طالبان پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کو کیوں مارنا چاہتے ہیں، جانیئے اس رپورٹ میں

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر پاکستانی آرمی اور ملکی خفیہ ادارے دہائیوں سے پختون قوم کی نسل کشی میں مصروف ہیں، اور طالبان کے نام پر ہزاروں کی تعداد میں نہتے اور بے گناہ پشتونوں کو قتل کیا جاچکا ہے، جبکہ بلوچستان کی طرح فاٹا(جسے حال میں خیبرپختونخواہ میں شامل کیا گیا) میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو جبری طورپر لاپتہ کیا گیا ہے۔

کراچی میں پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں بے گناہ شخص، نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے ایک تحریک شروع کی گئی جس کا مقصد بے گناہ پشتونوں کے قتل عام کو بند کرنا اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔

بیرون ممالک میں پاکستانی دہشتگردی کے خلاف اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیئے جائیں، کیونکہ پاکستانی ریاست پُرامن زبان سمجھنے سے قاصر ہے۔ منظور پشتین

 

پشتون تحفظ موومنٹ کی رہنمائی منظور پشتین نامی ایک نوجوان کر رہا ہے، جبکہ علی وزیر کو اس تنظیم کا ماسٹر مائنڈ خیال کیا جاتا ہے،  وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں طالبان پہلے ہی علی زیر کے 12 سے زائد رشتے داروں کو قتل کرچکی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے قیام سے پہلے پاکستانی عسکری ادارے جس پشتون کو چاہتے باآسانی اغوا و شہید کردیتے، لیکن حالیہ چند عرصوں میں یہ تنظیم بڑی طاقت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئی ہے جسے پشتون سمیت دیگر اقوام کی بھی حمایت حاصل ہے۔

پی ٹی ایم پُرامن اور سیاسی و جمہوری اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے لاپتہ پشتون باشندوں کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، لیکن یہ بات ریاستی عسکری اداروں کو چھب رہی ہے، کیونکہ عسکری ادارے کئی سالوں سے پشتونوں کے قتل عام سے بیرونی امداد حاصل کرتے رہے ہیں، اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام بے گناہ پشتونوں کو بے دردی سے قتل کرتے ہوئے انہیں دہشتگرد قرار دیکر امریکہ سمیت دیگر ممالک سے امداد بٹورتے رہے ہیں۔

پی ٹی ایم کراچی، کوئٹہ، لاہور اور سوات سمیت مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں عوامی اجتماعات منعقد کر کے بہت کم عرصے میں لوگوں کی توجہ پاکستانی مظالم کی جانب مبزول کرانے میں کامیاب رہی ہے۔ اور پی ٹی ایم کے  جلسوں، مظاہروں اور ریلیوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت نے ریاستی عسکری اداروں کو پریشانی میں مبتلہ کردیا ہے۔ پی ٹی ایم کے تقریبات میں ایک بڑی تعداد لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی بھی ہوتی ہے جنہیں پاکستانی خفیہ اداروں اور فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے۔

مزید رپورٹس پڑھیں:

عام انتخابات کے قریب آتے ہی بلوچستان میں مزاحمتکاروں کے جعلی سرنڈر کا ڈرامہ شروع

ایک ایسی خاتون جس نے اپنی زندگی بلوچستان میں تعلیم عام کرنے میں لگا دی لیکن!

لاشیں اٹھانے سے بہتر ہے آواز اٹھایا جائے

پشتون تحفظ موومنٹ کو پاکستانی الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا مکمل نظر انداز کرتے رہے ہیں جبکہ عسکری اداروں کے کہنے پر اس تنظیم کا میڈیا ٹرائل بھی جاری ہے۔

 کل بروزِ اتوار پاکستانی حمایت یافتہ طالبان اور پاکستانی مسلح افواج نے پی ٹی ایم کے اہم رہنما علی وزیر پر اُس وقت حملہ کردیا جب وہ طالبان سے ملنے ایک جرگہ میں شرکت کرنے جارہے تھے، طالبان نے انہیں دھمکی دے رکھی تھی  کہ اگر وہ پی ٹی ایم کو خیرآباد نہیں کہتے تو انہیں بھی قتل کردیا جائے گا۔

ریاستی ادارے اب پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے، اور اپنے پالے ہوئے طالبان کے زریعے پی ٹی ایم کے رہنماوں کو نشانہ بنانامقصو ہوگا۔

 

علی وزیر پر ہونے والے اس حملے میں 12 سے زائد لوگ شہید ہوئے، جن میں بچے بھی شامل تھے، جبکہ علی وزیر اس حملےمیں محفوظ رہے۔ علاقائی زرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق پاکستانی فورسز اور طالبان نے 40 منٹ تک علی وزیر کے قافلے پر چھوٹے اور بڑے ہتیاروں سے حملہ جاری رکھا۔

 پاکستانی ادارے پی ٹی ایم کو غداری کا سرٹیفیکٹ  دے چکے ہیں، اور تمام تر کوششوں کے باوجود بھی اس تنظیم کو روکھنے میں ناکام رہے ہیں، اور بالآخر اتوار کے دن ریاستی اداروں نے اپنے اسٹریٹجک اثاثہ (طالبان) کے ساتھ مل کر علی وزیر پر حملہ کرتے ہوئے 12 سے زائد لوگوں کو شہید کیا اور یہ پیغام دیا کہ اگر پشتون تحفظ موومنٹ لاپتہ پشتونوں کے لیے آواز بلند کرنا بند نہیں کرتی تو ریاست کے پاس طاقت کے استعمال  کا آپشن موجود ہے۔

علی وزیر پر حملے کے ردِ عمل میں پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے پاکستان اور بیرون ممالک میں احتجاجی مظاہروں کے لیے لوگوں سے اپیل کی ہے۔ منظور پشتین نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ بیرون ممالک اور پاکستان بھر میں ریاستی دہشتگردی کے خلاف بھرپور آواز بلند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے سامنے احتجاج کیا جائے کیونکہ پاکستان پُرامن زبان سمجھنے سے قاصر ہے۔

پاکستانی عسکری ادارے ہمیشہ سے ہی پُرامن تحاریک کے خلاف طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتے رہے ہیں، جس کی مثال بلوچستان میں فوجی آپریشن سے ہمیں ملتی ہے، جہاں حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو فوجی آپریشن کے ذریعے کچلنے کی ناکام کوشش کی گئی،اور اس کے اثرات سے ریاستِ پاکستان اب تک نکلنے میں ناکام ہے۔

ریاستی ادارے اب پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے، اور اپنے پالے ہوئے طالبان کے زریعے پی ٹی ایم کے رہنماوں کو نشانہ بنانامقصو ہوگا۔ تاکہ پشتونوں کے لیے اٹھنے والی صداوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کیا جاسکے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker