ماہ نومبر میں بلوچستان بھر میں 110لوگوں کو شہید کیا گیا۔بی این ایم

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ نے بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تازہ صورتحال نومبر کے مہینے کی تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ نومبر کے مہینے میں فورسز نے 119آپریشنز میں384 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا ،جبکہ اس مہینے میں110 لاشیں ملیں ،52 کو نورانی دھماکہ میں شہید کیا گیا۔اور 28 بلوچ فرزندوں کو فورسز نے شہید کیا جبکہ 30کے ہلاکت کی محرکات سامنے نہ آ سکے۔ 68 گھر جلائے گئے سینکڑوں مال مویشیوں کو غائب کرنے کے ساتھ درجنوں گھروں میں لوٹ مار کی گئی۔جبکہ فورسز کی تشدد خانوں سے تیرہ بازیاب ہوئے اور چالیس افراد دشت سے بازیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کے مہینے میں صرف ضلع کیچ کے علاقے دشت سے فورسز نے ایک سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا جن میں سے چالیس کو تشدد کے بعد چھوڑ دیا گیا باقی ابھی تک لاپتہ ہیں۔مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے اس تفصیلی رپورٹ میں تمام اعداد و شمارپارٹی کارکناں کے ذرائع، مقامی لوگوں ، نیوز ایجنسیز این این آئی،آن لائن اور مقامی اخبارات انتخاب، آزادی ، جنگ کوئٹہ ، توار اور دیگر چھوٹے اخبارات میں شائع شدہ بیانات و رپورٹ میں اکھٹے کئے گئے ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اور خود پاکستانی فورسز کے بیانات بھی شواہد کے طور پر موجود ہیں جن میں وہ آپریشن کے ساتھ درجنوں افراد کے گرفتاری کا دعویٰ کر چکے ہیں مگر کسی کے نام و تفصیلات کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا گیا۔ماہ نومبر میں ریاستی فورسز اور ان کے تشکیل کردہ مذہبی ڈیتھ اسکواڈ و گروہوں کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کی تفصیلات درج ذیل ہے۔

یکم نومبر
گیارہ جولائی کو اغوا ہونے والے بالیچہ تمپ ضلع کیچ کے یاسر ولد جان محمد، انکل غنی ولد قادر بخش بازیاب ہوگئے ۔
تین مہینے پہلے دشت بازار تربت سے اغوا ہوانے والا اسلم ولد مجید کو فوج نے چھوڑ دیا۔
بارہ اگست کو آپسر تربت سے اغوا ہونے والے دلیپ ولد پیر محمد کو فوج نے چھوڑ دیا۔
دشت میں جاری آپریشن کے دوران 7افراد کوگرفتاری بعد لاپتہ کیا گیا جن کی شناخت امیر بخش ولد شے محمد، نبی بخش ولد علی محمد، محمد جان ولد مولابخش، محمد رحیم ولد شے محمد، ملا نیاز ولد مجید اور شوکت ولد اکبر کے ناموں کی گئی ۔
بلیدہ فائرنگ سے حاصل ولد حاجی رحیم نامی شخص ہلاک ہوا۔
لورلائی فائرنگ سے علی نامی شخص زخمی ہوا۔
گوادر سے دشت کا رہائشی حمل ولد رسول بخش لاپتہ کئے گئے۔
تربت دشت میں زمینی و فضائی آپریشن جاری رہی۔

2 نومبر
ببر شور پسنی ضلع گوادر سے دلبر ولد دلپل اور عطاء اللہ ولد غلام حسین کو فوج نے اغوا کیا۔
جلب ولد لعل بخش کو کلانچ ضلع گوادر سے اغوا کیا گیا۔
تیرہ اگست کو جان محمد بازار دشت ضلع کیچ سے اغوا ہونے والا چودہ سالہ ظفر ولد عبدالرحمان کی لاش کو فوج نے گوادر ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیا۔ پچیس مارچ 2015 کو کوئٹہ سے فوج کے ہاتھوں اغوا ہونے والا مشکے کے رہائشی صلاح الدین ولد عبدالصمد ، وارڈ نمبر چار پسنی کے رہائشی ساجد ولد کریم بخش ، جس کو فوج نے اکتیس جنوری 2013 کو اغوا کیا تھا، کی لاش گوادر ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کی۔ چار اگست 2014 کو اغوا ہونے والے صابر ولد محمد کی لاش کو فوج نے ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیا۔
دشت ڈیرہ بگٹی میں آپریشن جاری رہی،متعدد افرادکو لاپتہ درجنوں گھر نذر آتش کئے گئے۔
ماشکیل میں ایرانی فورسز کی فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوگئے۔

3 نومبر
بالگتر ضلع پنجگور کے رہائشی صفیان ولد ابراہیم کو فوج نے دوران آپریشن ہلاک کیاجو بی این ایم کا ممبر تھا۔
پسنی سے دو افرادکو حراست بعد لاپتہ کیا گیا جن کی شناخت نہ ہوسکی۔
دشت گرد نواح میں پاکستانی فوج کی فضائی و زمینی آپریشن جاری رہی ۔

4 نومبر
ضلع نصیر آباد میںآپریشن کے دوران محمود ولد بدا بگٹی، منظور ولد بند علی بگٹی، ذلا ولد ہیر دین بگٹی، حمید ولد ولان بگٹی، عثمان ولد کلیری بگٹی، گمو ولد ہیبو بگٹی، جلال ولد ہیبو بگٹی، احمد علی ولد اناری بگٹی، محمدعلی ولد اناری بگٹی، قمبر ولد لعل خان بگٹی، ارباب ولد حسو بگٹی، رنگی ولد بچا بگٹی، حضور ولد امام دین بگٹی، دلدار ولد سمیل بگٹی، برنجو ولد صوالی بگٹی افراد کو حراست بعدلاپتہ کیا گیا۔
سکگ کولواہ ضلع آواران سے بشیر ولد رسول بخش شخص کو اغوا کیا گیا ۔
خضدار کے رہائشی لاپتہ عبدالجبار کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔
کیچ آواران میں آپریشن جاری رہی، متعدد افراد لاپتہ کئے گئے۔
گیشکوراورکولواہ میں فورسز نے آپریشن کرکے گھر گھر تلاشیلی ،خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
آواران کلر میں پاکستانی فوج نے آبادی پر حملہ کرکے زاہدو کچکول نامی دو افراد کو شہید کیا جبکہبچے سمیت دو افرادد زخمی ہوگئے۔

5 نومبر
مری ٹاؤن بولان ضلع بولان کے رہائشی ظہور مری جسے اسی سال چار اکتوبر کو فوج نے اغوا کیا تھا کو جعلی مقابلے میں قتل کر دیاگیا۔ اس میں دو اور بلوچوں کو فوج نے قتل کیا جن کے نام معلوم نہیں ہو سکے۔
خاران میں فورسز نے آبادی پر گولہ بھاری کرکے ایک گھر و گاڑی کو نقصان پہنچایا۔
لہڑی میں موٹر سائیکل باردو سرنگ کی زد میں آیاجس سے ایک شخص ہلاک ہوا۔

6 نومبر
آب گم میں فورسزنے آپریشن کرکے تین افراد کوقتل کردیا۔
دالبندین سے ایک لاش برآمد ہوئی جسکی شناخت شوکت نوتیزئی کے نام سے ہوگئی۔
پنجگورپروم میں فائرنگ سے اصغراورفریدنامی افرادزخمی ہوگئے۔

7 نومبر
جیونی ضلع گوادر سے میرجان ولد شہدادکو لاپتہ کیا گیا۔
مالار مشکے ضلع آواران سے عصا ولد یار محمد کو لاپتہ کیا گیا۔
دشت کے علاقے بالنگور میں فورسزنے آپریشن کرکے ماسٹر عباس نامی شخص کو لاپتہ کیا۔
مستونگ،کاہان، مچھ میں فورسزنے آپریشن کرکے7 افرادکو لاپتہ کیا۔
مند بلو سے داد شاہ نامی شخص کو اسکے بیٹے سمیت نامعلوم افراد نے لاپتہ کر دیا۔
جھاؤ میں فورسز اور مذہبی شدت پسندوں نے 30افراد کو لاپتہ کیا جبکہ25 گھر جلا دئیے۔
کولواہ سے لاپتہ تین افراد بازیاب ہوگئے جن کی شناختبشیر احمد ولد رسول بخش،5 اکتوبرکو فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہاشم ولد جاڑو، اور حسن کریم بخش تربت سے بازیاب ہوگئے۔انہی افراد کے ساتھ لاپتہ ناگمان تاحال فورسز کی حراست میں ہے۔

8 نومبر
شہرک کیچ سے نعمت ولد امام بخش نامی شخص کوفوج نے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔
مچی دشت ضلع کیچ سے صابر ولد جامی نامی شخص کواغوا کیا گیا۔
اکتوبر 29 کو بل نگور دشت سے اغوا ہونے والا محبوب ولد غلام نگوری کو فوج نے غیر قانونی حراست کے بعد چھوڑ دیا۔

9 نومبر
ڈلسر مند ضلع کیچ سے عیسیٰ ولد عبدالرحمان نامی شخص کو اغوا کیاگیا۔
کلی صالح محمد، وڈھ ضلع خضدار سے جاوید خان ولد فیض محمد مینگل، نعمت اللہ لانگو، اور جاوید لانگو ولد حسن خان نامی افراد کو حراست بعدلاپتہ کیاگیا۔
ہوشاپ سے ظریف ولد محمدچنگیز نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔
ڈیرہ بگٹی،جھاؤ میں فورسز نے آپریشنکر کے متعدد افراد کوحراست بعد لاپتہ کیا جبکہ کئی گھر نذر آتش کئے گئے۔
گوادر نیوٹاؤن میں فائرنگ سے زبیر نامی پرجیکٹ آفیسرکو ہلاک کیا گیا۔
10 نومبر
حفیظ ولد ملا محمدنامی شخص کوڈنک کیچ سے حراست بعد لاپتہ کیاگیا۔
دشت کے علاقے مٹنگ سے فورسز نے ماجد ولد عبدالرشید کوحراست بعد لاپتہ کیا۔
گوہرگ دشت ضلع کیچ سے نیاز ولد محمد حیات اوردشت جان محمد بازار سے سراج ولد حاصل نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کیا۔
فورسز نے دشت کے علاقے جاں محمد بازار سے راشد ولد حاجی ابراہیم، نثارولد دادشاہ، عبید ولد عبدالصمد اور شے محمد کوحراست بعد لاپتہ کردیا۔
11 نومبر
تنک کولواہ ضلع کیچ فوج نے آپریشن کرکے حامد ولد زنگی، اکرم ولد حامد، اختر ولد حامد، شاہ دوست ولد دل مراد، جلال ولد دل مراد ، بھائیان ولد دل مراد، حمید ولد گل محمد، حمل ولد زباد، پٹھان ولد بجار، طارق ولد دین محمد، نبی بخش ولد محمد، رسول بخش ولد محمد، غوث بخش ولد محمد، اسد ولد چاکر، گنج بخش ولد حیدر، بدل ولد دین محمد، نثار ولد واسطو، واسطو ولد اسد، شریف ولد شفیع محمد، منظور ولد شفیع محمد، نادل ولد دل مراد، عادل ولد دل مراد، سعید ولد علی بخش، عصاولد نور بخش، ناظر ولد نور بخش، رستم ولد حسن ، امان ولد فقیر، پرویز ولد فقیرنامی افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔
جت بازار دشت سے عبدالمجید ولد کتب اور مسلم ولد عبدالمجید نامی افراد کو حراست بعدلاپتہ کیا۔
فورسز کی فائرنگ سے قمر الدین بلوچ نامی شخص ہلاک ہوا۔
قلات،کوئٹہ میں فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔

12 نومبر
ڈیرہ بگٹی ،ہوشاب میں فورسز نے آپریشن کرکے 10فرادلاپتہ کئے جن میں8ہوشاپ سے جبکہ2 ڈیرہ بگٹیسے لاپتہ کئے گئے۔
جھاؤ کوڈو میں فائرنگ سے الہیٰ بخش نامی شخص زخمی ہوگئے۔
خضدارشاہ نورانی میں دھماکے سے52 افراد ہلاک ہوگئے۔

13 نومبر
گومازئی تمپ سے معراج ولد عبداللہ، اور جاوید ولد عبداللہ نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔
دشت باہوٹ سے دودا ولد مراد محمد، اور شعیب ولد مراد محمد، دشت درچکو سے خالد ولد لعل بخش، عارف ولد وشدل ، ناصر ولد نظر محمد، صابر ولد صوالی ، شعیب ولد گزی ، سعید ولد گزی ،وحید ولد کمال نامی افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔

14 نومبر
گوہرگ حسین بازار دشت سے زاہد ولد رحمت، بل نگور دشت سے چاکر ولد پھلین ، دو شمبے ولد بہادر، سمیر ولد عبدالمجید، حمید ولد ابراہیم نامی افرادفوجی آپریشن میں حراست میں لیکر لاپتہ کئے گئے۔
کوئٹہ میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔

15 نومبر
مندو کہوراور شیرانی ضلع ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشنمیں گھروں کو جلایا گیااور مال مویشی ساتھ لے گئے۔
دز پروم ضلع پنجگور میں فوجی آپریشنمیں حاجی نور بخش، حاجی عبدالسلام، حاجی براہیم، عبدالغفور اور داؤدنامی افراد کے گھرجلائے گئے۔
پیراندر آواران سے باہوٹ اور لیاقت ولد محمد نوراور ماشی آواران سے عطاء اللہ اغوا نامی افراد حراست بعد لاپتہ کئے گئے۔
سکگ کولواہ ضلع کیچ کے رہائشی نذیر احمد ولد ہونک نامی شخص کوکراچی ایئر پورٹ سیحفورسز نے راست میں لیکر لاپتہ کیا گیا۔
کوہلو ،ڈیرہ بگٹی میں فورسز نے آپریشن کرکے کئی گھر نذر آتش کئے جبکہ متعدد افراد کوحراست بعدلاپتہ کیا گیا۔

16 نومبر
مستونگ دشت میں ایک شخص کی درخت سے لٹکی لاش برآمد ہوئی۔

17 نومبر
آواران آہری، کدوری، مزار گوٹھ میں فوجی آپریشنسے کئی لوگ لاپتہ کئے گئے جن میں اللہ بخش، خیر بخش، شبیر، امتیاز، مراد بخش، شاہ میر، دلاور اور اعظم کے نام شامل ہیں ۔
ہوشاپ ضلع کیچ سے جمعہ ولد دل مراد نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔
اکتوبر 14 کو کوہاڑ تمپ سے اغوا ہونے والا سعید ولد مجید کو فوج نے چھوڑ دیا۔
اکتوبر 19 کو پل آباد تمپ سے اغوا ہونے والا، اصغر ولد نواب کو فوج نے چھوڑ دیا۔
بلیدہ میں فورسز نے آپریشن کرکے گھر گھر تلاشی لی۔
ساکران میں فورسز نے آپریشن کرکے 2 افرادکو لاپتہ کیا ۔
ڈیرہ بگٹی،سوئی نادرن گیس کمپنی کی جانب سے پچاس گھر مسمارکئے گئے،عوامنے ردعمل پرشدید احتجاج کیا۔

18 نومبر
ڈیرہ بگٹی میں فورسز نے آپریشن کے دوران متعدد افراد لاپتہ کئے۔
پتھر، پتھر نالہ، ڈوئی وڈ ضلع ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن دوران گھروں کو جلایا گیااور مال مویشی اپنے ساتھ لے گئے۔چار مرد اور ایک خواتین کو قتل کیا گیا۔
دشت کرم شاہ بازار ضلع کیچ سے نسیم ولد کریم بخش، عبدالکریم ولد کرم شاہ، محمد ولد کرم شاہ نامی افراد کوحراست بعد لاپتہ کیاگیا۔
دشت ہور ضلع کیچ سے فوج نے آپریشن کرکے بدل ولد سیاکی، وحید ولد سیاکی، حبیب ولد فقیر، اقبال ولد حسین ، نصیر ولد جان محمد، سمیر ولد جان محمد، حمزہ ولد شہداد، الہی ولد مراد جان ، نسیم ولد سخی داد، حلیم ولد سخی داد، نسیم ولد صالح محمد، عزیز ولد کریم بخش، سلمان ولد رشید، شریف ولد دل مراد، نیاز ولد ابراہیم ، باسط ولد ابراہیم ، ریاض ولد داد محمد، فضل ولد داد محمد، ندیم ولد عبدالکریم ، مجید ولد خداد ، وحید ولد ابراہیم ، ستار ولد عبدالرحمان ، حامد ولد سلیم ، شریف ولد فقیر، لعل جان ولد احمد، اکرم ولد دوست محمد نامی افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔
کروس دشت ضلع کیچ سے آپریشن دوران عبدالکریم ولد غلام قادرنامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کا گیا۔
دشت جان محمد بازارمیں فوج نے آپریشن کرکے نور محمد ولد اقبال ، لیاقت ولد شہداد، ثنا اللہ ولد سید محمد، شاہو ولد محمد، جابر ولد رشیدنامی افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا۔
مارچ 31 کو تمپ سے اغوا ہونے والا ماسٹر مسعود ولد ابراہیم جلیس نگوری کو فوج نے چھوڑ دیا۔
بارکھان میں دو گرہوں میں تصادم سے ایک شخص ہلاک ہوا۔
قلعہ عبداللہ سے خاتون کی لاش برآمد ہوئی۔

19 نومبر
حب میں فورسز نے دو افراد کو لاپتہ کردیا۔
گزشتہ روز فورسز نے دشت جانمحمد بازار میں آپریشن کے دوران 10افراد لاپتہ کردئیے۔
پنجگور کے علاقے چتکان پل سے فورسز نے ظفیر ولد حاجی محمد سال نامی شخص کو اغواء کرلیاجو کہ پروم کا رہائشی ہے۔
نصیر آباد سے ایک بزرگ کی لاش برآمدہوئی۔
دز پروم ضلع پنجگور سے زبیر ولد حاجی محمد صالح نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔
گوک مند ضلع کیچ میں اسکول پر فوج نے دھاوابول کر اسکول ہیڈماسٹر منیر بلوچ اور اساتذہ اسیل ، اختر ، رزاق، رشید، اور ملا مالککو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا۔
ڈبک ضلع کیچ سے شعیب ولد سبزل نامی شخص کوحراست بعد لاپتہ کیا گیا۔
ڈیرہ بگٹی میں فورسزنے زمینی وفضائی آپریشن کرکے نوتالہ ٹونی،وڈھ گرد نواح میں درجنوں گھر نذر آتش کئے جبکہ خاتون سمیت تین افراد کو شہیدکیاجن کی شناختکلیری بگٹی، گل بخت زوجہ کلہری بگٹی،جامو بگٹی کے ناموں سے کی گئی۔
ڈیرہ بگٹی میں فورسز نے دو افراد دللہ بگٹی عرف شو چراگ،نور خان بگٹی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
مشکے میں ڈیتھ اسکواڈ نے شیرگی سے اسلام ولد باران نامی شخص کو اغوا کر لیا۔
تحصیل بیسمہ کے علاقے راغے بلوچ آباد سے ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں اغوا ہونے والے نیاز ولد اسحاق کی لاش برآمد ہوئی۔

20 نومبر
مچی دشت ضلع کیچ سے مجید ولد عثمان جبکہ دشت گرکانی میتگ سے مراد جان ولد اسماعیل نامی افراد کو حراست بعدلاپتہ کیا گیا۔
مند بلو ضلع کیچ میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کی فائرنگ سے احمد ولد مراد اور گوبرد مند کے رہائشی داد محمد ولد شہداد شہید ہوا۔
تربت بلنگور میں فورسز نے ایک ہفتہ دوران16 فوجی آپریشن میں60 افرادکو حراست بعد لاپتہ کیا۔
ضلع واشک کے علاقے سکن چاہی میں مسلح دفاع کی فائرنگ سے محمد حسین عرف ہیبت شہیداور انکا ایک ساتھی زخمی ہوا۔
دشت کے علاقوں لاشاپ، کُلسر، کپکپار سے چالیس سے زائد افرادکو فورسز نے حراست بعد لاپتہ کیا۔

