لشکر طیبہ نے نوجوانوں کو فلاحی کاموں کی طرف راغب کیا ہے۔ پرویز مشرف

لندن (ریپبلکن نیوز)پاکستان کےسابق فوجی ڈکٹیٹر اورصدر جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ ایک ایسی سیاسی پارٹی تشکیل دینے جا رہا ہوں جو ملک میں لسانی اور فرقہ ورانہ تقسیم کو کم کرے گی۔ 2018 کے انتخابات لڑنے کے لیے جون 2017 تک جماعت تشکیل دے دی جائے گی۔ انٹر پریس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویز مشرف نے بتایا کہ اس وقت تمام پارٹیز لسانی بنیادوں پر بنی ہوئی ہیں جو وفاق کے لیے صحیح نہیں۔ داخلی اور خارجی چیلینجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی موجودہ لیڈرشپ نا اہل ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں عوام کو متحد کر کے ایک بہتر لیڈر شپ دینا چاہتا ہوں۔ پرویز مشرف نے کہا کہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے خلاف پاکستان کی عدالتوں میں پیش ہونے کے لیے تیار ہوں لیکن مجھے آزادی سے رہنے دیا جائے۔ متحدہ یا پی ایس پی کی ممکنہ صدارت کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبروں کو رد کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ متحدہ یا پی ایس پی پارٹی اردو اسپیکنگ کمیونٹی تک محدود ہیں میں جو جماعت بنانے جا رہا ہوں اس میں اردو بولنے والوں کا بھی اہم کردار ہو گا۔ سابق صدر نے کہا کہ مدارس کو نظام تعلیم میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ لشکر طیبہ نے نوجوانوں کو فلاحی کاموں کی طرف راغب کیا ہے۔ پرویز مشرف نے اس بات کا اعتراف کیا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو ہٹانا اور این آر او کے زریعے کرپٹ افراد کو عام معافی دینا ان کی غلطی تھی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close