راولپنڈی: بیٹی کی جانب سے والد پر جنسی زیادتی اور حاملہ کر دینے کا الزام عائد

نیوز ڈٰسک (ریپبلکن نیوز) پاکستان میں حالیہ کچھ عرصے میں انسیسٹ (Incest) یعنی باپ بیٹی، بہن بھائی یا ماموں اور چچا جیسے خونی رشتوں کے درمیان جنسی تعلقات کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن اس جرم کی روک تھام کے لیے پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ خونی رشتوں کے درمیان جنسی تعلقات، اور خاص طور پر جن کی نوعیت زبردستی کی ہو، ان کے لیے الگ سے سزا تجویز کرنا ضروری ہے۔

حال ہی میں راولپنڈی میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا۔ 16 سالہ بیٹی کی طرف سے اپنے سگے والد کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر میں والد پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنی ہی بیٹی کے ساتھ مسلسل ایک سال تک جنسی زیادتی کرتا رہا جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔

صدر پولیس سٹیشن میں درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کا کہنا تھا ’گزشتہ سارا سال میرے والد نے میرے ساتھ مار پیٹ اور زنا بالجبر کیا۔ میں نے ان سے ایسا نہ کرنے کی منتیں کیں اور ان سے کہا کہ میں تھانے میں شکایت درج کروا دوں گی تو انھوں نے مجھے جان سے مار دینے کی دھمکی دی۔‘

تھانے میں یہ کیس تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 (زنا کے خلاف قانون) کے تحت رجسٹر کیا گیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button