21 نومبر
اکتوبر 19 کو گومازئی تمپ سے اغوا ہونے والا لیاقت ولد نذر محمد کو فوج نے چھوڑ دیا ۔
قلات وکوئٹہ میں کومبنگ آپریشن سے متعدد افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔

22 نومبر
فورسزنے دشت میں آپریشنکرکے متعددافراد کو حراست بعد لاپتہ کیا۔
جھاؤ ضلع آواران سے لعل جان ولد ہدل اور حلیف ولد نور بخش نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔
آبسر کہدہ یوسف محلہ میں جمیل پٹواری جبکہ کوئٹہ شہباز ٹاؤن میں پیر محمد نامی دو افرادکوہلاک کیا گیا۔

23 نومبر
یکم اگست کو سکگ کولواہ سے اغوا کئے گئے نعمت اللہ ولد محمود خان کو فوج نے چھوڑ دیا۔
دشت کمبیل میں فورسزنے آپریشن کرکے گھر گھر تلاشی لی اور لوٹ مارکی۔
آواران کے علاقے پیرا ندرمیں فوجی آپریشن سے کئی گھر نذر آتش کئے گئے۔

24 نومبر
ڈیرہ بگٹی میں فائرنگ سے میر حسن اور حیات نامی دو افراد ہلاک ہوئے۔
دشت کے علاقے شے سیچی میں آپریشن کے دوران خواتین پر تشددکیا گیاجبکہ متعددافراد کو لاپتہ کیاگیا۔
شے سیچی دشت ضلع کیچ سے بابل ولد یعقوب اور دشت کرکک سے رفیق ولد شیر محمدنامی دو افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔

25نومبر
کوئٹہ میں فائرنگ سے ڈاکٹر نیاز ولد گل محمد نامی شخص کوہلاک کیا گیا۔
ڈیرہ مراد جمالی میں دو لاشیں برآمد ہوئیں۔

26نومبر
دشت کے علاقے ھور میں آپریشن سے متعدد افراد کو حراست بعدلاپتہ کیا گیا۔
شال کے علاقے لکپاس میں فائرنگ سے واحد نامی شخص کوہلاک کیاگیا۔
دشت کے علاقے ھور میں آپریشنسے ایک شخص لاپتہ ہوا۔

27نومبر
شال کے علاقے ہزار گنجی سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی۔
تربت سے پیدراک کے رہائشی محبوب ولد غلام کو حراست بعدلاپتہ کیا گیا۔
شال کے علاقے کنارک سے دو لاشیں برآمدہوئیں،جن کی شناخت نہ ہوسکی۔
نگور کے علاقے گنجی میں آپریشن کے دوران ایک بھائی کو قتل جبکہ 2کو فورسز نیحراست بعد لاپتہ کردیاجن کی شناخت فیض محمد ولد شیر محمد، لال محمد اور نذر محمدکے ناموں سے کی گئی۔
بولان اور مستونگ میں فورسزنے آپریشن کرکے لوٹ مارکے بعد کئی گھر نذر آتش کردیئے۔

28نومبر
نال اور ڈیرہ مراد جمالی میں فائرنگ سے2 افراد ہلاک جبکہاوستہ محمد سے لاش برآمد کی گئی۔
ڈیرہ بگٹی کے علاقوں سیاہ آف اور سنگسیلہ میں آپریشنسے ایک شخص شہید جبکہ خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوگئیاور2افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔

30نومبر
نوشکی، قلات اور منگچر کے علاقوں میں آپریشنسے متعدد افرادکو حراست بعد لاپتہ کیا گیاجبکہپ5 افراد کو فورسز نے سبی کے علاقے تلی میں قتل کردیا۔
پنجگور اور ڈیرہ مراد جمالی سے تین افرادکو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔
سبی میں فورسز نے 5افراد کو دوران حراست شہید کر دیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker