باکسر محمد علی اب ہم میں نہیں رہے

Muhammad Aliواشنگٹن(ری پبلکن نیوز) باکسر محمد علی اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کے زوردار پنچ کھانے والوں کی طرح باکسنگ کے دلدادہ افراد کے دلوں سے ان کا نقش مٹایا نہ جا سکے گا۔
محمد علی دنیا بلاشبہ دنیاکے بہترین باکسر قرار پائے ،امریکی و برطانوی میڈیا نے انہیں اس صدی کا بہترین کھلاڑی قرار دیا ہے۔بارہ سال کی عمر سے باکسنگ کے شعبہ میں قدم رکھنے والے محمد علی نے 1981میں ریٹائرمنٹ تک بے شمار گولڈ میڈلز جیتے ۔اپنے 25سالہ کیرئیر میں وہ صرف پانچ بار میچ ہارے جبکہ 56مقابلوں میں انہوں نے کامیابی سمیٹی۔
رنگ کے بادشاہ کی ایک اور پہچان ان کے پر اثر اقوال ہیں جو لوگوں کے دلوں کو چھو جاتے ہیں۔ذیل میں ان کے چند اقوال پیش کئے جاتے ہیں جوبہت مقبول ہوئے:
محمد علی کہتے ہیں کہ ” تتلی کی طرح منڈلاؤ شہد کی مکھی کی طرح ڈنک مارو،’اسے تمہارے ہاتھ نہیں مار سکتے جسے تمہاری نظر نہ دیکھے “
اسلام قبول کرنے پر مخالفت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ: ’ہمیں واقعتاً یہ چیز دکھ دے رہی ہے کہ اس کے ساتھ اسلام کا نام جڑ گیاا ہے اور مسلمان پریشانی، نفرت اور تشدد پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ اسلام قاتلوں کا مذہب نہیں، اسلام کا مطلب امن ہے۔‘
دل کی بہت مانتے تھے کہتے تھے :”اگر میرا ذہن سوچ لے اور میرا دل اس پر یقین کرلے تو میں اسے حاصل کرسکتا ہوں“
محمد علی اپنی جیت کامیابیوں اور بہادری کو خود بھی سراہنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے ،ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ :’میں عظیم ترین نہیں بلکہ دگنا عظیم ترین ہوں۔ نہ صرف میں انھیں مار گراتا ہوں بلکہ میچ بھی جیت جاتا ہوں، آج میں رنگ میں دنیا کا بہادر ترین، خوبصورت ترین، عظیم ترین، معقول ترین، ہنرمند ترین فائٹر ہوں۔‘
باکسنگ کے بارے میں کہتے تھے کہ:’یہ صرف ایک کام ہے، گھاس اگتی ہے، چڑیاں اڑتی ہیں، لہریں ریت کو بہا لے جاتی ہیں اور میں لوگوں کو مارتا ہوں۔‘
وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ”میری طرح عظیم ہونے کے بعد عاجز ہونا مشکل ہے“
ایک موقع پر عاجزی کے حوالے سے انہوں نے انوکھی منطق پیش کی کہ :” میں نے جانا ہے کہ عاجز لوگ بہت آگے نہیں جاتے۔‘
ان کے بارے میں یہ سب پڑھ کے ان کی یہ بات مسکرانے پر مجبور کردے گی کہ :’کیا دنیا میں کبھی ایسا کوئی فائٹر ہوگا جو شعر کہتا ہو، پیش گوئیاں کرتا ہو، ہر کسی کو ہراتا ہو، لوگوں کو ہنساتا ہوں، لوگوں کو رلاتا ہو اور جو میرے جتنا لمبا اور میرے جیسا خوبصورت ہو؟‘
وہ شاید کسی کو خواب میں بھی ہرانے کی اجاز دینے کے روادار نہ تھے،کہتے ہیں کہ :’اگر تم خواب میں بھی مجھے ہرانے کا خیال رکھتے ہوتو بیدار ہو جاؤ اور مجھ سے معافی طلب کرو۔‘
اپنی بیماری کے حوالے سے انہوں نے کیا خوب کہا کہ :’شاید میری بیماری خدا کی جانب سے مجھے یہ یاد دہانی ہو کہ کیا چیز اہم ہے۔ اس نے مجھے سست کر دیا اور بولنے کے بجائے سننے پر مجبور کر دیا۔ درحقیقت لوگ مجھے اب زیادہ توجہ دیتے ہیں کیونکہ اب میں زیادہ نہیں بولتا۔‘
وہ کہتے تھےکہ:’میں باکسنگ کی کمی محسوس نہیں کروں گا باکسنگ میری کمی محسوس کرےگی۔‘
آج وہ ہم میں نہیں لیکن ہر زبان پر ان کا تبصرہ ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close