور بلوچ تحریک کے خلاف رٹائے گئے الفاظ دہرانے کو نفسیاتی شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام تر کوششوں کے بعد بھی قابض ریاست بلوچستان میں کیے جانے والے انسانیت پر جبر کے واقعات کو چھپانے میں ناکام رہی ہے، اور اب عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے مختلف ذریعوں کو استعمال کررہا ہے۔ برسلز میں بلوچستان سے بھیجے گئے وفد میں شامل افراد کسی بھی زاویے سے بلوچوں کے نمائندے نہیں البتہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر ہیں۔ وہ تمام پارٹیاں اور شخصیات جو بلوچ قومی آزادی کے خلاف ریاست کے ہمکار ہیں، ان کے لئے بلوچ معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ 2013کی عام انتخابات کا بائیکاٹ ریاست اور اس کے گماشتوں کے لئے ایک واضح پیغام تھا کہ بلوچ اپنی آزاد ریاست کی بحالی کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ایک ایسے حکومت کے اراکین کا خود کو بلوچ عوام کانمائندہ کہنا مضحکہ خیز ہے کہ جو اتخابی دھاندلی کے باوجود5فیصد سے بھی کم ووٹوں پر مخلوط صوبائی حکومت بنا چکی ہے۔ بی ایس او آزاد نے گزشتہ روز حب چوکی میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان پر توہین مذہب کے الزام اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس کے خلاف احتجاج کو بلوچ آزادی کی تحریک کو کاؤنٹر کرنے کی ریاستی پالیسیوں کی کھڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدت پسندگروہوں کو ریاست کی سرپرستی حاصل ہے۔ ریاست کروڑوں روپے خرچ کرکے معاشرے میں ایک ایسی نفسیات کو پروان چڑھا رہی ہے کہ جہاں معمولی اختلاف پر لوگوں کو قتل کیا جائے گا۔ بلوچستان کی سیکیولر سوسائٹی ہمیشہ ایسی سوچ کے سامنے مزاحم رہی ہے لیکن طاقتور ریاستی مشینری بلوچ معاشرے کو بڑی حد تک نقصان پہنچا چکی ہے۔ حب چوکی کا حالیہ واقعہ اور اس سے پہلے شیعہ کمیونٹی، ہزارہ برادری اور مزارات پر حملے اس جانب واضح اشارے ہیں۔ توہین مذہب جیسے اصطلاح گھڑ کر ریاست مشتعل ہجوم کو یہ اختیار فراہم کرچکی ہے کہ وہ کسی افواہ کی بنیاد پر کسی انسان کو قتل یا سرعام تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بی ایس او آزاد نے کہا کہ بلوچستان میں مذہب کے نام پر ہونے والے قتل عام اور کشیدگی کے پیچھے ریاست کے سیاسی مفادات ہیں۔ ان ہتھکنڈوں کے استعمال سے ریاست بلوچ تحریک کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے بلوچ عوام اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مذہبی شدت پسندوں کے بہکاوے میں آنے کے بجائے برداشت اور امن پسندی کی ہزاروں سالہ روایات کو برقرار رکھیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close