بیشک اللّٰہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ تحریر: نذر بلوچ قلندرانی

کوئٹہ/ مضمون (ریپبلکن نیوز) کہہ جاتا ہے کہ جب کوئی شخص اکیلا اور بے سہارا ہوں تو وہ اپنے ساتھ کھڑے ہر شخص کو اپنا سہارا سمجھتا ہے

مگر افسوس آج ہمارے معاشرے میں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے یہاں ایک شخص اپنے گھر بنانے کے لئے بے سہارا عوام کو استعمال کررہا ہے اور کرپشن کے نام پر ریلیاں نکل کر افسرانوں سے نوکریاں وصول کرنے کے لئے بھی بے سہارا عوام کو استعمال کررہا ہے۔

یہاں سکولوں ہسپتالوں نوکریاں اور بہت سے سکیمیں عوام کے نام استعمال کر کے اپنے لیے اعلی شان محلے بنائیں جاتے ہیں۔

یہاں ایک صحافی نام و عزت بڑھانے کے لئے بڑے بڑے لوگوں پر تحریر و رپورٹس بنا کر ٹی وی پہ چلا رہے ہیں اور جب ان پر مشکلات پیش آتی ہے تو پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز اٹھایا۔ حالانکہ ایک معمولی سیاستدان عوام کے ہی سہارے سے ایک وزیر بنتا ہے اور بڑے بڑے عہدیداروں پر تعینات ہو جاتے ہیں اور پھر وہی شخص عوام پر موڑ کے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔

پھر جب انہی سیاستدانوں کا گھیرا تنگ ہو جاتا ہے تو وہ پھر سے بے سہارا اور مظلوم عوام کو اپنا ہتھیار بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور اللّٰہ مظلوم کی بدعائیں کبھی بھی رد نہیں کرتا ایک مظلوم کی بدعا سے ایک ظالم بارودی کی زد میں آکر عبرت ناک انجام تک پہنچتا ہے لیکن افسوس اس عبرت ناک واقعہ میں سبق سیکھنے کے بجائے ان کے رشتہ دار انہیں شہادت کے نام دے کر بڑی خوشی سے ان دفنا دیتے ہیں،

تحریر: نذر بلوچ قلندانی

مزید خبریں اسی بارے میں

Close