بلوچ قومی تحریک آزادی مفادی ٹولے کے شکنجے میں تحریر : میر بگٹی

کوئٹہ /مضمون (ریپبلکن نیوز) بلوچ تحریک آزادی کا اگر باریک بینی اور نزدیکی سے مخلصانہ جائزہ لیا جائے۔
تو ہر وہ غیرت مند و باشعور بلوچ سرزمین کی آزادی سے پیار کرنے والا بلوچ میرے کالم کے اس موضوع سے صد فیصد اتفاق کرے گا۔
میرا مطلب بلوچ وطن کی آزادی کی تحریک سے وابستہ کسی بھی سچے ایماندار بلوچ سیاسی و غیر سیاسی لیڈران و کارکنان کو ہر گز تنقید کا نشانہ بنانا نہیں ہے۔میں صرف اس مفادی ٹولے کا کھل کر ذکر کرونگا۔

جنہوں نے آج کل اپنے ذاتی مفادات اور خود کو بلوچ رہنما اور آزادی کا لیڈر منوانے اور بیرونی دنیا کے سامنے آزادی وطن کے نام پر فنڈ بٹورنے کے چکر میں بلوچ قومی تحریک آزادی کو غیر مہذب طریقوں سے ناقابل تلافی نقصانات پہنچانے کے غیر مہذب طریقوں سے مصروف عمل ہیں۔جب آپ ان مفادی ٹولے کے کسی بھی فرد سے ایک بار مل لیں۔یا پھر سوشل میڈیا پر ان کے ٹوئٹ / پوسٹ/ کمنٹ اور اپنے ہی ٹولے کے بنانے ہوئے ویب سائیڈوں پر ان کی باتیں ان کے بیانات کو ذرا غور سے پڑھیں گے اور سنیں گے۔
تو خود بخود آپ کو اس مفادی ٹولے کے بارے میں آگاہی مل ہی جائے گا۔
یہی میڈل کلاس کا مفادی ٹولہ بنام تعلیم یافتہ بلوچ کے بلوچ تحریک آزادی پر کی نہ کسی طرح سے قبضہ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔بغیر کسی ٹکر و قبیلہ بغیر کسی ذات پات کی بنا کسی اونچ نیچ کے میں ہر اس بلوچ مرد و خواتین کا تہہ دل سے عزت کرتا ہوں اور کرتا رہونگا۔جو بغیر ایسے کسی مفادی ٹولے کے بلوچ قومی تحریک آزادی میں سرگرم عمل ہیں۔جس لحاظ سے بھی وابستہ ہیں۔
جنگی و سیاسی ظاہری یا باطنی بلکہ تمام بلوچ قوم میرے لیے قابل احترام ہیں۔ تھے اور رہیں گے۔انشاءاللہ بغیر اس مفادی ٹولے کے۔
جو موسم و ماحول اور حالات دیکھ کر اپنے ناپاک خول سے باہر نکل کر بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو اپنے شکنجوں میں جکڑنے کی غلیظ حرکات شروع کر دیتے ہیں۔

کبھی بلوچ قومی تحریک آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والی بلوچ قومی تنظیموں اور ان کے کارکنان کے درمیان قومی اتحاد کے نام پر دراڑیں ڈالنے اور کبھی ناتمام ہونے والی بدنیتیاں و بدگمانی پیدا کرنا۔یہی مفادی ٹولہ ہمہ وقت آزادی پسند بلوچ سیاسی و غیر سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کی بارہا کامیاب و ناکام کوششوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔سب سے بڑی اور اہم بات اس مفادی ٹولے کی یہ ہے۔
یہ مفادی ٹولہ خود کو بلوچ سرزمین اور قومی تحریک آزادی کا واحد وارث سمجھتے ہیں۔اور اپنے ہر انتشاری و تفرقی فیصلوں کو حرف آخر سمجھ کر فیس بک اور سوشل میڈیا کے ذریعے قومی تحریک آزادی اور باشعور و غیرت مند بلوچ قوم پر مسلط کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
اور یہی مفادی ٹولہ خود کے علاوہ تمام آزادی پسند بلوچ قومی رہنماوں اور کارکنوں سیاسی و غیر سیاسی بلوچوں کو غدار سمجھتے ہیں۔
اور ہر وقت یہی مفادی ٹولہ بلوچ قومی تحریک آزادی کو اپنے شکنجے میں لانے کی ناکام و غیر مہذب طریقوں پر عمل پیرا ہیں۔
یہی مفادی ٹولہ اکثر اوقات بڑے فخریہ انداز میں خود کو اعلی تعلیم یافتہ بلوچ مانتے ہوئے باقی تمام بلوچ قوم کو قبائلی کہہ کر آزادی کے لیے ناسور کہتے ہیں۔

اور اکثر اوقات یہی تعلیم یافتہ مفادی ٹولہ بلوچ قومی اور قابل احترام آزادی پسند بلوچ نواب و سرداروں کو بلوچ قومی تحریک آزادی کا دشمن ثابت کرنے کی سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں۔انہی غیرت مند بلوچ قومی رہنماوں نواب اور سرداروں کو پاکستانی ریاست اور اس کی فوج بھی اپنا حقیقی دشمن مانتا ہے۔انہی ممتاز آزادی پسند بلوچ قومی نواب اور سرداروں کے سروں کی قیمتیں پاکستانی آئی ایس آئی مقرر کر چکی ہے۔اور مفادی ٹولہ بھی انہی بلوچ آزادی پسند قومی رہنماوں پر اپنے ذاتی مفادات و من مانیوں کی خاطر ناجائز تنقید کرتے رہتے ہیں۔وہ بھی صرف اس لیے یہی مفادی ٹولہ بلوچ قومی تحریک آزادی پر مکمل قبضہ کرکے اپنے اپنے ذاتی مفادات کو با آسانی پائیہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔

تحریر : میر بگٹی

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون اور لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker