پنجگور صحافیوں کا اجلاس،پریس کلب بند، صحافتی سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا علان،

پنجگور(ریپبلکن نیوز) بلوچستان میں میڈیا کے بائیکاٹ کے حوالے سے نیشنل پریس کلب پنجگور رجسٹرڈ کا جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت برکت مری کے منعقد ہوا جس میں ادارے کے تمام ممبران صحافیوں نے شرکت کی اور اپنے اپنے تجاویز اور آراءدیئے ، ا س موقع پر سیکرٹری جنرل یاسین بلیدی نے صورتحال کا تجزیاتی رپورٹ پیش کی ،تمام تجاویز اور آرا رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے جنرل باڈی نے نیشنل پریس کلب پنجگور کو تالا اور تمام صحافتی سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک بند رکھنا کا فیصلہ کیا گیا اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان کا حالات صحافیوں کیلئے دن بدن دشوار ہوتے جارہے ہیں 24اکتوبر میں مختلف مسلح علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے میڈیا بائی کاٹ مہم اور بقول انکے مبینہ نظرانداز کے انہوںنے میڈیا پہ الزام عائد کرتےہوئے کہاہے کہ کنٹرولڈ میڈیا سرکاری پروگرام کی تشہری تک محدود ہے میڈیا نے بلوچستان کے حالات و اقعات پر چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے اس بنا پر بلوچستان کے عوام کو ایسے کنٹرولڈ میڈیا کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،کالعدم بلوچ علیحدگی پسند مسلح تنظیموں کی مختلف سوشل میڈیا اور اخبارات میں 22اکتوبر سے میڈیا کی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا بعدمیں صحافیوں کی اسرار پر انہوںنے دو دن مذید بڑھائے 24اکتوبر 2017کو انہوںنے باقائدہ عملی اقدام شروع کرنے کا اعلان کیا جس کی وجہ سے 23اکتوبر کو پنجگور میں اخبارات کی ترسل کی عمل کو روک دیا گیا اور پنجگور میں 23اکتوبر سے آج بروز(جمعہ) 3/11/2017بند ہے اور 24اکتوبر سے پنجگور کے تمام اخباری دفاتر نیوزایجنسیاں بند ہوگئے جن میں پاکستان کے بڑے بڑے اخبارات فروخت ہوتے تھے اور ہاکروں نے باقائدہ اخبار بیجنے سے انکار کردیا ،بلوچستان کے مختلف علاقوں میں میڈیا ہاوسسز پر حملے کے بعد نیشنل پریس کلب پنجگور کے تمام صحافتی سرگرمیاں محدود ہوگئی،بلوچستان کے حالات سال بہ سال بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اب تک50سے زیادہ صحافی بلوچستان میں قتل ہوچکے ہیں حکومتی اور اسٹیٹ کی جانب سے صحافیوں کے جان ومال کی تحفظ کے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور جارہے ہیں جس سے صحافیوں کو پر اعتماد ہو،اسٹیٹ ایکٹر اور نن اسٹیٹ ایکٹرز کی آپس کی لڑائیاں تو ہوتی رہتی ہیں جب ان کے درمیان میڈیا آجاتا ہے تو انکے درمیان کے لڑائی ختم میڈیا کو نشانہ بنانے میں انکاالائنس بن جاتی ہے اور انکی الائنس سے بے چارے صحافی بے وجہ شہید ہوجاتے ہیں جن کاذمہ دار اسٹیٹ کی پالیسیاں ہوتی ہیں ، مشرف دور حکومت صحافیوں کا خطرناک ترین دور میں سے ایک دور تھا جن کے دور میں بلوچستان کے چودہ صحافی لقما اجل ہوگئے اور انکے بیوی بچے تاحال حکومتی عدم توجہی کی شکار ہیں ،دنیا بھر میں 930صحافی قتل ہوچکے ہیں اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک نے تمام ممالک میں سے زیادہ صحافیوں کیلئے پاکستان کو خطرناک ترین ممالک قرار دیا ہے ،ملکی سب سے مضبوط سیکورٹی زون اسلام آبادمیں گزشتہ پانچ ماہ میں محفو ظ نہ رہا جس میں پانچ صحافیوں پر حملے ہوئے ہیں،موجودہ حالات میں مسلح علیحدیگی پسند تنظیموں کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پریس کلب بند ہونے شروع ہوچکے لیکن صحافتی اداروں کی جانب سے تاحال صحافیوں کی حال پرسی تک نہیں کی گئی کہ کس طرح اپنی زندگی کو تحفظ دے رہے ہیںصحافتی سرگرمیاں کررہے ہیں اور کیا کرنا چائےے ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ صوبے میں ایک کشت خون کا طوفان اور میڈیا ہاوسسز اور صحافیوں کو شدید تباہی کا سامنا ہے لیکن انکے درمیان مختلف اضلاع میں تاحال کوئی رابطہ نہ ہوسکی ہے، میڈیامالکان اس احساس مسلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں اور نہ اپنے ادارے سے منسلک صحافیوں کو اعتماد میں لے رہے ہیں اس وقت و حالات میں صحافیوں کی بلند وبانگ دعوے کرنے والے مختلف صحافتی تنظمیوں کی جانب سے کوئی متفقہ لائحہ عمل سامنے نہیں جو باعث اطمینان ہوںتاکہ انہیں احساس علاقوں کے صحافیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے لیکن انکی خاموشیاں اور صحافیوں کی خواہ مخواہ شہادتیں عنوان منتظر ہیں،صحافیوں سمیت ملک کے تمام افراد کی جان ومال کی تحفظ اسٹیٹ کی ذمہ داری بنتی ہے، وہ ذمہ داری نظر نہیں آتی ہے ،جس سیکورٹی کے دعوے کئے جاتے ہیں انکا انداز کوئٹہ میں روزنامہ قدرت کے کاپیاں جلانے اور حب، نوشکی ،تربت اور مختلف علاقوں میں بدستور دھمکیوں سے لگایا جاسکتا ہے ،بند وق اور قلم کا رشتہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک طالب علم کو بندوق کے زور پر تعلیم دی جائے صحافت آزاد فضا میں اڑنے والا پرندہ کی مانند ہے لیکن ان کے پروں پر بندوق رکھ کر انہیں آزاد فضا میں اڑانے کی باتیں سمجھ سے بالاتر ہیں،بلوچستان سمیت ملک بھر میں
شعبہ صحافت سے منسلک بہت سے شعبہ جات پہ کام ملکی صورتحال کی وجہ سے نہ ہو پا رہی ہیں جن میں سب سے خطرناک ترین شعبہ تحقیقاتی شعبہ صحافت ہے ملک کے آزادنہ صورتحال کی پیش نظر سے نہیں ہورہاہے باقی رہی آخری درجہ کا
صحافت جس میں عوامی اجتماعی مسائل کو اجاگرکرنا ایک بہتر معاشرہ بنانے کا ہے لیکن انہیں ملکی سلامتی اداروں کی پالیسیوں کی وجہ سے ختم ہونے جارہاہے ، صوبے کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف اطراف سے پریشرکو دیکھتے ہوئے نیشنل پریس کلب پنجگور (رجسٹرڈ)پریس کلب کو تالا لگانے اور تمام صحافتی سرگرمیوں کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا اعلان فیصلہ کیاگیا،مسلے کے حل تک نیشنل پریس کلب کی جانب سے تمام صحافتی سرگرمیاں بند رہیں گے نیشنل پریس کلب کے صحافیوں کے علاوہ دیگر کی ذمہ دار ادارہ اور انکے ممبران نہیں ہونگے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close