فروری میں فورسز نے 189افراد کو اغواء اور 64کو شہید کیا۔ بی این ایم

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ نے میڈیا میں فروری2017 کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ فروری2017 کو ریاستی فورسز نے مقبوضہ بلوچستان میں120سے زائد آپریشن کر کے189 سے زائد افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا،جبکہ اسی ماہ64 لاشیں برآمد ہوئیں، 37 افراد فورسز کے ہاتھوں دوران حراست،ٹارگٹ و آپریشن میں شہید کئے گئے،جبکہ25 افراد کے قتل کے محرکات سامنے نہ آ سکے اور دو لاشوں کی شناخت نہ ہو سکی،فروری کے ماہ فورسز نے143 گھروں کو لوٹ مار بعد نذر آتش کیا،فورسز کی تشدد خانوں سے 7 افراد بازیاب ہوئے،دوران آپریشن 8 افراد زخمی ہوئے،اسی ماہ ڈیرہ بگٹی سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ خواتین و بچوں کی اجتماعی قبر کی دریافت ہونے کے سات ڈیرہ بگٹی،کوہستان مری میں فوجی آپریشنوں کی صیح تعداد بھی سامنے نہ آ سکی جسکی وجہ فوج کی جانب سے مذکورہ علاقوں کا مکمل محاصرہ اور مواصلاتی نظام کی بندش رہی،فوجی آپریشن،لوگوں کی حراستی اغوا،شہادتوں و دیگر نقصانات کی تعداد اس سے کئی گناہ زیادہ ہو سکتی ہے۔جسکی مثال خود بمورخہ 18 فروری ریاستی بیان جس میں کہا گیا کہ بلوچستان میں دو سال دوران23805 افراد گرفتار اور552 ہلاک ہوئے ،مگر افسوس کی بات ہے کہ کسی بھی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نے صاحب اختیار لوگوں سے یہ پوچھنے کی گستاخی نہ کی کہ جناب یہ لوگ جو بیس ہزار سے اوپر ہیں یہ کون ہیں اور انکے تفصیلات سمیت یہ کہاں ہیں اسی طرح ان پانچ سو سے زائد لوگوں کی تفصیلات کے بارے میں بھی میڈیا کی جانب سے بھی کسی قسم کا سوال نہ اُٹھانا بھی خود سوالیہ نشان ہے جیسے وہ بھی بلوچ نسل کشی میں ریاستی قوتوں کے ساتھ برابر کے مجرم ہیں۔ تفصیلات ۔۔۔۔۔۔۔ 1 فروری کاہان،ڈیرہ بگٹی ،تمپ،آواران پاکستانی فوج کا آپریشن،33 سے زائد افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا گیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے علاقے پشینی فوجی آپریشن میں چار افراد شہید ہوئے، جنکی شناخت،تناؤ بگٹی،مومل بگٹی، جبکہ سوری،و گرد نواع میں زمینی و فضائی آپریشن جاری ہے۔ کیچ کے مختلف علاقوں، کا آپریشن، لیاقت رہائشی ملانٹ، لاپتہ آواران کرکین فوجی آپریشن ،گھروں میں لوٹ مار بعد تین نوجوانوں باقی،شفع، چللو کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔ آواران کے علاقے گند چاہی دوران آپریشن 80 سالہ غلام حسین ولد بہادین، مہم جان ولد بہادین،کو فورسز اُٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ چار موٹر سائیکل بھی ساتھ لے گئے۔ آواران کے علاقے شے کنہری آپریشن کے دوران دو افراد،یعقون ولد فتح محمد، نیک محمد ولد پیر محمد کو فورسز نے حراست بعد لاپتہ کردیا ہے۔ کیچ کے علاقے آبسر میں فوج نے تین افراد کو لاپتہ کر دیا جنکے شناخت شیر جان، نورا، فیض سے ہوئے۔ ہوشاپ کے علاقے سے گزشتہ دنوں فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے، سلیم ولد پیر محمد، شاکر دلدار بازیاب ہوگئے،جبکہ انکے ساتھ لاپتہ ہونے والے نواز پٹھان اور لیوار تاحال لاپتہ ہیں۔ 2 فروری ڈیرہ بگٹی فورسز کا آپریشن دو افراد حراست بعد لاپتہ کر دئیے۔ ڈیرہ بگٹی،کوہستان مری، فوجی آپریشن جاری کلیری میں فوج نے 80 سالہ بزرگ شاعر مسک علی ولد سبز علی کو شہید کر دیا ہے۔ 3 فروری تمپ کے علاقے کلاہو میں پاکستانی زمینی فوج نے آبادی پر حملہ کر کے شہید اصغر بلوچ کے گھر میں موجود تمام اشیاء لوٹ لیے اور کتابوں کو نذر آتش کر دیا۔