اسلام آباد والوں کے لیے حانی کے آنسوبے معنٰی!

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز/مضمون) واحد بلوچ کے بارے میں کچھ لکھنے سے پہلے ہمیں لفظ کامریڈ کو سمجھنا چاہیے۔ کامریڈ کے لفظی معنی ‘دوست ، ساتھی ‘ کے ہیں لیکن اس الفاظ کو فرانس انقلاب میں پزیرائی ملی جس کے بعد سوشلسٹ، کمیونسٹ سمیت مختلف نظریات کے لوگوں نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔


مغوی واحد بلوچ جو کامریڈ سے جانے جاتے ہیں کو پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے 26 جولائی 2016کو اس وقت اغوا کیا جب وہ عمر کوٹ سے کراچی آرہے تھے۔انکے ہمراہ صابر ناگمان جنہیں فورسز نے چند گھنٹوں بعد رہا کردیاتھاکے مطابق پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ٹول پلازہ کے قریب ہمیں گرفتار کر لیا اور مجھے دو گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا جبکہ واحدبلوچ اب تک انکے قید میں ہے۔


کامریڈ واحد کو اغوا کیوں کیا گیا، کیا وہ کسی مسلح تنظیم کا کارکن یا سہولت کار تھا۔۔۔؟
ًبالکل نہیں۔۔۔!
کامریڈ ایک علم دوست کتاب دوست اور بلوچ دوست اورانسان دوست شخص ہے۔ ان سے میری ملاقات کراچی پریس کلب کے باہر ہمیشہ ہوتی رہتی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ بلوچ لاپتہ افرادکے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے پریس کلب کے باہر لگائے گئے بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود رہتے تھے۔


میں انہیں اس لیے بھی جانتا ہوں کیونکہ میرا تعلق ایک سیاسی تنظیم سے ہے اور مختلف سیاسی سرگرمیوں میں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھی۔میں نے کامریڈ واحد میں ایک ‘انسان’ کو محسوس کیا ہے۔انسان میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ وہ ہر وقت دوسروں کے درد میں شریک رہتا تھا انکے درد کو اپنا درد سمھتے ہوئے ہمہ وقت انکی مدد کے لیے تیار رہتا تھا۔


کامریڈ واحد بلوچ کو اغوا کرکے پاکستانی ریاست ہمیں کیا پیغام دینا چاہتی ہے اسے سمجھنا مشکل نہیں۔ایک کتاب دوست انسان کو اغوا کر کے ریاست ہمیں بتانا چاہتی ہے کہ بلوچوں کے ہاتھوں میں کتاب کسی صورت برداشت نہیں کیے جائینگے۔


کیونکہ ایک قبضہ گیر ریاست جو ایک قوم کی سرزمین پر قابض ہوہمیشہ اسی کوشش میں رہتی ہے کہ جیسے بھی کر کے اس قوم کو علم اور تعلیم سے دور رکھا جائے۔کیونکہ وہ اچھے طرح جانتے ہیں کہ جو طاقت علم میں ہے وہ بندوک سے نکلی گولی میں نہیں۔


واحد بلوچ کے اغواء پر پاکستانی حکمرانوں کی خاموشی کوئی حیران کن بات نہیں ،لیکن بین القوامی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی یقیناحیران کن ہے۔یہی انسانی حقوق کے ادارے سعودی میں گرفتار ایک بلوگر کے لیے آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں جو قابلِ تحسین ہے لیکن بلوچوں کے اغواء خاموش رہتے ہوئے یہ ادارے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔۔۔؟


اگر پاکستانی میڈیا کا ذکر کیا جائے تو پاکستانی میڈیا کو بلوچ یا بلوچستان کے علاوہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے کی آزادی حاصل ہے۔


پاکستانی میڈیا کے لیے حانی کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں سے کوئی لگاؤنہیں لیکن کشمیریوں پر ہوتے مظالم پر پاکستانی میڈیا خاموش رہے یہ ممکن نہیں۔حالانکہ پاکستانی میڈیا کے لیے پنجاب میں گھدوں اورسور کے دوشت فروخت ہونا ایک موضوع بحث ہے لیکن بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کے لاشوں سے غائب عاضا اہمیت کے حامل نہیں۔لیکن پھر بھی پاکستان میں حکمرانی کرنے والی غیر مہذب قوم بلوچوں کوایجنٹ، غدار سمیت پتہ نہیں کیسے کیسے سرٹیفیکیٹ بانٹتے پھرتے ہیں جن کے لیے میرا واضح پیغام یہی ہے کہ اگر اپنی قوم کی خوشحالی اور بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کرنا غداری ہے تو ہمیں فخرہے اپنے غدار ہونے پر۔۔۔!

تحریر: میر جان بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close