لاپتہ بلوچ اسیران کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3234دن ہوگئے

VBMPکوئٹہ(ریپبلکن نیوز) لاپتہ بلوچ ایسران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3234دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او کے چیئرمین ن زید احمد بلوچ جنرل سیکرٹری جالب بلوچ جونیئر وائس چیئرمین خالد بلوچ جوائنٹ سیکرٹری شوکت بلوچ اور انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ نے لاپتہ افراد شہداء کے لوحقین سے اطہار یکجہتی کی اور بھر ور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے بلوچستان یونیور سٹی کو چھاونی بنا یا گیا ہے ۔ طلباء یہ نہیں جانتے ہیں کہ ہم یونیور سٹی میں آئے ہیں یا چھاونی میں بلوچستانمیں بلوچ طلباء نوجوانوں سیاسی کارکنوں حقیقت پسند صحافیوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کی فورسز و خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء نما گرفتاریوں جبری گمشدگیوں ان پر سفاکانہ جبر تشدد اور قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشوں کو پھنکنے بلوچ نسل کشی جنگی جرائم جس قدر بڑھ رہے ہیں ۔ اتنا ہی اقوام متحدہ سمیت حق و انصاف کی داعی بین القوامی قوتوں کو یہاں جنم لینے والے انسانی المیوں پر خاموشی اور بے حسی طویل ہورہی ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بلوچ طلباء پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغوا نماء گرفتار کئے جانے کے بعد تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ بے حسی صرف پاکستانی ریاست اور اس کی محافظ قوتوں اور دیگر حلقوں میں ہی پائی نہیں جاتی بلکہ اقوام متحدہ جیا وہ ادارہ بھی جس کی اساسی دستاویز و نکات میں قومی خود مختاری و آزادی اور انسانی حقوق کی پاسداری والین ترجیحات قرار پائی تھیں وائس فار مسنگ پسرزن کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان پر نو آبادیاتی قبضے اور بلوچ نسل کش ریاستی پالیسی سے مسلسل نظریں چرا رہے ہیں اس کردار سے ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ نے حکمران نو آبادیاتی ریاستی مفادات کے تحفظ کی ایسی عینک لگار ہی ں۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم کو درپیش نسل کشی جیسے جنگی جرائم پر دو ہرا معیار اختیار کیا جا رہاہے ۔ لاپتہ بلوچ آئے روز ان کی مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں بازیابی برآمدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اور اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کیلئے متاثرہ لواحقین بوڑھے بچوں اور خواتین سمیت عدالت میں پیش ہونے کے متمنی ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close