پانچ افراد کو بھی فورسز اپنے ساتھ لے گئے،قاسم،رفیق،حلیم،خلیل،نعیم۔ مند بلو فورسز نے حاجی جواد اور اسکے دو ہمسایوں حاجی مولا بخش کتری، ملا اسلم کتری کے گھروں پر دھاوا بول کر تین سگے بھائیوں سمیت ۵ افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔نوید سولہ سال، سمیع اللہ،ثناہ اللہ ولد ملا اسلم،ذاکر ولد مولا بخش، حاجی جواد ۔ کیچ کے علاقے آسیا آباد سے فورسز نے شے مرید ولد امام بخش،نوید ولد میر احمد،صدام ولد بہرام،ظفر ولد عزت،دودا ولد در محمد کو لاپتہ کر دیا۔ کلاہو میں آپریشن، قاسم،رفیق،حلیم،خلیل،اور نعیم سمیت متعدد افراد گرفتار 4 فروری ڈیرہ بگٹی فوجی آپریشن جاری فورسز نے 5 لاشیں ہسپتال منتقل کر دئیے،جنکو فورسز نے دوران آپریشن پشینی کے مقام پر قتل کیا ۔لا خان بگٹی، رندان بگٹی، خان بخش بگٹی، جامو بگٹی، جمال بگٹی۔دوران آپریشن فوج نے ایک کمسن چراؤئے کو شہید کرنے ساتھ چار خواتین و دو بچوں کو بھی لاپتہ کیا۔ کیچ کے علاقے تمپ سے ایک لاش برآمد مقتول ساجد کو تین ماہ قبل جیونی سے اغوا کیا گیا تھا۔ 5 فروری پشین سے ایک لاش برآمد،شناخت نہ ہو سکی۔ ڈیرہ بگٹی فوجی آپریشن جاری،تین افراد شہید۔خواتین سمیت دس افراد حراست بعد لاپتہ کرئیے۔ آواران،نصیر آباد ،کوہلو فوجی آپریشن جاری،آواران کے علاقے بزداد میں مرید میتگ فورسز نے مکمل نذر آتش کر دیا۔ 6 فروری نصیر آباد نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک۔ خاران فورسز نے چار افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔ جنکی شناخت، ساجد ولد مراد سیاپاد، رہائشی بابو محلہ۔عامر بلوچ ولد حاجی غلام نبی گرگنڈی،اسرار بلوچ ولد ودود بادینی۔اور سیف ملا زئی۔ 7 فروری نصیر آباد سے لاش برآمد ،شناخت رسول بخش کے نام سے ہوئی۔ تمپ، مند سے اغواء ہونے والے نوجوان مہروان ولد قادر بخش رہائشی مند گوک گذشتہ روز بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔ * آواران میں آپریشن۔ * تمپ میں فورسز نے تین افراد کو گرفتار کرلیا۔ جن کے نام حنیف، لیلیٰ اور محمد ہیں۔ * لسبیلہ، نامعلوم افراد نے بابل نامی شخص کو گرفتار کرلیا۔ 9 فروری دشت کے علاقے پنودی فوج کا آپریشن ۵ افراد حراست بعد لاپتہ۔ سوئی فوج کا زمینی و فضائی آپریشن جاری۔ 10 فروری آبسر بنڈے قلات سے اجمل نامی شخص کی لاش برآمد ہوئی۔ زیارت کے علاقے سنجاوی سے لاش برآمد شناخت علی محمد ولد خان محمد سے ہوئی۔ کوئٹہ فائرنگ سے ندیم نامی شخص ہلاک ہوا۔ 11 فروری تربت و کولواہ فوجی آپریشن ۔چار افراد حراست بعد لاپتہ،گھروں میں لوٹ مار،دشت میں۸۰ سالہ بزرگ اسماعیل میار اور عبداللہ نامی شخص حراست بعد لاپتہ۔ قلات کلی سمندر سے لاش برآمد،شناخت میر جان محمد حسنی سے ہوئی۔ کمبیل دشت فورسز کے ہاتھوں تین ماہ قبل لاپتہ ہونے والا ملا ساجد ملازئی تربت سے بازیاب۔ 12 فروری مشکے کے علاقے پگوڑ فورسز نے آبادی کو محاصرے بعد غلام قادر نامی شخص کو لاپتہ کر دیا۔ دریجن و غازی فوجی آپریشن متعدد گھر نذر آتش 13 فروری خضدار کے تحصیل پاشتہ خان سے لاش برآمد ،شناخت پیر محمد حسنی سے ہوئی۔ 14 فروری دشت فورسز کے ہاتھوں25 نومبر2016 کو اغوا ہونے والا،بشام ولد مرد بخش بازیاب۔ 15 فروری گومازی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کی فائرنگ سے طاہر ولد دوست محمد ہلاک۔ تمپ سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والا منیر بازیاب۔ تربت سے زامران دشتک کے رہائشی امان ولد کہدہ سہراب فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہوا۔ 16 فروری خاران سے ۷ ماہ قبل فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والا غلام فرید کے گھر والوں کا انکے بازیابی کے لیے کوئٹہ میں پریس کانفرنس۔ تمپ فٹ بال میچ کے دوران فائرنگ محمد نعیم سکنہ ڈبوک ہلاک۔ 18 فروری بلوچستان میں دو سال دوران23805 افراد گرفتار اور552 ہلاک،سرکاری نیوز ڈیرہ بگٹی فورسز نے پیر کوہ میں آپریشن کر کے تین بھائیوں عیدہ،گندہ، اور روشن کو لاپتہ کر دیا۔ دشت گوادر فورسز کا آبادیوں پر حملے ،دشت جان محمد بازار سے فورسز نے براہیم مزار نامی شخص کو لاپتہ کر دیا۔ مشکے ڈیتھ اسکواڈ اور فورسز نے قمبر غلام محمد نامی شخص کو لاپتہ کر دیا۔ دشتی بازار سے فوج نے ثناہ اللہ نامی شخص کو لاپتہ کر دیا۔ 19 فروری جھاؤ کوہڈو فوج کی زمینی و فضائی آپریشن،سو سے زائد افراد حراست بعد لاپتہ کیے گئے۔ کوہڈو فوج نے ڈاکڑ واحد اور نیم بلوچ کے گھر لوٹ مار بعد نذر آتش کر دئیے۔ 20 فروری ڈیرہ بگٹی کے علاقے پشینی میں آپریشن خاتون سمیت چار افراد ہلاک۔جابحق ہونے والوں میں گدو بگٹی انکی اہلیہ و بیٹا شامل ہیں ۔۔جبکہ درجن سے زائد لاپتہ ،گھر نذر آتش۔ خیر آباد آپریشن دوران حمید نامی شخص بازیاب۔ بالیچہ فورسز نے دو بھائیوں سمیر اور عادل کو لاپتہ کر دیا۔ ڈیرہ بگٹی خواتین و بچوں کی اجتماعی قبر دریافت۔ 21 فروری جھاؤ دو لاشوں کی شناخت عمر اور موسی کے ناموں سے ہوئے۔ 22 فروری ڈیرہ بگٹی دو خواتین پانچ بچوں سمیت فوج کے ہاتھوں لاپتہ، مہر بی بی زوجہ علیہان اور شالی بی بی زوجہ عیدو کیچ ،تمپ پل آباد اور کلبر کے درمیانی پہاڑی علاقوں پر پاکستانی ہیلی کاپٹروں کی بمباری۔ 23 فروری مستونگ فورسز نے چار افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔ زہری ایک ہفتہ قبل لاپتہ عندالعزیز ولد بدل خان کی لاش کنویں سے برآمد۔ واشک ایک لاش برآمد،شناخت کے لیے ہسپتال منتقل۔ ڈیرہ بگٹی کے علاقے پشینی میں فوج کی فضائی و زمینی آپریشن چار ہلاک،درجنوں گھر نذر آتش،پانچ دنوں میں13 افراد شہید۔ پنجگور گرمکان کامریڈ اسدیوسف کے گھرفوج نے نذر آتش کر دئیے۔ 24 فروری دشت رفیق شہسوارپاکستانی فورسز کے ہاتھوں ہوئے۔ مند سے لاش برآمد شناخت نہ ہو سکی۔ اعجاز جتک کی لاش ڈیرہ مراد جمالی سے برآمد جسے فورسز نے پانچ روز قبل لاپتہ کیا تھا جو مستونگ کا رہائشی تھا۔ 25 فروری دشت فورسز کے ہاتھوں تین افراد حراست بعد لاپتہ۔ سبی کے کہی علاقوں میں آپریشن جاری۔ دشت کرود بند آپریشن اللہ بخش، غلام محمد، علی لاپتہ۔ مستونگ کے چار طالب علم پنجاب کالج سے لاپتہ۔ ڈیرہ بگٹہ پشینی آپریشن جاری ۵ لاشیں برآمد۔ تربت سے رحیم بخش ولد محمود لاپتہ۔ 27 فروری دشت بلنگور فوجی آپریشن غفور نامی شخص لاپتہ۔دشت کمبیل سے فوج نے محبوب نامی شخص کو اغوا کر لیا۔ جھاؤ دو تشدد زدہ لاشیں برآمد،دوست محمد اور مولا بخش سے شناخت ہوئے۔ پنجگور سے نذر علی نامی شخص کی لاش برآمد۔ حب رئیس گوٹھ فائرنگ جہانزیب نامی شخص ہلاک۔ کاہان فوجی آپریشن دوران چاکر شیرانی کا دس سالہ بچہ دم توڑ گیا۔ کاہان ساجی تل سے ایک تشدد زدہ جلی ہوئی لاش برآمد۔ 28 فروری کاہان سبز باڈی فوجی آپریشن دو خاتون شہید دو بچے اور دو خواتین شدید زخمی دشت فوجی آپریشن:پانچ افراد حراست بعد لاپتہ کیچ کے علاقے دشت پیر تنگ میں پاکستانی آرمی نے آبادی پر دھاوا بول کر خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ گھروں میں موجود تمام اشیاء کو لوٹنے کے بعد وہاں موجود چار موٹر سائیکلوں سمیت5 افراد اسماعیل ولد نذیر،غلام رسول ولد فضل، عبدالقادر،دل جان ولد مراد جان ،وارث ولد اسماعیل کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close