خاران: خفیہ اداروں کے اہلکاروں کا چینی کونلسیٹ کے حملہ آور کے گھر پر چھاپہ، تمام خواتین اغوا کے بعد لاپتہ

علاقائی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع خاران سے رازق بلوچ کے گھر پر فورسز و خفیہ اداروں کے مسلسل چھاپے۔

تفصیلات  کے مطابق فورسز کے اہلکاروں نے خاران میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر کراچی میں چینی کونلسل خانے کے ایک حملہ آور رازق بلوچ کی والدہ اور دیگر خواتین کو حراست میں لینے کےبعد ایف سی کیمپ منتقل کردیا ۔

تفصیلات کے مطابق خاران شہر میں واقع رازق بلوچ کے گھر پر فورسز و خفیہ اداروں کے 23 نومبر کے بعد چھاپوں کا شروع ہونے والا سلسلہ آج تک بھی جاری رہا ۔

واضع رہے کہ 24 نومبرکو فورسز و خفیہ اداروں رازق بلوچ کے گھر پر چھاپہ مار کر رازق بلوچ کے بھائیوں کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پہ منتقل کردیا تھا جن میں رازق بلوچ کے دو بھائی خواستی خان اور حاجی محمد اسلم تھے۔

رازق بلوچ کے ایک اور بھائی محمد وسیم کو بلوچستان کے ضلع واشک سے فورسز نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پہ منتقل کردیا تھا ، جو کہ تاحال لاپتہ ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ تفتیش کے نام پر عورتوں کو کیمپ منتقل کیا گیا اور بعد میں چھوڑ دیئے گئے۔ جبکہ اگلے روز پھر ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے چھاپہ مار کر عورتوں کو زبردستی کیمپ منتقل کر دیا ہے، چونکہ گھر کے تمام مرد حضرات کو پہلے ہی سے فورسز کے ہاتھوں اغواء ہوچکے ہیں اب گھر میں صرف عورتیں اور بچے تھے جن کو ریاستی اداروں نے حراست میں لے لیا ہے۔

واضح رہے رزاق بلوچ 23 نومبر کو کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ کرنے والے تین حملہ آوروں میں سے ایک تھا۔

علاقائی زرائع کا کہنا ہے کہ رزاق بلوچ کے بھائی محمد اسلم و دیگر لواحقین نے چار سال قبل ہی اخباری بیان کے ذریعے  رازق سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close